اختر مینگل اور بلوچستان حکومت : دونوں بند گلی میں کیوں پھنس گے ؟

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں دو ہفتوں سے دھرنا دے کر بیٹھے سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اختر مینگل اور بلوچستان حکومت دونوں ہی بند گلی میں پھنس چکے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اگر سردار اختر مینگل اپنے مطالبات منوائے بغیر دھرنا ختم کرتے ہیں تو انہیں اسکا سیاسی نقصان ہوگا، دوسری جانب اگر حکومت اپنی ضد پر اڑی رہی تو صوبے کی اہم قومی شاہراہیں بند رہیں گی اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے عوامی غصہ بڑھ سکتا ہے۔ مستونگ میں دھرنا دیے ہوئے مظاہرین کا مرکزی مطالبہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کی رہائی ہے، لہٰذا اس وقت دونوں فریقین کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر بلوچستان ہائی کورٹ اس کو ضمانت پر رہا کر دے۔
جعفر ایکسپریس پر حملے اور مسافروں کے قتل عام کے بعد سے بلوچستان ایک بار پھر سیاسی کشمکش اور بے یقینی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل گذشتہ دو ہفتوں سے مستونگ میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ وہ ایک ہی مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر گرفتار خواتین کو رہا کیا جائے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت بھی سخت موقف اپنائے ہوئے ہے اور ماہ رنگ بلوچ کو رہا کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ لہٰذا سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے، تاہم نیشنل پارٹی کی قیادت اس کشیدہ ماحول میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گذشتہ ہفتے نواز شریف سے لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ملاقات کی اور بلوچستان کے معاملات میں مفاہمانہ کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ نواز شریف نے اس پر امادگی کا اظہار تو کیا ہے لیکن ابھی وہ بیرون ملک روانہ ہو گئے ہیں جہاں سے ان کی واپسی دو ہفتوں بعد ہی ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نواز شریف کردار اگر بلوچستان کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں کوئی کردار ادا کریں تو معاملات میں بہتری آ سکتی ہے اور حکومت اور سردار اختر مینگل کے درمیان جاری سیاسی کشمکش کم ہو سکتی ہے۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سینیٹر جان محمد بلیدی کے مطابق یہ ملاقات اگرچہ پہلے سے طے شدہ تھی تاہم اس میں ہم نے بلوچستان کی موجودہ گھمبیر صورتحال، نوجوانوں اور خواتین کی گرفتاریوں، اختر مینگل کے لانگ مارچ اور دھرنے کے پس منظر سمیت تمام حقائق نواز شریف کے سامنے رکھے۔ اردونیوز سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے اس ملاقات کے دوران اپنی مرکزی ٹیم کو بھی شامل کیا جس میں سپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزرائے دفاع، منصوبہ بندی، قانون اور خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر اہم شخصیات شریک تھیں۔
اس ملاقات میں وزیر اعظم کے سوا ن لیگ کی پوری مرکزی قیادت مموجود تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نواز شریف نے اسے کتنی اہمیت دی۔ جان بلیدی کے مطابق بلوچوں کے وفد نے نواز شریف کو بتایا کہ بلوچستان کو طاقت سے کنٹرول کرنے کی باتیں ٹھیک نہیں۔ اس سے صوبے کی صورتحال مزید گھمبیر ہوگی۔ ان کے بقول ’ہم نے کہا کہ بلوچستان میں قومی مفاہمت کی پالیسی اپنانی ہوگی، بات چیت کا دروازہ کھولنا ہوگا اور اس کے لیے درکار اعتماد سازی کے اقدامات کرنے ہوں گے۔‘ تین گھنٹے کی ملاقات میں بی وائی سی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر خواتین اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کی رہائی پر خاص طور پر زور دیا گیا تاکہ سردار اختر مینگل کا دھرنا ختم ہو سکے۔ لیکن جان بلیدی کے مطابق ’میں سمجھتا ہوں کہ سردار اختر مینگل مشکل میں پھنس گئے ہیں کیونکہ انکی طرح حکومت بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ لہٰذا صورتحال گھمبیر ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھاایسے میں ہم چاہتے ہیں کہ کوئی درمیانی راستہ نکلے اس لیے نواز شریف سے درخواست کی ہے کہ وہ بلوچستان کا دورہ کرکے سیاسی مفاہمت کے لیے فضا ہموار کریں۔
بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا کہ بلوچستان میں معاملات خطرناک حد تک دو انتہاؤں کی طرف جا رہے ہیں۔ طاقتور قوتوں نے 2018 اور 2024 کے انتخابات کے ذریعے نیشنل پارٹی، بی این پی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور یہاں تک کہ جے یو آئی کو بھی دیوار سے لگا دیا ہے۔ ان کے بقول جب سیاسی قوتوں کو الگ تھلگ کیا جائے گا تو اسکا نتیجہ انتہا پسندوں کے زور پکڑنے کی صورت میں ہی نکلنا تھا۔ انکے خیال میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سیاسی منظر نامے پر تیزی سے ابھرنے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی سیاسی خلا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں جہاں ایک طرف حکومت اور اختر مینگل اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہیں مفاہمتی سیاست کرنے والی جماعتیں کچھ نہ کچھ بہتری کی امید لیے سامنے آئی ہیں۔ اب یہ نواز شریف سمیت دیگر قومی رہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ کتنی سنجیدگی سے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے اپنا سیاسی وزن استعمال کرتے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کے مطابق نواز شریف اہم اور بھاری سیاسی شخصیت ہیں وہ اگر چاہیں تو بلوچستان کے معاملات میں اہم ادا کر سکتے ہیں۔ مرکز میں ان کی جماعت کی حکومت ہے، بلوچستان میں وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں اس لیے ان کی بات کو اسلام آباد نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ امید رکھنا کہ نواز شریف کے کردار سے بلوچستان کا سارے مسائل فوراً حل ہو جائیں گے غیر حقیقی ہے کیونکہ یہ مسائل نہایت پیچیدہ اور گہرے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ’اگر نواز شریف مخلصانہ طریقے سے سے مفاہمت کے عمل میں شامل ہو تو بہتری آسکتی ہے۔‘
نواز شریف اور فوجی قیادت میں اختلافات کا امکان کیوں بڑھ گیا ؟
اس دوران بلوچستان کے سخت گیر قوم پرست حلقے نیشنل پارٹی پر بلوچستان کی صورتحال پر سخت گیر مؤقف اپنانے کی بجائے مفاہمت کی کوششوں پر تنقید کررہے ہیں۔
شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ نیشنل پارٹی جیسی جماعتوں کے لیے اس وقت صورتحال نہایت مشکل ہے کیونکہ ایک ایسا حلقہ طاقتور ہوتا جا رہا ہے جو پارلیمنٹ اور گفت و شنید کو غیر اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’گفت و شنید کے ابتدائی مراحل میں باتیں تلخ ہوں گی لیکن اگر نیت درست ہو تو وقت کے ساتھ نرمی آ سکتی ہے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ اس وقت اختر مینگل اور حکومت دونوں بند گلی میں پھنس چکے ہیں کیونکہ گر اختر مینگل اپنے مطالبات منوائے بغیر دھرنا ختم کرتے ہیں تو انہیں سیاسی نقصان ہوگا اور اگر حکومت ضد پر اڑی رہی تو اسکے خلاف عوامی غصہ مذید بڑھ سکتا ہے۔
