علی امین گنڈاپور کا عمران خان کے خلاف کھلا اعلان بغاوت

سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا عمران خان کے خلاف کھلا اعلان بغاوت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ افغان طالبان کی حمایت اور سرپرستی میں ٹی ٹی پی افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منظم دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہی ہے، تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جاری یہ مذموم کارروائیاں محض خفیہ یا غیر اعلانیہ نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہشت گردی کی نئی لہر نے ایک بار پھر صوبے کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے تاہم پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ان دہشتگردانہ کارروائیوں میں افغانستان کے کسی قسم کے کردار سے انکاری ہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں کے باوجود افغان طالبان کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کے حامی نظر آتے ہیں ایسے میں علی امین گنڈاپور کا یہ مؤقف نہ صرف افغانستان کے کردار پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ داخلی سطح پر دہشت گردی کے حوالے سے سیاسی بیانیے میں واضح اختلافات اور تضادات موجود ہیں، جو قومی سلامتی جیسے حساس معاملے پر مزید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے پر ریاستی مؤقف اور صوبائی قیادت کے بیانات کے درمیان پائے جانے والے تضادات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ایک طرف خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ افغان سرزمین سے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا، میں دہشت گردی کے لیے ٹھوس اور دستاویزی شواہد موجود ہیں، تو دوسری طرف موجودہ صوبائی قیادت کی جانب سے انہی دعوؤں کے ثبوت مانگے جانا ریاستی بیانیے میں ابہام کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف قومی سلامتی سے جڑے ایک نہایت حساس مسئلے پر سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ دہشت گردی جیسے اہم معاملے پر ریاست کے اندر واضح، متفقہ اور دو ٹوک مؤقف کی کمی کس قدر خطرناک نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ ایسے میں علی امین گنڈاپور کے بیانات محض ایک سیاسی موقف نہیں بلکہ ایک بڑے پالیسی مباحثے کی بنیاد بنتے دکھائی دیتے ہیں، علی امین گنڈاپور کا بیان اس تضاد کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو ایک جانب مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری جانب مسلسل بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی تلخ حقیقتوں سے آنکھیں چرانے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کے مطابق خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کے ’’واضح اور دستاویزی شواہد‘‘ موجود ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان افغانستان سے پاکستان کے خلاف منظم کارروائیاں کر رہی ہے اور یہ سرگرمیاں افغان حکومت اور تحریکِ طالبان افغانستان کے علم میں ہیں بلکہ ان کی حمایت سے جاری ہیں۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق ان حقائق سے نہ صرف خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت بلکہ وفاقی حکومت بھی مکمل طور پر آگاہ ہے۔ سابق وزیرِاعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے تصدیق کی کہ صوبائی اور وفاقی دونوں سطحوں پر ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا، میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی افغانستان کے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردانہ کارروائیوں میں کسی قسم کے کردار سے انکاری ہیں حال ہی میں سہیل آفریدی نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کو اس دعوے کے حق میں شواہد فراہم کرنے چاہئیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم، ان کے پیش رو علی امین گنڈاپور نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے واضح کیا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہے اور افغان طالبان کے ساتھ ساتھ افغان حکومت بھی ٹی ٹی پی کے مطلوب دہشت گردوں کی موجودگی سے مکمل طور پر باخبر ہے۔

مشرف کا ‘کارگل مس ایڈونچر’ ہزاروں فوجی جوانوں نے کیسے بھگتا؟

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ عناصر ہیں جو پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث رہے ہیں اور افغانستان میں ان کی موجودگی ایک دستاویزی اور ریکارڈ شدہ حقیقت ہے۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق خیبر پختونخوا میں پیش آنے والے دہشت گردی کے کئی واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے، جبکہ متعدد کیسز میں افغان شہریوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض خودکش حملوں میں شامل یا ہلاک ہونے والے دہشت گرد افغان تھے، جبکہ کئی کا تعلق براہِ راست ٹی ٹی پی سے تھا۔ سابق وزیرِاعلیٰ نے زور دیا کہ یہ محض الزامات نہیں بلکہ شواہد اور سرکاری ریکارڈ سے ثابت شدہ حقائق ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی، خصوصاً ٹی ٹی پی کی قیادت میں ہونے والی کارروائیوں، اور افغانستان کے درمیان تعلقات حقائق کی بنیاد پر واضح ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات کے حامی رہے ہیں اور ان کا مستقل مؤقف ہے کہ افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ تاہم ملکی خودمختاری، استحکام اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

Back to top button