عمران خان کو جیل سے نکالنے کی علی گنڈا پور کی سازش ناکام

باخبر حکومتی حلقوں نے دعوی کیا ہے کہ وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی زیر قیادت تحریک انصاف نے اسلام اباد کے ڈی چوک میں دھرنا دے کر عمران خان کو رہا کروانے کا منصوبہ بنایا رکھا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گنڈا پور نے پچھلے ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 15 روز میں عمران کو جیل سے چھڑوا لیں گے اور اب اسی منصوبے کے تحت اسلام اباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق گنڈاپور نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہزاروں لوگوں کو اکٹھا کر کے دھرنا دے دینا تھا جس سے ختم کرنا ممکن نہیں رینا تھا۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے پورا زور لگایا گیا اور شہر کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔ جب گنڈاپور ڈی تک پہنچنے میں ناکام رہے تو انہوں نے حسب سابق بھائی لوگوں سے رابطہ کیا تا کہ انہیں خیبر پختون خواہ ہاؤس تک پہنچنے کی اجازت مل سکے اور یوں انہیں فیس سیونگ مل جائے۔ ذرائع کا کہنا یے کہ گنڈاپور کو خیبر پختون خواہ ہاؤس تک آنے دیا گیا اور پھر انہیں 24 گھنٹے تک سرکاری مہمان بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد انہیں پچھلی بار کی طرح دوبارہ آزاد کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گنڈاپور کو اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ اگر اس نے دوبارہ شرپسندی پر مبنی کوئی سازش تیار کی تو خیبر پختون خواہ میں گورنر راج نافذ کرنے کے سوا وفاقی حکومت کے پاس کوئی اور چارہ باقی نہیں رہے گا۔

یاد ریے کہ علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا سے ایک قافلے کی شکل میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف آ رہے تھے جب برہان انٹرچینج کے مقام پر انھوں نے واضح اعلان کیا تھا کہ تحریک انصاف کا احتجاج ہر صورت ڈی چوک پر ہی ہوگا۔ مگر اسلام آباد پہنچنے کے بعد ریڈ زون کے قریب انھوں نے کارکنان سے ایک مختصر خطاب کیا اور وہاں سے چلے گئے۔
تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ علی امین گنڈاپور کو ریڈ زون میں ہی واقع خیبر پختونخوا ہاؤس میں ’حبس بے جا میں‘ رکھا گیا جہاں رینجرز کی طرف سے ایک ریڈ بھی کی گئی تھی۔ تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کی تردید کرتے ہوئے اتوار کو کہا کہ وہ کسی ریاستی ادارے کی تحویل میں نہیں بلکہ اپنی مرضی سے خیبر پختونخوا ہاؤس سے بھاگ گئے تھے جس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ اس سوال پر کہ گنڈاپور کہاں ہیں، محسن نقوی نے کہا کہ اگر وہ اسلام آباد کی حدود میں ہوں گے تو پولیس انھیں ڈھونڈ نکالے گی۔ تاہم پھر اچانک گنڈا پور خیبر پختون خواہ اسمبلی سے برامد ہو گئے۔ ایس ایم ایس سوال یہ ہے کہ کیا گنڈاپور کوئی چھلاوا ہیں جو اسلام اباد سے پشاور تک کا سینکڑوں کلومیٹر کا سفر غائب ہو کر طے کر آئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ بتا دیا جائے کہ علی مین گنڈاپور 24 گھنٹے کہاں تھے تو اس میں گنڈاپور کا بھی نقصان ہے اور حکومت کا بھی لہذا کہانی یہی سنائی جائے گی کہ گنڈاپور کسی کی تحویل میں نہیں تھے۔

اتوار کو ڈی چوک پر پولیس کانسٹیبل کی نمازِ جنازہ کے بعد محسن نقوی کا کہنا تھا کہ گنڈاپور ’نہ تو ہماری حراست میں ہیں، اور نہ ہی کسی ادارے کی حراست میں ہیں۔‘ ان کے مطابق ’ہم نے رات کو دو تین ریڈ کیے ہیں مگر وہ وہاں نہیں تھے جہاں ہمیں ان کے بارے میں شک تھا۔‘ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’وہ جہاں پر ہمیں ملیں گے تو پولیس اپنی کارروائی کرے گی۔‘ علی امین گنڈاپور کے منظر عام پر ا جانے کے بعد رات گئے جب محسن نقوی کو پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ وہ کہاں تھے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس نہیں تھے۔ تاہم ان کی مسکراہٹ بہت کچھ کہہ گئی۔ مگر یہ پہلی بار نہیں کہ گنڈاپور احتجاج کے دوران لاپتہ ہوئے ہوں۔
آٹھ ستمبر کو گنڈاپور نے اسلام آباد کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی تو اس کے کچھ دیر بعد ان کا کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا اور رات بھر غائب رہنے کے بعد وہ اگلی صبح پشاور پہنچے تھے۔ علی امین نے بعد میں یہ بتایا تھا کہ وہ ایک اعلیٰ سطح سکیورٹی اجلاس میں شریک تھے اور جس مقام پر وہ موجود تھے وہاں پر موبائل فون کے سگنلز نہیں تھے۔ اس واقعے کے اگلے روز عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو میں خود یہ الزام لگایا تھا کہ گنڈاپور کو ’اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا تھا۔‘ باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ گنڈاپور کو پچھلی مرتبہ بھی انڈرسٹینڈنگ پیدا کرنے کے لیے غائب کیا گیا تھا اور اس بار بھی انہیں پچھلی انڈرسٹینڈنگ توڑنے پر دوبارہ سے غائب کیا گیا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ علی امین اب منظر عام پر آنے کے بعد مثبت رویہ اختیار کریں گے۔

Back to top button