بشریٰ بی بی سمیت کسی کواختیار نہیں کہ عمران خان کے فیصلے پر اپنا فیصلہ دے، علی محمد خان کی آڈیو لیک ہوگئی

پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کی اسلام آباد کے احتجاج کے حوالے سے ایک اور آڈیو لیک ہوگئی ہے، جس میں انہوں نےکہا ہےکہ بشریٰ بی بی سمیت کسی کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ عمران خان کے فیصلے پر اپنا فیصلہ دے۔
علی محمد خان نے نجی ٹی وی پر آڈیو اپنی ہونے کی تصدیق بھی کردی ہے۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کےجلسے کے حوالے سے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کےدوران رہنماؤں نے سوالات اٹھائےکہ عمران خان کے حکم پر سنگجانی کے بجائے ڈی چوک کس کے کہنے پر گئے۔
لیک آڈیو میں علی محمد خان کہہ رہےہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی پارٹی ہے،احتجاج کا اعلان علیمہ خان کےبجائے بیرسٹر گوہر کو کرنا چاہیےتھا۔ عمران خان نےتو کہا کہ تھا ہماری پارٹی میں موروثیت کی کوئی جگہ نہیں ہے،علیمہ خان نےخود کیوں احتجاج کی کال دی؟
علی محمد خان کےمطابق میں نے عمران خان سے بھی شکایت کی کہ اعلانات پارٹی کی طرف سے ہونےچاہئیں اور انہوں نے بھی کہاکہ آئندہ کال پارٹی لیڈر شپ دے گی۔
علی محمد خان کاکہنا تھاکہ عمران خان نے ڈی چوک آنے کا کہا ہی نہیں تھا، عمران خان نے صرف اسلام آباد آنےکاکہا تھا،انہوں نےکہا تھاکہ اسلام آباد میں کارکنان کی آمد کے بعد جگہ بتائی جائےگی،جب عمران خان نے سنگجانی کا کہ تھا تو پھر کس کے کہنے پر ڈی چوک گئے؟
علی محمد خان کےمطابق عمران خان نے بیرسٹر گوہر،فیصل چوہدری اور دیگر کے سامنےکہاتھا۔ ہمارا مقصد احتجاج کےذریعے مذاکرات کرنا تھا۔سندھ اور پنجاب میں الگ الگ احتجاج کرنےکی بھی عمران خان نے مخالفت کی تھی۔ عمران خان نے سنگجانی میں بیٹھنےکاکہا تھا اور مذاکرات کرنےکا بھی حکم دیا تھا۔
علی محمد خان کاکہنا تھاکہ بشریٰ بی بی کی احتجاج میں شمولیت کا بھی عمران خان کو نہیں پتاتھا۔بیرسٹر گوہر نے عمران خان کو بتایاکہ بشریٰ بی بی احتجاج میں آئی ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری جنرل کو سنگجانی میں بیٹھنے کا اعلان کرنا چاہیےتھا، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی سنگجانی پر متفق ہوگئےتھے۔ جب عمران خان نے سنگجانی بیٹھنےکاکہا تو پھر آگے سب کیوں گئے؟
میانوالی میں تھانے پر حملہ ناکام،4 خوارج ہلاک
علی محمد خان کا ہنا تھاکہ ہمیں اپنے لیڈر کے حکم پر عمل کرنا چاہیے تھا،ہمیں سنگجانی میں رکنا چاہیےتھا۔ بشریٰ بی بی سمیت کسی کےپاس حق نہیں ہے کہ عمران خان کےفیصلے کےاوپر فیصلہ دے۔بیرسٹر سیف نے جب عمران خان کا پیغام پہنچایا تو اس پر عمل کرنا چاہیےتھا۔
