الطاف حسین کے بچھڑے بیٹے اکٹھے کیسے ہو گئے؟

پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سر توڑ کوششوں کے نتیجے میں کراچی کے میلے میں بچھڑے ہوئے ایم کیو ایم کے بھائی ایک بار پھر مل بیٹھے ہیں۔ ایسے میں الطاف حسین کی بے تحاشا یاد آ رہی ہے کیونکہ یہ سب بچھڑے بھائی ماضی میں خود کو الطاف بھائی کا روحانی بیٹا کہا کہتے تھے۔ تاہم جب ایم کیو ایم پر ڈنڈا چلا تو یہی بیٹے اپنے روحانی باپ الطاف بھائی کو ہی غدار اور را کا ایجنٹ کہنے لگے۔

بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کئی کتابوں کے مصنف اور معروف لکھاری محمد حنیف کہتے ہیں کہ کراچی شہر میں جتنا پیار الطاف بھائی کو ملا ہے وہ کسی اور کو نہیں ملا۔ اگر یہ کہہ دوں کہ شہر میں جتنا خوف الطاف بھائی کا تھا ویسا خوف بھی کبھی محسوس نہیں ہوا۔ اس بات پر الطاف حسین کے دیوانے ناراض ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے معصوم بھالو جیسے الطاف بھائی سے خوف کیسا؟۔ اسی طرح الطاف بھائی کے دشمن حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص سے پیار کون کر سکتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے بھی خوف آتا ہے کہ اس پیار کا مزہ ہی اور ہوتا ہے جس میں تھوڑی سی دہشت شامل ہو جائے۔

محمد حنیف کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور کراچی پر اتنے فوجی آپریشن ہوئے ہیں کہ اگر کراچی واقعی ایک مریض ہوتا تو یا تو کب کا صحتیاب ہو چکا ہوتا یا وفات پا گیا ہوتا۔ اصل مقصد کبھی بھی کراچی کا علاج نہیں تھا صرف قبضے کی جنگ تھی اور یہ جنگ اتنی پرانی ہے کہ کراچی میں پیدا ہونے والی دو نسلوں نے یہی دیکھا ہے کہ کراچی یونیورسٹی پروفیسر نہیں بلکہ رینجر چلاتے ہیں اور مرکزی کراچی کی شاندار بلڈنگ جناح کورٹس کا نام پتہ نہیں جناح کے نام پر کیوں ہے۔ وہاں تو رینجرز کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

محمد حنیف کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سیاست دان کبھی نہ کبھی غدار رہ چکا ہے بلکہ پاکستان میں سیاست کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے سی وی کے ساتھ ایک غداری کا سرٹیفیکیٹ نتھی ہو۔ لیکن اب لگتا ہے کہ ملک کی سیاست میں ایک ہی غدار بچا ہے جس کا نام الطاف حسین ہے۔نواز شریف مودی کا یار تھا، پکا غدار تھا پر جیل میں بھی تھا، وہاں سے سرنگ لگا کر نکلا اور اب لندن میں بیٹھ کر فوج کا سپہ سالار چنتا ہے۔ جنیوا جا کر سوچتا ہے کہ ہمیں ڈالر کتنے کا ملے گا، ایک جنرل مشرف تھا، غداری کا مقدمہ بھگتنے عدالت جا رہا تھا، پتلی گلی سے نکل کر دبئی پہنچ گیا اور اب سب مل کر اس کی صحت کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی والے بھی کبھی غدار کہلواتے تھے اب پاکستان کے لیے دنیا کے دل جیتنے کی ذمہ داری بلاول بھٹو کو دے دی گئی ہے۔ عمران خان کو بھی کہا جاتا ہے کہ اداروں پر تنقید کر کے وہ چھوٹی موٹی غداری کر رہا ہے، وہ کہتا ہے کہ ابھی تو میں نے کچھ کیا نہیں، میرا راستہ روکو گے تو پھر بتاؤں گا کہ غدار ہے کون۔ تو آخر میں ہمارے پاس ایک ہی غدار بچا ہے الطاف حسین جس کا نہ انٹرویو چل سکتا ہے، نہ وہ اپنے چاہنے والوں سے ٹیلیفون پر خطاب کر سکتا ہے۔

محمد حنیف پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں کبھی آپ نے ایسا غدار دیکھا ہے جو اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی باقاعدہ گا کر مانگ چکا ہو۔ کیا آپ نے وہ ویڈیو نہیں دیکھی جس میں وہ گا رہے ہیں ‘ہم سے بھول ہو گئی، ہم کا معافی دے دیو۔’ اس ملک کے میڈیا پر اے پی ایس کے قاتلوں کے ترجمان کا انٹرویو چل سکتا ہے لیکن الطاف بھائی اپنے چاہنے والوں کو ‘ایک پپی اِدھر اور ایک پپی اُدھر’ بھی نہیں دے سکتے۔ الطاف بھائی کچھ لوگوں کے محبوب ہیں اور کچھ لوگوں کے لیے محض ایک مذاق۔ پیار کے دشمن انھیں اپنے عاشقوں سے نہیں ملنے دیتے اور جو انھیں مذاق سمجھتے ہیں وہ لوگوں کو ہنسنے نہیں دیتے۔

ہم نہیں جانتے کہ اب کراچی میں کتنے لوگ الطاف بھائی سے پیار کرتے ہیں اور کتنے ان سے ڈرتے ہیں۔ لیکن الطاف بھائی کے روحانی بیٹوں کا ملاپ دیکھ کر ایک دفعہ تو سب کو الطاف بھائی کی یاد آئی ہو گی اور ان پر مستقل زبان بندی کی سزا دیکھ کر تو لگتا ہے کہ ہمارے اصلی حکمرانوں کے دل میں ابھی بھی خوف ہے کہ کیا عوام کے دلوں میں ابھی بھی الطاف بھائی کا پیار زندہ تو نہیں۔ الطاف بھائی کے بھٹکے، بھولے، بکھرے روحانی بیٹے ایک ساتھ دیکھ کر وہ ترانہ بھی یاد آیا جس میں ہمیں بتایا گیا چین نے 3سال بعد کورونا کے سبب بند سرحدیں کھول دیںتھا کہ ‘منزل نہیں رہنما چاہئے۔

Back to top button