اسحٰق ڈار کے بطور نائب وزیر اعظم عہدے کے تحفظ کےلیے رولز آف بزنس میں ترمیم

وفاقی حکومت نے وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی بطور نائب وزیر اعظم تقرری کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کی خاطر رولز آف بزنس 1973ء میں ترمیم کی ہے۔
شہباز شریف حکومت کی جانب سے ترمیم 18 دسمبر 2024 کو کی گئی جس کے تحت میں نائب وزیر اعظم کے عہدے حوالےسے ایک نیا رول متعارف کرایا گیا ہے۔
قبل ازیں رولز کےتحت کابینہ میں نائب وزیر اعظم کا عہدہ شامل نہیں تھا،ترمیم میں رول (2A (5 کو متعارف کرایاگیا جس میں لکھا ہےکہ (2A(1 وزیر اعظم،وزراء میں سے،کسی وزیر کو نائب وزیر اعظم نامزد کرسکتے ہیں اور اسے ایسی ذمہ داریاں دے سکتےہیں جو وہ وفاقی حکومت کے کاموں میں موثر کارکردگی کی خاطر مناسب سمجھیں۔
اگر کسی وزیر کو اس نوٹی فکیشن کےنفاذ سے قبل نامزد کیاگیا ہو تو اسے اس ذیلی اصول کے تحت نامزد کیاگیا سمجھا جائےگا۔رولز آف بزنس میں نئی ترمیم اسحٰق ڈار کی جس تاریخ سے انہیں عہدہ تفویض کیاگیا ہے،اس تاریخ سے ان کی بطور نائب وزیر اعظم تقرری کی توثیق کرتی ہے۔
بلاول بھٹو نے وزیر اعظم سے خود کو ہائی پاور سلیکشن بورڈ میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا
خیال رہے کہ پاکستان کا آئین نائب وزیر اعظم کے عہدےکو تسلیم نہیں کرتا لیکن ماضی میں چند ایسی مثالیں موجود ہیں جن کی وجہ سے اس عہدے کےحوالے سے قانونی سوالات اٹھائےگئے ہیں۔ اب رولز آف بزنس میں یہ عہدہ شامل ہوچکا ہے جو وزیر اعظم کے ذریعے کابینہ کے کسی بھی وزیر کو دیا جاسکے گا۔
تاہم آئین میں اب بھی اس عہدےکا کوئی ذکر موجود نہیں، اسحٰق ڈار کی بطور نائب وزیر اعظم تقرری ’’غیر آئینی‘‘ ہونے کےمعاملے کو مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کیا گیاتھا۔
لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سینیٹر اسحٰق ڈار کی بطور نائب وزیر اعظم تقرری کو چیلنج کرنےوالی انٹرا کورٹ اپیل پر وفاقی حکومت اور وزارت قانون سے رواں ماہ کے اوائل میں جواب طلب کیاتھا۔
سندھ ہائیک ورٹ میں بھی ایسی ہی نوعیت کی دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ملک کے آئین اور رولز آف بزنس میں وزیر اعظم،نگران وزیر اعظم اور وفاقی وزراء کے عہدوں کا ذکر موجود ہے لیکن نائب وزیر اعظم کے عہدےکی کوئی گنجائش نہیں۔
