امریکی FBI نے 39 پاکستانی ویب سائٹس کس فراڈ کے بعد بند کیں ؟

امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور نیدرلینڈز کی پولیس نے ایک مشترکہ آپریشن میں پاکستان میں متحرک ایک نیٹ ورک کی 39 سائبر کرائم ویب سائٹس اور ان سے منسلک ویب سرورز بند کیے ہیں جو ہیکنگ اور فراڈ کے لیے استعمال ہونے والے ٹولز فروخت کر رہے تھے۔ امریکی محکمہ انصاف اور ایف بی آئی کے مطابق اس پاکستانی نیٹ ورک کو صائم رضا عرف ’ہارٹ سینڈر‘ چلا رہا تھا۔ ان 39 ویب سائٹس کے ساتھ امریکی حکام نے دستاویز بھی جمع کروائی ہیں جنکے مطابق صائم رضا سال 2020 سے ان سائبر کرائم ویب سائٹس کو چلا رہا تھا جہاں فراڈ اور ہیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے ٹولز فروخت کیے جا رہے تھے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق صائم رضا کے نیٹ ورک نے یہ ٹولز بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کو بھی فروخت کیے جنھوں نے ان کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ میں بھی لوگوں کو فراڈ کا نشانہ بنایا اور انھیں کم از کم 30 لاکھ امریکی ڈالر سے محروم کیا۔ امریکی اٹارنی جنرل نکولس جے گانجی کا کہنا ہے کہ ’تقریباً ہر فرد کا کوئی نہ کوئی دوست یا جاننے والا اس قسم کی کمپیوٹر ہیکنگ سے متاثر ہوا۔ ایسے فراڈ کے ذریعے نہ صرف کاروباروں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ اس سے عام افراد بھی متاثر ہوئے اور انھیں اس سبب پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
صائم رضا نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ بیرونِ ملک مقیم ہیں لیکن وہ اپنی ویب سائٹ کے ذریعے آسانی سے پیسوں کے لیے یہ ہیکنگ ٹولز پھیلا رہے تھے۔ لیکن امریکی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آج ہم نے بڑی حد تک ان کی دوسری کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کمزور کر دی ہے۔
صائم رضا نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران ’ہارٹ سینڈر ڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ بھی بند کی گئی۔ نیدرلینڈز پولیس کی سائبر کرائم ٹیم کے مطابق ’ہارٹ سینڈر‘ ایک ایسا گروہ ہے جو آن لائن فراڈ میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز بنا رہا تھا۔ نیدرلینڈز کی پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2022 میں ایک علیحدہ تحقیقات کے دوران ایک ملزم کے کمپیوٹر سے جعلسازی میں استعمال ہونے والا ایک سافٹ وئیر برآمد ہوا تھا جس کے بعد سائبر کرائم ٹیم نے تحقیقات شروع کی تھیں۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل اس نیٹ ورک کے خلاف امریکہ میں پہلے سے ہی تحقیقات چل رہی تھیں۔
نیدرلینڈز پولیس کے مطابق اس گروہ نے ’کریمنل ویب شاپس‘ کھولی ہوئی تھیں اور اس کے اشتہارات یوٹیوب پر بھی چلائے جا رہے تھے تاکہ ڈیجیٹل فراڈ میں استعمال ہونے والے ٹولز بیچے جا سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ’کوئی سائبر مجرم ان ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے بڑی تعداد میں جعلسازی پر مبنی ای میلز ارسال کر سکتا ہے یا پھر ان کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے آئی ڈی اور پاسورڈ حاصل کر سکتا ہے۔‘
دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ صائم رضا نیٹ ورک نے نہ صرف جعلسازی کے لیے استعمال کیے جانے والے ٹولز فروخت کیے بلکہ ان کے استعمال کو آسان بنانے کے لیے یوٹیوب پر ویڈیوز بھی اپلوڈ کیں۔ نیدرلینڈز کی پولیس کا کہنا ہے کہ جعلسازی کے لیے استعمال ہونے والے ٹولز کے خریداروں میں ان کے ملک کے شہری بھی شامل ہیں جن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ منظم بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں نے ان ٹولز کا استعمال کاروباری ای میلز کو نشانہ بنانے کے لیے کیا، جہاں سائبر مجرم جھانسہ دے کر متاثرہ کمپنیوں کو کسی تیسرے فریق کو پیسے ارسال کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ یہ پیسے دراصل مجرموں کے اکاؤنٹس میں ہی جا رہے ہوتے تھے اور اس کے نتیجے میں متاثرہ افراد کو مالی نقصانات اُٹھانا پڑتے تھے۔ نیدرلینڈز کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں تحقیقات کے دوران ’ہارٹ سیںڈر‘ سے جو ڈیٹا ملا اس میں تقریباً ایک لاکھ یوزر نیمز اور پاسورڈز موجود تھے جن کا سائبر مجرموں نے غلط استعمال کیا ہو گا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ صائم رضا یا ’ہارٹ سینڈر‘ گروپ کا نام ہیکنگ یا آن لائن جعلسازی کے حوالے سے سرگرمیوں میں سامنے آیا ہو۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے لیے پہلی اچھی خبر
سابق امریکی صحافی اور ڈیجیٹل ایکسپرٹ برائن کریبز گذشتہ ایک دہائی سے اس نیٹ ورک کے بارے میں اپنی ویب سائٹ پر لکھ رہے ہیں۔
