امریکہ مخالف عمران کی رہائی کے لئےامریکی لابنگ فرمزمیدان میں

امریکی لابی عمران خان کی شکل میں  پاکستان میں موجود اپنے اثاثے کو بچانے کیلئے ایک بار پھر میدان میں کود پڑی۔ جہاں ایک طرف یوتھیے رہنماؤں کے تمام ترلوں، منتوں اور دھمکیوں کے باوجود فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے عمران خان کو کسی قسم کا این آر او دینے سے صاف انکار کر دیا ہے وہیں پی ٹی آئی کی ہائر کردہ لابنگ فرمز کی کاوشوں سے یکے بعد دیگرے چند امریکی کانگریسی اراکین عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ پراجیکٹ عمران کو انجام تک پہنچانے کا حتمی فیصلہ کر چکی ہے۔ مقتدر قوتیں پر عزم ہیں کہ عمران خان کی رہائی بارے امریکہ سمیت کسی بھی بیرونی دباؤ پر قطعا گھٹنے نہیں ٹیکے جائیں گے اور نہ ہی عمران خان کے ساتھ کسی دباؤ کے تحت کوئی ڈیل کی جائے گی۔ حکام کے مطابق کانگریس اراکین جتنے مرضی خطوط لکھتے رہیں تاہم عمران خان کی اپنی سیاہ کاریوں کی سزا بھگت کر پاکستانی عدالتوں کے ذریعے ہی رہائی ممکن ہے۔

خیال رہے کہ عمران خان کی جیل یاترا کے بعد کانگریس کے مختلف اراکین کی جانب سے سابق امریکی صدر جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو خطوط لکھنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم تمام تر خطوط لکھنے کے باوجود تاحال امریکی انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کی رہائی بارے کوئی بھی مطالبہ سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے یوتھیے مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔ تاہم ایک تازہ پیشرفت کے مطابق امریکی ارکان کانگریس جو ولسن اور اگست پلگر نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو  ایک اور خط لکھ کر زور دیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کریں۔ اس خط کے بعد یوتھیوں کو ایک بار پھر عمران خان کی رہائی کی امید لگائے گئی ہے تاہم مقتدر قوتوں کے پرعزم فیصلوں کی وجہ سے عمرانڈوز کی یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

تاہم جو ولسن اور اگست پلگر کے  سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو لکھے گئے مشترکہ خط میں کہنا ہے کہ آپ عمران خان کو آزاد کروانے کے لیے پاکستان میں ملٹری رجیم کے ساتھ بات چیت کریں‘۔جو ولسن نے خط ایکس پر خط جاری کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اور اگست پلگر سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو پر زور دیتے ہیں کہ ’پاکستان میں جمہوریت بحال اور عمران خان کو رہا کروایا جائے‘ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس وقت مضبوط ہوتے ہیں، جب ان کی بنیاد آزادی پر ہو۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں عمران خان کو پسند کیا جاتا ہے، اور ان کی رہائی سے امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گا‘، مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی ’آپ کے پہلے دور حکومت میں وزیر اعظم تھے اور آپ دونوں کے درمیان مضبوط تعلقات تھے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور پاکستانی عوام کے لیے آزادی صحافت، آزادیِ اجتماع اور آزادیِ اظہار رائے کی بنیادی ضمانتوں کے احترام کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ آپ کا مقصد دنیا کے ہر ملک کے ساتھ مضبوط ترین تعلقات رکھنا ہے اور پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی مضبوطی عمران خان کی آزادی پر منحصر ہے‘۔

واضح رہے کہ 17 فروری 2025 کو کانگریس کے رکن جوولسن نے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد ٹوئٹ کیا تھا کہ ’مارکو روبیو سے ملاقات کا شکر گزار ہوں، وہ دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں، میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔‘اسی طرح انھوں نے رواں مہینے کے اوائل میں جو ولسن نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھا تھا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ امریکا اور پاکستان کے مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے قومی مفاد میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان 75 سال سے زائد عرصے سے جاری دوطرفہ تعلقات اس وقت مضبوط ترین سطح پر رہتے ہیں، جب پاکستان اپنے جمہوری اصولوں اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتا ہے۔اپنے خط اور تقریر دونوں میں کانگریس مین نے خان کے ساتھ اپنے شدید اختلافات کا اعتراف کیا تھا، بالخصوص روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں ان کی کمزور پالیسیوں پر تنقید کی تھی لیکن ان کا کہنا تھا سیاسی مخالفین کو جمہوری انتخابات میں شکست دی جانی چاہیے نہ کہ من گھڑت سیاسی الزامات پر جیل میں ڈالنا چاہیے۔

یاد رہے کہ امریکی کانگریس رکن جو ولسن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد پوسٹس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے متعدد مقدمات میں گرفتار ہیں، جنہیں وہ ’سیاسی‘ قرار دیتے ہیں۔جو ولسن ایوان کی خارجہ امور اور آرمڈ سروسز کی کمیٹیوں کے ایک اہم رکن ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن پالیسی کمیٹی کے سربراہ ہیں اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب سمجھا جاتا ہے جبکہ اگست پلگر ریپبلکن اسٹڈی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

Back to top button