عمران کی رہائی مانگنے والے امریکی نے یوتھیوں پر بم کیسے گرایا؟

ڈونلڈ لو اور رچرڈ گرنیل کے بعد اب پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک اور امریکی شخیصت کی بات ہو رہی ہے جو ایک وفد کے ہمراہ دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے اور یہاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی باتیں کیں، لیکن ان کے نام کا چرچا اس وجہ سے نہیں ہو رہا۔  اس امریکی شخصیت کا نام جینٹری بیچ Gentry Beach ہے جن کے بارے میں حکومت پاکستان کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے سرمایہ کار ہیں جو پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ موصوف امریکی صدر ٹرمپ کے بیٹے کے بزنس پارٹنر بھی ہیں۔

پاکستان میں ان کے کچھ ایسے بیانات زیر بحث ہیں، جن میں انھوں نے عمران خان، امریکی صدر ٹرمپ اور ٹرمپ کے مشیر رچرڈ گرنیل کے حوالے سے باتیں کی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ عمران خان کے حق میں ٹویٹس کرنے والے رچرڈ گرینیل نے اپنا موقف کیوں بدلا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف والوں نے سوشل میڈیا پر جعلسازی سے رچرڈ کو ماموں بنایا اور ان سے عمران خان کے حق میں ٹویٹس کروائی، جو اب انہوں نے ڈیلیٹ کر دی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رچرڈ کی جانب سے عمران کی رہائی کے مطالبے پر مبنی ٹویٹس ڈیلیٹ ہونا تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

لیکم ہم پہلے یہ جانتے ہیں کہ جینٹری کون ہیں اور ان کا ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے کیا تعلق ہے؟ اگر ہم جینٹری کی کمپنی کی ویب سائٹ پر جا کر اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں تو ہمیں اس میں سب سے پہلا نام جینٹری بیچ کا ہی نظر آتا ہے۔ ان کے نام کے آگے چار الفاظ ’یقین، جذبہ، خاندان اور ملک‘ درج ہیں۔ گوگل پر درج ان کے پروفائل کے مطابق وہ ’ہائی گراؤنڈ ہولڈنگز‘ High Ground Holdings کے شریک بانی ہیں۔ یہ ایک ایسی عالمی کمپنی ہے، جو دفاع، توانائی، صحت، لاجسٹکس اور صنعت کے ساتھ ساتھ طبی اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔

انکے پروفائل کے مطابق جینٹری کے پاس کمپنیوں کی قدر و قیمت جانچے کا 23 برس کا تجربہ ہے۔ وہ ایک ’وسیع نیٹ ورک اور مارکیٹ میں مواقع تلاش کرنے کی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ واضح رہے کہ ہیج فنڈ نجی طور پر جمع کردہ سرمایہ کاری فنڈ کو کہتے ہیں جس کی مدد سے کمپنیوں کے منافع کو بہتر کرنے کے لیے مختلف طرح کی حکمت عملی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

جینٹری بیچ کی پروفائل کے مطابق وہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ٹیلر میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ جینٹری کے ڈونلڈ ٹڑمپ سے حالیہ عرصے میں تعلقات کیسے اور کس نوعیت کے ہیں۔ تاہم ماضی میں وہ ٹرمپ جونیئر کے کاروباری شراکت دار رہے ہیں۔ امریکی میڈیا میں چھپنے والی تحریروں کے مطابق جینٹری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں۔ ٹرمپ جونیئر کا طویل عرصے سے جینٹری سے کاروباری تعلق ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 2016 کی انتخابی مہم میں جینٹری بیچ نے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کو اپنے والد کی صدارتی مہم کے لیے لاکھوں ڈالر جمع کرنے میں مدد کی اور اس الیکشن کے بعد سے انھیں امریکہ میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں تک خصوصی رسائی حاصل رہی۔ اسی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ انھوں نے کچھ ایسا عدالتی ریکارڈ اور دستاویز دیکھی ہیں جن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور جینٹری 2000 کی دہائی کے وسط سے کاروباری ڈیلز کرتے رہے ہیں اور دونوں نے مل کر ’فیوچر وینچر’ نامی ایک کمپنی کی بنیاد بھی رکھی۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جینٹری نے کہا کہ ’امریکہ پاکستان میں معدنیات، رئیل اسٹیٹ، توانائی، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا خواہشمند ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتصادی سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں اور ہم اسی مقصد کے لیے پاکستان آئے ہیں۔‘ جینٹری بیچ نے یہ بھی کہا ’ہم ابتدائی طور پر اہم معدنیات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کررہے ہیں اور ہم پاکستان میں عظیم الشان عمارتیں بھی تعمیر کریں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور حکومت پاکستان اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے معاملے پر ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔

حکومت پاکستان کے ایکس پر آفیشل اکاؤنٹ سے جینٹری بیچ کی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ شہباز شریف کی جماعت مسلم لیگ نون کے ایکس پر آفیشل اکاؤنٹ سے جینٹری بیچ کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ جینٹری نے ’پی ٹی آئی کو ہلا کر رکھ دیا۔‘ دوسری جانب تحریک انصاف سے منسلک چند سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے جینٹری بیچ کے ٹرمپ سے قربت کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

 ڈان نیوز پر ایک انٹرویو کے دوران جب پروگرام اینکر عادل شاہ زیب نے ان سے پوچھا کہ ’ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے ایک صبح ٹرمپ اٹھیں گے اور کہیں گے عمران خان کو رہا کرو اور وہ ایسا کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالیں گے۔۔۔ تو کیا ایسا ممکن ہے؟‘ اس کے جواب میں جینٹری بیچ نے کہا کہ ’میں عمران خان سے متعلق ٹرمپ  کے تاثرات نہیں جانتا، میں نے تو ایسا کچھ دیکھا نہ سنا، صدر ٹرمپ امن و امان پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان میں امن و امان کا ماحول اچھا ہے۔‘

جینٹری بیچ نے یہ بھی کہا کہ ’میں عمران خان کے بارے میں ماہر نہیں ہوں لیکن میرے خیال میں امریکہ اور پاکستان کی موجود حکومت کے درمیان بہترین شراکت داری ہو گی۔‘  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق انٹیلیجنس چیف اور خارجہ پالیسی کے ماہر رچرڈ گرینل ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں خصوصی مشنز کے صدارتی ایلچی ہیں۔ رچرڈ گرینل کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور وہ خود عمران خان کو اڈیالہ جیل میں رکھے جانے کے خلاف بارہا ایکس پر آواز اٹھا چکے ہیں۔

26 نومبر کو رچرڈ گرینل نے ایکس پر پیغام میں لکھا کہ ’پاکستان کو دیکھیں۔ ان کا ٹرمپ جیسا رہنما جعلی الزامات پر جیل میں ہے اور وہاں کے لوگ امریکہ میں سرخ لہر یعنی رہپبلکن پارٹی کی واپسی سے متاثر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں سیاسی بنیادوں پر کارروائیاں بند ہونی چاہییں۔‘

اسی روز انھوں نے ایک ٹویٹ میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جس پر لندن میں مقیم تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جینٹری بیچ سے جب رچرڈ کی عمران خان کے لیے حمایت سے متعلق سوال اٹھایا گیا تو انھوں نے کہا کہ رچرڈ کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ جعلی ویڈیو کی تشہیر کے ذریعے گمراہ کیا گیا۔

نواز شریف اپنا زیادہ وقت پرانے خطوط پڑھ کر کیوں گزارتے ہیں؟

انھوں نے کہا کہ رچرڈ گرینل سچے محب وطن اور امریکی ہیں۔ ’انھوں نے مجھے ذاتی طور پر بتایا کہ انھیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار انٹرنیٹ پر ڈیپ فیک ویڈیو کی تشہیر کے ذریعے گمراہ کیا گیا۔‘

تاہم اس بارے میں اب تک خود رچرڈ گرینل کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ نومبر کے اواخر میں ہی امریکی کانگریس کے نمائندوں نے اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن سے ایک خط میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

Back to top button