امریکا کی انڈیا سے دوری: کیا مودی کا زوال ٹرمپ کے ہاتھوں ہو گا؟

مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد سے ہر گزرتے دن کے ساتھ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی ناراضی بھارتی وزیراعظم مودی کے سیاسی زوال کا باعث بن سکتی ہے۔
معروف صحافی اور روزنامہ ڈان کے سابق ایڈیٹر عباس ناصر اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری اور واشنگٹن کے نئی دہلی کے ساتھ تعلقات میں جو دراڑ دیکھنے میں آ رہی یے اس پر پاکستانی فیصلہ ساز کافی خوش نظر آرہے ہیں۔ سیاسی مبصرین پاک-امریکا تعلقات میں حالیہ تبدیلی کو نئی صف بندی اور سمت کی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اگر اس ’صف بندی‘ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان چین سے دور ہو رہا ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان چین اور امریکہ کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔ کچھ ایسا ہی کردار عہ امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ کو ختم کرنے کے لیے ادا کر رہا ہے۔
عباس ناصر کے مطابق سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت میں انتہا پسند، جارح ہندو قوم پرست حکومت اندرون ملک اپنے فرقہ وارانہ مفادات کے لیے مسلسل پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے رہی ہے، جس کے بعد پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید روایتی ہتھیاروں کی ضرورت بھی ہے۔ اس حوالے سے چین اس وقت پاکستان کے لیے اہم ترین اتحادی ہے جس کے فراہم کردہ جے ایف 10 جہازوں نے انڈیا کے جدید ترین رافیل نامی جنگی جہازوں کو مار گرایا تھا۔ امریکا کے برعکس، چین کے تعلقات نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اقوام کے ساتھ بھی ایسے نہیں ہیں کہ جن کے لیے چین یہ مؤقف اپنائے کہ ’آپ یا تو ہمارا ساتھ دیں یا ہمارے حریف کا‘۔ چین کا نقطہ نظر زیادہ عملی ہے کیونکہ اس کی بنیادی توجہ اپنی معیشت کو بہتر بنانے اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت پر مرکوز ہے۔
عباس ناصر کا کہنا ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران اور اس کے بعد سے پاکستان نے بہترین ڈپلومیسی کی ہے۔ ان کے مطابق دو عوامل پاکستان کے حق میں گئے ہیں۔ سب سے پہلے پاکستان نے صدر ٹرمپ کی خود پرست شخصیت کو سمجھتے ہوئے انہیں صحیح اہمیت دی۔ اسلام آباد نے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ کیا اور کابل ایئر پورٹ ’ایبی گیٹ‘ بم دھماکے کے ایک ملزم کو فوری طور پر پکڑ کر امریکا کے حوالے کر دیا۔ پھر مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو امریکا نے دونوں فریقین سے کشیدگی کم کرنے کا کہا۔ پاکستان نے مثبت جواب دیا جس سے خود پسند ٹرمپ کو جنگ بندی کا کریڈٹ لینے کا موقع ملا۔ ٹرمپ بار بار امن ساز کے اپنے کردار کا ذکر کرتے نہیں تھک رہے۔ اس سے ان کی انا کو بے انتہا تسکین مل رہی ہے۔ لیکن دوسری جانب بھارت صدر ٹرمپ کو جنگ بندی کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتا اور ٹرمپ کی مودی سے ناراضی کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے۔
حالت و واقعات پر گہری نظر رکھنے والوں کے نزدیک بھارتی وزیر اعظم مودی نے دو ایسے کام کیے جس نے صدر ٹرمپ کو ناراض کیا۔ سب سے پہلے تو یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال اپنے دورہ امریکا کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات منسوخ کی تھی جو اس وقت صدارتی انتخاب کی مہم چلا رہے تھے۔ مودی کا خیال تھا کہ ٹرمپ اس مرتبہ الیکشن ہار جائیں گے لہذا انہیں ملنے کی ضرورت نہیں۔ بھارت سختی سے تردید کرتا ہے کہ ایسی کوئی ملاقات طے ہی نہیں تھی لیکن 17 ستمبر کو انتخابی مہم سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ مودی سے ملیں گے۔ سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ مودی کی دونوں انتخابی امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس سے ملاقاتیں طے تھیں۔ کملا کو کسی ضروری کام کی وجہ سے ملاقات منسوخ کرنا پڑی جس پر مودی کو ان کی ٹیم نے مشورہ دیا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ اپنی طے شدہ ملاقات بھی منسوخ کردیں تاکہ ایک امیدوار سے مل کر یہ تاثر نہ جائے کہ وہ کسی ایک کی حمایت کررہے ہیں۔ ملاقات کی منسوخی نے بلاشبہ ٹرمپ کی انا کو ٹھیس پہنچائی۔
ان واقعات نے امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات کو خراب کیا لیکن یہ سوچنا حماقت ہوگی کہ عالمی طاقتوں کے درمیان تمام تعلقات کا انحصار اس طرح کے چھوٹے مسائل پر ہوتا ہے۔ امریکا اور بھارت کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ انڈیا کی برکس کی رکنیت ہے۔ اس گروپ میں روس، چین، برازیل، جنوبی افریقہ اور کچھ چھوٹے ممالک شامل ہیں جوکہ ایک تجارتی بلاک بناتے ہیں۔ یہ گروپ ایک نئی کرنسی کا خیال آگے بڑھا رہا ہے اور ایسی تجارت چاہتا ہے جو امریکی ڈالر پر منحصر نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ڈالر کی اہمیت کم ہوجائے گی اور ممالک ادائیگی کے لیے نئی طریقوں کو استعمال کرکے امریکی پابندیوں سے بچ سکتے ہیں۔ امریکا کے نزدیک یہ ناقابلِ برداشت ہے۔
لیکن امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں تازہ خرابی تب آئی جب ٹرمپ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ روس سے سستا تیل خرید کر بیچنا بند کرے۔ بھارت کی جانب سے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کے بعد امریکی صدر نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ انڈیا پر عائد ٹیرف مزید بڑھانے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت نہ صرف بڑی مقدار میں سستا روسی تیل خرید رہا ہے بلکہ اسے فروخت کر کے منافع بھی کما رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت کو کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روسی فوج کے ہاتھوں کتنے لوگ مارے جارہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے اب میں بھارت پر عائد کردہ ٹیرف میں اور بھی اضافہ کرنے جارہا ہوں۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ کے ایک مشیر نے بھارت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ روس سے تیل خرید کر یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں اسے مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے صدر ٹرمپ مودی سرکار کو کارنر کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں کہیں بھارتی وزیراعظم کا سیاسی کیریئر ہی گل نہ ہو جائے۔
