آمنہ الیاس سانولی رنگت پر امتیازی سلوک کا شکار

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ آمنہ الیاس نے انکشاف کیا ہے کہ جب انھوں نے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا تو سانولے رنگ کی وجہ سے ان کو امتیازی رویے کا نشانہ بنایا گیا۔

حال ہی میں خوبرو اداکارہ آمنہ الیاس ایکسپریس انٹرٹینمنٹ کے پروگرام دی ٹاک ٹاک شو میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے اپنے کیریئر میں پیش آنے والی مشکلات سمیت کئی موضوعات پر بات کی۔

آمنہ الیاس نے انکشاف کیا کہ اپنے گہرے رنگ کی وجہ سے انہیں پاکستان شوبز انڈسٹری میں کئی مرتبہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، ہم ہماری انڈسٹری میں دیکھیں تو ہر اداکار اور اداکارہ گورے لمبے اور ایک جیسے دکھائی دیں گے کیونکہ ہم نے خوبصورتی کے معیار طے کر رکھے ہیں۔

اداکارہ نے کہا کہ انہیں کئی مرتبہ رنگ کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی رنگت سکرین پر ساتھی اداکار کی رنگت سے ملتی ہوئی نظر نہیں آتی تھی، تاہم اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں ڈراموں سے زیادہ فلموں میں اداکاری کا موقع ملا جو کسی بھی اداکارہ کا خواب ہوتا ہے اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ ڈراموں سے زیادہ فلمیں کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ جلد آمنہ الیاس اور عفان وحید کی فلم مستانی پاکستان کے ساتھ سنیما گھروں کی زینت بنے گی، فلموں میں آئٹم نمبر پر بات کرتے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ فلموں میں آئٹم نمبرز اصل میں ایک میوزیکل پرفارمنس ہے، لوگ اپنی شادیوں میں ڈانس کرتے ہیں، لیکن جب ہم ڈانس کو فلموں میں دکھاتے ہیں تو مسئلہ بن جاتا ہے۔

آمنہ الیاس نے اپنے کیرئیر کا آغاز سترہ سال کی عمر میں ماڈلنگ سے کیا، چند سال بعد انہوں نے اداکاری کی طرف رخ کیا اور ’ تم میرے پاس رہو‘ ، ’ دل نہیں مانتا ‘ ، ’ ایک جھوٹا لفظ محبت ‘، ’ زندہ بھاگ ‘، ’ باجی ‘ اور ’ سات دن محبت میں ‘ جیسے پروجیکٹس میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، حال ہی میں آمنہ الیاس نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی جہاں انہوں نے آئٹم نمبرز کے بارے میں بات کی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ لفظ "آئٹم” کیا ہے، ہم اسے ڈانس پرفارمنس کہتے ہیں، یہ الفاظ ہمارے پڑوسی ملک بھارت سے آئے ہیں، انڈیا میں لوگ کہتے ہیں، ارے تم کسی آئٹم کی طرح لگ رہے ہو، لیکن جو آئٹم نمبرز فلموں میں شامل کئے جاتے ہیں وہ اصل میں ایک میوزیکل پرفارمنس ہے، دونوں الفاظ کا مفہوم جوڑنا نہیں چاہئے۔

آمنہ نے کہا کہ ہم شادیوں میں ڈانس کرتے ہیں، لیکن جب ہم اسے فلموں میں دکھاتے ہیں تو مسئلہ بن جاتا ہے، فلموں میں بھی آئٹم سانگ ضرورت کے مطابق شامل کئے جاتے ہیں، ’ باجی ‘ اور ’ زندہ بھاگ ‘ میں کوئی آئٹم سانگ نہیں تھا، کیوں کہ یہ صورتحال پر منحصر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آئٹم سانگ کی ضرورت ہے تو آپ اسے ضرور فلم میں شامل کریں، آپ لوگوں کو ان کی پسند سے محروم نہیں کر سکتے۔

سود کے فیصلے کیخلاف اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلیں خارج

Back to top button