عامر لیاقت نے اپنے ہی کپتان عمران کو چارج شیٹ کر دیا

اپنی متنازعہ حرکتوں اور بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اب اپنی ہی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے. انکا کہنا یے کہ جو حکومت مسجدیں گراتی ہے وہ میری حکومت نہیں ہو سکتی، اور اگر ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار عمران خان کو شرم آتی تو وہ بھی میری طرح مدینہ مسجد ضرور پہنچتے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے یہ گفتگو کراچی کی مدینہ مسجد کے باہر اس مسجد کو گرانے کے احکامات کے خلاف جاری مذہبی تنظیموں کے دھرنے میں کی۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کراچی کی 49 برس پرانی مدینہ مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے گرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں جس کے خلاف مذہبی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے مسجد کے باہر پچھلے کئی روز سے دھرنا دے رکھا ہے۔ مدینہ مسجد کی مسماری کے فیصلے کے خلاف احتجاج میں شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ جو مسجدیں گراتی ہے، وہ میری حکومت نہیں ہے۔ اس موقع پر بنائی گئی ایک ویڈیو عامر لیاقت حسین کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ہم ‘ریاست مدینہ’ میں مدینہ مسجد گرانے کی بات کس منہ سے کر رہے ہیں۔ وہاں موجود ایک شخص نے ان سے سوال پوچھا کہ حکومت تو آپ کی ہے، آپ اس فیصلے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اس سوال پر بغیر تردد جواب دیتے ہوئے عامر لیاقت نے کہا کہ جو مسجدیں گراتی ہیں، وہ میری حکومت نہیں ہے۔ اسی شخص نے پوچھا تو کیا خان صاحب کو شرم نہیں آئی۔ یہ سن کر عامر لیاقت نے کہا کہ ان کو شرم آتی تو وہ یہاں ضرور آتے۔
خیال رہے کہ 28 دسمبر کو سپریم کورٹ نے کراچی کے علاقے طارق روڈ پر قائم مدینہ مسجد مسمار کرکے اس کی جگہ ایک ہفتے میں پارک کی بحالی کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے طارق روڈ کے قریب مدینہ مسجد کی تعمیر کے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹرکراچی مرتضی وہاب سے استفسار کیا تھا کہ آپ غیر قانونی مسجد کی تعمیر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ضرور کارروائی کی جائے گی۔ اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کو دیکھ کرحیرت ہوتی ہے، کام آپ کا ہے اور ہمارے حکم کا انتظار ہورہا ہے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ یہ عبادت گاہیں نہیں بلکہ اقامت گاہیں ہیں، یہ تو ہمارے سامنے آگیا ہے۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ عبادت گاہوں کیلئے نہ بجلی کا بل، نہ کوئی اور بل۔ کراچی میں کئی جگہ غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ عدالت نے طارق رود کی حدود سے لاعلمی کا اظہار کرنے پر ایڈمنسٹریٹر اور ڈی ایم سی کی سرزنش کی۔
اس موقع پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ آپ دفتروں میں بیٹھنے آتے ہیں؟ چائے پئیں، گپ شپ کریں اور گھر چلے جائیں؟ کوئی کام نہیں آپ کے پاس؟ سب کچھ کون کروا رہا ہے؟ آپ نے اس شہر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، اسے ٹھیک کرنے کیلئے دھماکہ کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ شہر جرمنی، جاپان، پولینڈ کی طرح دوبارہ بنے گا۔ چار آدمی کے گھر میں چالیس گھرانوں کو بسا دیا گیا۔ آپ کیا کر رہے ہیں؟ صرف پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں؟ پی ای سی ایچ ایس سے لے کر نارتھ ناظم آباد تک ایک ہی معاملہ ہے۔ اس کے بعد جسٹس گلزار احمد نے پارک کی فوری بحالی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مدینہ مسجد کو فوری طور پر گرا دیا جائے۔
مریم نواز، پرویز رشید کی مبینہ آڈیو منظرعام پر آ گئی
دوسری جانب سپریم کورٹ کے حکم پر طارق روڈ پر تجاوزات ہٹانے کا کام مکمل کرکے پارک بحال کرا دیا گیا ہے لیکن مسجد ابھی تک نہیں گرائی جا سکی چونکہ مذہبی تنظیمیں بڑی تعداد میں مسجد کے باہر دھرنا دیئے بیٹھی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ مذہبی تنظیموں کا مطالبہ مانا جاتا ہے یا چیف جسٹس گلزار احمد اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
