امیتابھ بچن نے بالی ووڈ کوئین کاجل کو“پیٹو“ کیوں کہا؟

”دل والے دلہنیا لے جائیں گے“ فیم کاجل کو کون نہیں جانتا؟  1995 میں ریلیز ہونے والی شاہ رخ خان اور کاجل کی یہ فلم ممبئی کے ایک تھیٹر میں آج بھی دکھائی جا رہی ہے۔ کہنے کو تو وہ بالی ووڈ ایکٹریس تنوجا کی بیٹی ہیں جنھیں ایکٹنگ ورثے میں ملی ہے لیکن کاجل کا شمار ان ایکٹریسز میں ہوتا ہے جن کی اداکاری میں چلبلا پن ہی نہیں گہرائی بھی ہے۔ جب ڈائیلاگ بولتی ہیں تو لگتا ہے ان کی آنکھیں بھی بول رہی ہیں اور ہنستی ہیں تو پورا سین کھلکھلا اٹھتا ہے۔ وہ عام زندگی میں بھی بہت زندہ دل ہیں۔ بات بات پر قہقہے لگانا اور خوب کھانا، کاجل کے دو ہی شوق ہیں اور اس کے گواہ بالی ووڈ لیجنڈ امیتابھ بچن بھی ہیں۔

امیتابھ کہتے ہیں کہ کاجل بہت ”فوڈی“ ہیں، ان کے سامنے کسی بھی قسم کا کھانا رکھ دیں یہ کھا جائیں گی۔یہ اچھی بات ہے مگر انھیں تو ہر کھانا ہی مزیدار لگتا ہے۔ شاید اسی لئے وہ کبھی ڈائٹنگ کے جھنجٹ میں نہیں پڑیں اور بغیر کھائے زیادہ سے زیادہ چار پانچ گھنٹے گزار سکتی ہیں۔ فش انڈ چپس، چائنیز ، پالک پنیر، گلوٹی کباب اور پانی پوری ان کے فیورٹ کھابے ہیں جن کا کوٹہ یہ ایک مہینے میں ادل بدل کر پورا کر لیتی ہیں۔

 ویسے تو بالی ووڈ میں شاید ہی کوئی ایکٹرس ایسی ہے جسے اپنے فِگر کے ساتھ ساتھ صحت کی فکر نہیں۔ لالی ووڈ کی ایکٹریسز کے برعکس بالی ووڈ میں جِم اور پروٹین فوڈ کا چرچا کچھ زیادہ ہی ہے۔ کرینہ کپور یعنی ”بیبو“ شادی کے بعد اپنے  سائز زیرو کو برقرا رکھ سکی ہیں یا نہیں لیکن انھوں نے ہر نئی اور پرانی ایکٹرس کو ٹرک کی بتی کے پیچھے ضرور لگا دیا ہے۔ ہر ہیروئن کا خواب کرینہ جیسی فریش نیس اور سراپا ہے۔ شلپا سیٹھی سے ملائیکہ اروڑا تک اور کترینہ کیف سے عالیہ بھٹ تک۔۔ اپنے فگر کو بنائے رکھنے کے لئے سب کی سب انتہائی ٹف ایکسرسائز کرتی ہیں، اور تو اور زیادہ تر کا تو کھانا پینا بھی ان کے خود کے کنٹرول میں نہیں۔ ڈائٹریشن کے مشورے کے بغیر وہ پانی تک کو منہ نہیں لگاتیں لیکن بالی ووڈ کی کچھ سپر سٹارز ایسی بھی ہیں جو اس گروپ سے کوسوں دور ہیں۔۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے من کو مارنے اور اچھل کود کر کے خود کو ہلکان کرنے کا فائدہ؟ یہ وہ اداکارائیں ہیں جو ایک یا دو دہائیاں قبل بالی ووڈ کے سپر سٹارز شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان اور اکشے کمار کی ہیروئنز ہوتی تھیں، جو اب بھی ہیرو ہی ہیں مگر وہ بیوی، بھابی، دیورانی جیٹھانی، حتیٰ کہ ماں کا کردار بھی بخوشی نبھا رہی ہیں۔ مادھوری ڈکشٹ، رانی مکرجی اور کاجل کا شمار ایسی ہی ایکٹرسز میں ہوتا ہے، جن کے دل کو بھی عمر کا سولہواں سال ہی بھاتا ہے،لیکن جو اپنی موجودہ ایج کو لے کر کونشیئس نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہیں اور فن کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔

انچاس سالہ کاجل تو ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر اجے کے پروڈکشن ہاؤس میں بھی خاصی ایکٹو نظر آتی ہیں۔  1999 میں کاجل کی شادی بالی ووڈ کے ایکش ہیرو اجے دیوگن سے ہوئی تھی، ان کے دو بچے ہیں بیٹی نساء اور بیٹا یوگ۔۔ بچوں کی پرورش کے لئے کاجل نے کچھ عرصہ بریک لی تھی کیونکہ وہ 24/7  کام کرنے والی بندی نہیں اور  کافی سست واقع ہوئی ہیں۔

بھارتی حکومت سے 2011 میں  پدماشری ایوارڈ  حاصل کرنے والی کاجل کو 1993 میں بریک تھرو ملا جب انھوں نے ”بازی گر“ میں  پہلی بار شاہ رخ خان کے مدِ مقابل کام کیا۔ ”ڈی ڈی ایل جے“ کے بعد 1998 میں شاہ رخ خان ہی کے ساتھ ”کچھ کچھ ہوتا ہے“ ان کی دوسری رومینٹک فلم تھی جس نے ریکارڈ بزنس کیا جبکہ ”کبھی خوشی کبھی غم“ 2001 میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں امیتابھ بچن کے ساتھ ان کی کیمسٹری کو لوگ کیسے بھلا سکتے ہیں؟ امیتابھ اس فلم میں کاجل کی مستیوں اور قہقہوں کو آج بھی یاد کرتے ہیں۔۔کاجل کی ہنسی مذاق کی عادت کو سارا بالی ووڈ جانتا ہے۔ بقول شاہ رخ خان، کاجل کو ہنسی کا دورہ پڑ جائے تو یہ نہیں رُکتیں، ہم شوٹنگ روک دیتے ہیں۔

تاہم انھوں نے اپنے فلمی کیریئر کو ہمیشہ انجوائے کیا ہے، شوٹنگز ان کے لئے فن ٹائم ہے۔ وہ کام کو سر پر سوار نہیں کرتیں اور اکثر کہتی ہیں ”کام میری زندگی کا ایک حصہ ہے، پوری زندگی نہیں“

پاکستان انتہاپسندی سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں ناکام کیوں؟

Back to top button