خیبرپختونخوانام تبدیل کرنےکی ترمیم پیش کردی گئی

اے این پی نے خیبر پختونخوا کے نام میں تبدیلی سے متعلق آئینی ترمیم سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں پیش کردی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا مشترکہ اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں ہوا، جس میں اے این پی کی جانب سے صوبے کے نام سے ”خیبر“ ہٹا کر صرف ”پختونخوا“ رکھنے کی تجویز پیش کی گئی۔
اے این پی کے سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ ”خیبر ایک ضلع ہے، اس لیے اسے صوبے کے نام کا حصہ نہیں ہونا چاہیے، دیگر صوبوں کے نام کے ساتھ بھی کسی ضلع کا نام شامل نہیں۔ ہم چاہتے ہیں صوبے کا مختصر اور تاریخی نام صرف ’پختونخوا‘ ہو۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”خیبر پختونخوا کا نام بڑا ہوجاتا ہے، لوگ اختصار میں ’کے پی‘ لکھ دیتے ہیں، اس لیے نام کو سادہ اور شناخت کے لحاظ سے واضح کیا جائے۔“
اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے ترمیم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ”اس آئینی ترمیم کو عجلت میں پیش کیا گیا ہے، ایسی اہم قانون سازی پر تفصیلی بحث ضروری ہے۔“
انہوں نے کہا کہ ”26ویں آئینی ترمیم بھی جلدبازی میں کی گئی تھی جس میں خامیاں رہ گئیں، اب دوبارہ وہی عمل دہرایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی غیرموجودگی میں اتنی بڑی ترمیم منظور کرنا جمہوری روایت کے خلاف ہے۔“
