آئی ایم ایف کے 6 رکنی مشن کی چیف جسٹس سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات

آئی ایم ایف کے 6 رکنی مشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات کی۔عدالتی امورپرتبادلہ خیال کیا۔
سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔ چیف جسٹس نے آئی ایم ایف وفد کو
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی ججز تقرری اور آئینی ترمیم پر بھی وفد سے بات چیت ہوئی۔
آئی ایم ایف وفد کی روانگی کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم کورٹ صحافیوں سے ملاقات کریں گے جس میں آئی ایم ایف مشن پر سوالات کا جواب دیں گے۔ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن اجلاس سے متعلق سوالوں کے جواب بھی دیں گے۔
وزرات خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈ مشن کی جانب سے پاکستان میں ججوں کی تقرری اور عدلیہ کی آزادی کا جائزہ لینے میں مصروف ہونے کی تصدیق کی ہے، اور کہا ہے کہ مشن کی جانب سے الیکشن کمیشن اور وزارت قانون و انصاف سے بھی مشاورت کی جائےگی۔
وزارت خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایک مشن کی گورننس اور کرپشن کے جائزہ کے لیے پاکستان آمد کے حوالے سے میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف ایک طویل عرصے سے پاکستان کو رہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا رہا ہے جس سے اچھی حکمرانی کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔
ترجمان نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پائیدار اور شمولیتی ترقی کے لیے اچھی حکمرانی کا فروغ، قانون کی حکمرانی، سرکاری شعبے کی کارکردگی، احتساب کو بہتر بنانا اور بدعنوانی سے نمٹنا حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
ترجمان نے کہاکہ آئی ایم ایف کی رہنمائی اور تکنیکی معاونت کا مقصد سرکاری شعبے میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینا ہے، روایتی طور پر آئی ایم ایف کی بنیادی توجہ ممالک کی حوصلہ افزائی کرنے پر رہی ہے کہ وہ میکرو اکنامک عدم توازن کو درست کریں، افراط زر کو کم کریں۔ کارکردگی کو بہتر بنانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی حمایت کرنے کے لیے ضروری اہم تجارت، تبادلے اور دیگر مارکیٹ اصلاحات کریں، اگرچہ اس کے تمام رکن ممالک میں ان پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
ترجمان کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر ممالک کو نجی شعبے کا اعتماد قائم کرنا اور برقرار رکھنا ہے اور اس طرح پائیدار ترقی کی بنیاد رکھنا ہے تو ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے، سرکاری شعبے کی کارکردگی اور احتساب کو بہتر بنانے اور بدعنوانی سے نمٹنے سمیت اس کے تمام پہلوؤں میں گڈ گورننس کو فروغ دینا اس فریم ورک کے لازمی عناصر ہیں جس سے معیشتیں خوشحال ہوسکتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی رہنمائی اور تکنیکی امداد سے بہتر طرز حکمرانی اور پبلک سیکٹر کی شفافیت اور احتساب کے فروغ میں مدد ملی ہے۔
