مردان میں عام شہریوں کی اموات پر انکوائری کی جائے گی : علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ضلع مردان کے پہاڑی علاقے کاٹلنگ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران عام شہریوں کی شہادتوں کے افسوس ناک واقعے کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جائےگی تاکہ حقائق سامنے آئیں۔
مردان میں آپریشن سے متعلق وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کاٹلنگ میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران عام شہریوں کی شہادتوں کا واقعہ قابل مذمت ہے۔
یاد رہےکہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا تھا کہ کاٹلنگ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک انسداد دہشت گردی کارروائی کی گئی۔
ان کاکہنا تھاکہ کارروائی کے مقام کے اطراف میں بعض غیرمسلح شہری موجود تھے،کارروائی میں غیر مسلح افراد کے مارے جانے کا افسوس ہے،جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ اور سوات سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے ڈاکٹر امجد علی نے ایک ویڈیو بیان میں اس واقعے کی تصدیق کرتےہوئے کہاکہ کاٹلنگ میں گجر برادری سے تعلق رکھنےوالے ایک خاندان کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایاگیا۔
ان کاکہنا تھاکہ حملے میں 9 افراد شہید ہوئے جن کی اب تک شناخت ہوچکی ہے، تاہم کچھ بچے اب بھی لاپتا ہیں اور لاشوں کی حالت کی وجہ سے ان کی شناخت کرنا مشکل ہے۔
علی امین گنڈاپور کا اپنے بیان میں کہنا تھاکہ اسی علاقے میں پہلے بھی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں محسن باقر اور عباس جیسے بڑے دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ سرکاری اطلاعات کےمطابق ہفتے کی صبح اسی علاقے میں دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کے دوران 12 دہشتگردوں کو ہلاک کیاگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران عام شہریوں کی شہادتوں کے افسوس ناک واقعے کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جائے گی جب کہ انکوائری رپورٹ آنے کےبعد صوبائی حکومت واقعے سے متعلق اپنا واضح موقف دے گی۔
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑےگی اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام صوبے سے دہشت گردوں کے خاتمے کےلیے پر عزم ہیں۔