کیا روبوٹس انسانی ترقی کے لیے فائدہ مند ہیں؟ سہیل وڑائچ کا تجزیہ

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ انسان ہمیشہ سے ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتا رہا ہے جہاں زندگی آسان ہو، وسائل کی فراوانی ہو اور انسان کو سخت محنت اور مشقت سے نجات مل جائے۔ ان کے مطابق قدیم فلسفے، ادبی تخیلات اور جدید ٹیکنالوجی کے نظریات دراصل اسی خواب کی مختلف شکلیں ہیں۔ تاہم اب ٹیسلا کار کے خالق ارب پتی بزنس مین ایلون مسک نے یہ دعوی کر دیا ہے کہ روبوٹس کے باعث اب وہ وقت دور نہیں جب انسان کو روزگار کیلئے مشقت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ یونانی فلسفی افلاطون نے اپنی کتاب جمہوریہ میں ایک ایسے معاشرے کا تصور پیش کیا تھا جہاں فلاسفر حکمران ہوں اور انصاف و امن کا نظام قائم ہو۔ اسی طرح سولہویں صدی کے مفکر تھامس مور نے اپنی تصنیف یوٹوپیا میں ایک ایسی خیالی ریاست کا تصور دیا جہاں انسان کم محنت اور زیادہ سکون کی زندگی بسر کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب دنیا کے مختلف خطے جنگوں، معاشی بحران اور غربت جیسے مسائل کا شکار ہیں تو اسی پس منظر میں جدید ٹیکنالوجی کے علمبردار ایک نئی دنیا کی نوید دے رہے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ امریکی ارب پتی صنعتکار ایلون مسک نے حالیہ برسوں میں پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی بدولت دنیا جلد ’دائمی فراوانی‘ کے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں انسان کو روزگار کیلئے مشقت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ایلون مسک کا دعویٰ ہے کہ مستقبل میں روبوٹس انسانی ضروریات کو پورا کریں گے اور عالمی معیشت کی ترقی کی شرح دس فیصد سالانہ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ پاکستان جیسے ممالک میں یہ شرح اس وقت دو سے تین فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسک کے یہ خیالات کسی حد تک مشرقی داستانوں اور طلسماتی کہانیوں سے مشابہت رکھتے ہیں جہاں جنات انسانوں کے حکم پر ناممکن کام بھی سرانجام دیتے تھے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ ایلون مسک کی کمپنیوں نے جہاں الیکٹرک کاروں کے میدان میں نئی جہتیں متعارف کروائیں، وہیں اب انسان نما روبوٹ بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی کے باوجود ماہرین کے نزدیک ابھی اس منزل تک پہنچنے میں وقت درکار ہے جہاں روبوٹ مکمل طور پر انسانی محنت کی جگہ لے سکیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت ایک دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے جہاں ٹیکنالوجی انسان کو ایک نئی معاشی اور سماجی حقیقت کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صنعتکار ایلون مسک کا یہ دعویٰ کہ مصنوعی ذہانت انسان کو دائمی فراوانی کے دور میں داخل کر دے گی بلاشبہ ایک بڑا اور پرکشش نظریہ ہے، مگر اس کے ساتھ کئی بنیادی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔
انکے مطابق اگر واقعی روبوٹ اور مصنوعی ذہانت انسانی محنت کا متبادل بن جاتے ہیں تو پھر سب سے بڑا مسئلہ دولت کی تقسیم کا ہوگا۔ ان کے بقول ماہرین معاشیات اور دانشور یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر انسان کام نہیں کرے گا تو معیشت کا موجودہ نظام کیسے چلے گا اور حکومتیں ٹیکس کس بنیاد پر وصول کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے امریکی سیاست دان برنی سینڈرز سمیت کئی دانشوروں نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ مستقبل کی ایسی سوسائٹی کا معاشی ڈھانچہ ابھی واضح نہیں ہے۔ اگر وسائل کی پیداوار مکمل طور پر ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوگی تو یہ طے کرنا ہوگا کہ اس پیدا ہونے والی دولت میں کمپنیوں، حکومتوں اور عام انسانوں کا حصہ کس طرح متعین کیا جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل کے سامنے کسی صورت سرنڈر نہیں کریں گے: ایرانی صدر
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ یہ بحث صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کیلئے بھی انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی دنیا میں وسائل کی فراوانی پیدا ہوتی ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان جیسے ممالک کو اس نئی عالمی معیشت میں کیا مقام ملے گا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ترقی یافتہ دنیا اس فراوانی کا بڑا حصہ اپنے پاس ہی رکھ لے۔ انہوں نے کہا کہ ایلون مسک کی پیش کردہ یہ ’خیالی جنت‘ بلاشبہ دلکش تصور ہے، مگر عملی حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار ابھی اس خواب سے خاصی پیچھے ہے اور ایسی دنیا کے قیام میں ابھی وقت درکار ہوگا۔
