PTI کے ناراض گروپوں کا پرویز الہی کی حمایت سے انکار

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن تحریک کے محرک سابق صدر آصف زرداری نے مرکز میں عمران خان کا تیاپانچہ کرنے کے بعد پنجاب کے سیاسی محاذ پر بھی متحرک ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ اپوزیشن کو دھوکا دینے والے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعظم بننے سے روکا جا سکے۔

سابق صدر نے چند روز پہلے واضح اعلان کیا تھا کہ پرویز الہی کسی صورت پنجاب کے وزیر اعلیٰ نہیں بن پائیں گے۔ آصف زرداری نے پنجاب میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے تینوں ناراض گروپوں اور ارکان اسمبلی سے رابطے کیلئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں قمر زمان کائرہ، حسن مرتضی، ندیم افضل چن اور سید علی حیدر گیلانی کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کمیٹی کے ارکان نے پی ٹی آئی کے ناراض گروپوں سے ابتدائی رابطے کر لیے ہیں۔

دوسری جانب شہباز شریف نے بھی پارٹی رہنماؤں پر مبنی ایک ٹیم حمزہ شہباز کی سربراہی میں تشکیل دے کر پنجاب کا محاذ انہیں سونپ دیا ہے۔ اس بات کا واضح امکان ہے کہ پرویز الہی کے خلاف بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی اور انہیں وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہونے سے پہلے ہی باہر کر دیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کو دھوکا دے کر عمران کے ساتھ جا ملنے والے سپیکر پنجاب اسمبلی نے پنجاب میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں متحرک تین ناراض گروپوں جہانگیر ترین گروپ، چھینہ گروپ اور علیم خاں گروپ سے حمایت حاصل کرنے کیلئے رابطے کئے ہیں لیکن ان تینوں گروپس نے وزارت اعلیٰ کیلئے وزیراعظم کے نامزد امیدوار پرویز الہی کی فوری حمایت کے اعلان سے معذرت کر لی ہے اور اپنے فیصلے وفاق میں وزئر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے نتائج سے مشروط کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے تینوں ناراض گروپوں نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے ایک مشترکہ گروپ تشکیل دینے پر بھی مشاورت شروع کر دی ہے۔ جہانگیر ترین گروپ کے ایک اہم رہنما فیصل حیات جبوانہ کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن قیادت 10 نشستوں والی قاف لیگ کو وزارت اعلیٰ دینے کا فیصلہ کر سکتی ہے تو پھر پی ٹی آئی کے 40 سے زائد ناراض ارکان کے گروپ میں سے کسی کو وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد کرنے پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس وقت جہانگیر ترین گروپ میں 20 اور چھینہ گروپ میں 14 ارکان پنجاب اسمبلی شامل ہیں جبکہ علیم خاں گروپ میں بھی 10 کے قریب ناراض ارکان اسمبلی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے دنوں ترین گروپ کے تین ارکان وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے کیمپ میں چلے گئے تھے لیکن اب وزیر اعلیٰ کے استعفے کے بعد وہ تینوں بھی ترین گروپ میں واپس آگئے ہیں۔ اسطرح اب پی ٹی آئی کے ناراض گروپوں میں ترین گروپ کے ساتھ سب سے زیادہ ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ ترین گروپ نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیر صدارت بلائی گئی آخری پارلیمانی کے اجلاس اور عشائیے میں بھی شرکت سے انکار کر دیا ہے جس سے واضح اشارے ملتے ہیں کہ وہ پرویز الہی کا ساتھ بھی نہیں دیں گے۔

ملک بھر میں اچانک بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کیوں؟

غضنفر چھینہ کے ناراض گروپ نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی کی بطور وزیراعلیٰ حمایت اعلان نہیں کیا۔ چھینہ گروپ کے سر براہ غضنفر عباس چھینہ کا کہنا ہے کہ ان کے گروپ نے ابھی تک کسی کی حمایت کا فیصلہ نہیں کیا اور ہم نے اپنا فیصلہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے فیصلے سے مشروط کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ناراض گروپوں کے اپوزیشن کی قیادت سے بھی رابطے چل رہے ہیں اور اس حوالے سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے اپنی لٹیا ڈوبتی دیکھ کر پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان پنجاب اسمبلی کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے حکومتی مشینری پولیس اور انتظامیہ کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، اس حوالے سے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو ارکان اسمبلی اجلاس میں لانے کے ہدف دئیے گئے ہیں۔

پرویز الہی اتوار کے روز قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے سے پہلے ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ ملانے کا مشن مکمل کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس حوالے سے شدید تر مشکلات کا سامنا ہے اور اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ وہ نہ صرف وزارت اعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے بلکہ پنجاب اسمبلی کی سپیکر سے بھی فارغ کر دیے جائیں گے۔

Angry PTI groups refuse to support Pervez Elahi | Video in Urdu

Back to top button