24 گھنٹوں میں بائیکاٹ یا انڈیا کے خلاف نہ کھیلنے کا اعلان

پاکستان کی جانب سے انڈیا کی میزبانی میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ پاکستان یا تو ورلڈ کپ کا مکمل بائیکاٹ کر دے گا یا بھارت کے خلاف میچز کھیلنے سے انکار کر دے گا۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اس کے صدر جے شاہ کے لیے ایک بہت بڑا مالی دھچکا ثابت ہوگا، جس کے نتیجے میں ورلڈ کپ کا متوقع ریونیو 50 فیصد سے بھی کم رہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی مجموعی براڈکاسٹنگ ویلیو کا 50 سے 60 فیصد حصہ صرف پاک بھارت میچز سے جڑا ہوتا ہے، جبکہ آئی سی سی کی سالانہ آمدن کا ایک بڑا حصہ بھارتی براڈکاسٹرز سے حاصل کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ورلڈ کپ جیسے بڑے اور اہم ایونٹ میں پاکستان کی عدم شرکت کی صورت میں سپانسرشپ اور اشتہاری ریٹس میں 50 سے 55 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسے بڑے کرکٹ بورڈز بھی بالواسطہ طور پر آئی سی سی کے ریونیو شئیر پر انحصار کرتے ہیں، ایسے میں پاکستانی بائیکاٹ کی صورت میں انہیں بھی شدید مالی دھچکا لگنے کا امکان ہے۔
پاک بھارت کرکٹ کی سرد جنگ اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں ممالک اب آر یا پار کی حکمت عملی اپنا چکے ہیں۔ ایک جانب آئی سی سی کا سربراہ جے شاہ اربوں ڈالرز کے ممکنہ نقصان کے باوجود اپنے ہٹ دھرمی پر قائم ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان نے بھی جارحانہ حکمت عملی کے تحت ورلڈ کپ کا اکھاڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بحران میں آئی سی سی ثالث کا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ بھارتی اثرورسوخ بتائی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ناقدین کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو انڈین کرکٹ کونسل کہا جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے آؤٹ کرنے کے معاملے پر آئی سی سی کے دیگر ممبر کرکٹ بورڈز اس تنازع پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ آسٹریلوی فاکس سپورٹس، برطانوی اخبار دی گارجین، الجزیرہ اور بی بی سی نے اپنی رپورٹس میں اس صورتحال کو پاکستان کرکٹ کے خلاف بھارتی جارحیت قرار دیا ہے۔ ان میڈیا اداروں کے تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاکہ پاکستان کو یا تو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر مجبور کیا جائے یا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر آمادہ کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دیگر بورڈز کو اس تنازع سے دور رکھنے کے لیے بھارت اپنی مالیاتی برتری اور براڈکاسٹنگ پاور استعمال کر رہا ہے۔ عالمی میڈیا نے بھارتی سرکار اور بھارتی میڈیا کے بیانیے کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو عالمی اور معاشی سطح پر کمزور کرنے کی یہ کوشش ایک منظم سافٹ پاور ڈومیننس حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بھارتی مؤقف یہ بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی براڈکاسٹرز اور آئی سی سی فنڈز کے بغیر پاکستان میں انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام برقرار نہیں رہ سکتا، اور اگر یہ فنڈز بند ہو گئے تو چند برسوں میں یہ ڈھانچہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بھارتی بورڈ اس حکمت عملی کو اسی وقت کامیاب سمجھتا ہے جب پاکستان ورلڈ کپ یا بھارت کے خلاف میچز کے بائیکاٹ کا انتہائی قدم اٹھائے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہوتا ہے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بطور ادارہ دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی ایونٹ ہو اس میں پاکستان اور بھارت کے میچز ہاٹ کیک کی طرح بکتے ہیں اور سب سے زیادہ ریونیو بھی انہی کے میچز سے آتا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین اور آسٹریلوی فاکس سپورٹس کے مطابق آئی سی سی اپنی غیر جانبداری کھو چکا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کو ایونٹ سے نکال کر سکاٹ لینڈ کو شامل کرنے جیسے بھونڈے فیصلے کرکٹ کی تاریخ کے متنازع ترین اقدامات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ آسٹریلوی ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، جہاں اسے اپنی ساکھ بچانے کے لیے مالی نقصان کا خطرہ مول لینا پڑ سکتا ہے۔
ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی میڈیا کے الزامات اور پراپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب کسی صورت دفاعی پوزیشن پر نہیں رہے گا۔ ذرائع کے مطابق اگلے 24 گھنٹے میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سخت فیصلے زیر غور ہیں، جن میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے مکمل دستبرداری یا بھارت کے خلاف میچز کے بائیکاٹ کا آپشن سرفہرست ہے۔
پاکستان ICC پر انڈین اجارہ داری توڑنے کے لیے کیا کرنے والا ہے؟
پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار پاکستان محض علامتی احتجاج پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ آئی سی سی کو ایک بڑے مالی اور انتظامی بحران سے دوچار کرنے کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے دوہرے معیار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ کسی ایک ملک کی ڈکٹیشن پر کام کر رہا ہے اور حتمی فیصلہ وزیراعظم کی واپسی پر تمام سخت آپشنز کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا، جن میں ورلڈ کپ کا بائیکاٹ بھی شامل ہے۔
