ججزکی تعیناتی کیخلاف اسلام آباد کی تینوں بارزکاہڑتال کااعلان

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دیگر ہائیکورٹس سےججز کی منتقلی کےفیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آبادکی تینوں بارزنے کل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
اسلام آباد کی تینوں نمائندہ بار کونسلزکے مشترکہ اجلاس نے3 ججزکے اسلام آباد ہائیکورٹ منتقلی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کیاہے۔
بارز کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ پیکاایکٹ کےذریعے میڈیا کو فتح کرلیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کو فتح کرنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔
بار کونسلز 3 ججز کے اسلام آباد ہائیکورٹ منتقل ہونے کا نوٹیفکیشن ہرفورم پرچیلنج کریں گی،جوڈیشل کمیشن کاسپریم کورٹ کے ججزکی تعیناتی کیلئے 10 فروری کا اجلاس مؤخرکیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججزکےخط کےساتھ ہیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ سے ہی لگایا جائے۔
بارز کی قرارداد میں کہا گیاہے کہ3 فروری11 بجے تمام بارکونسلزکے زیر اہتمام وکلا کنونشن کا انعقاد کیا جائےگا، اسلام آباد ہائیکورٹ اورماتحت عدالتوں میں3 فروری کو وکلا ہڑتال کریں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بارکےصدرریاست علی آزاد نےکہا کہ سینئرموسٹ جج کو چیف جسٹس بنانا تھا،26 ویں آئینی ترمیم میں بھی یہی لکھا ہے،آئینی ترمیم ریاست علی آزاد نے کہا کہ بھی بدنیتی پر مبنی تھی، اس کےباوجود ٹرانسفرکیے جا رہے ہیں۔وکلا تحریک آج بھی چل رہی ہےلیکن کچھ لوگ اقتدار میں بیٹھ کرفائدہ لے رہے ہیں، پیکا کےتحت آپ نے میڈیا کی آزادی کو سبوتاژ کردیا ہے، جہاں میڈیا اور عدلیہ آزاد نہ ہوں وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
صدراسلام آبادڈسٹرکٹ بارنعیم علی گجر نےکہا کہ جب قانون پاس ہونا ہو یا کوئی آئین شکنی ہوتو وکلا ہی سامنےآتےہیں،سیاسی جماعتیں جب اقتدارمیں آتی ہیں تو ماضی بھول جاتی ہیں، ہم کسی جج یا شخصیت کےساتھ نہیں،عدلیہ اور آئین کےساتھ کھڑے ہیں، تین سینئر ججز میں سے ایک کو چیف جسٹس بنانا ہوگا۔
نعیم علی گجر نے مزید کہا کہ وکلا باہر سےآنےوالےججزکےخلاف بھرپور احتجاج اور مزاحمت کریں گے،ہم کل ہڑتال کااعلان کر رہےہیں،حکومت اور اپوزیشن آئین وقانون کی دھجیاں نہ بکھیریں۔
