ڈیجیٹل کرائم کے خلاف اقدامات کی سالانہ رپورٹ جاری

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ڈیجیٹل جرائم سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی کی قیادت میں این سی سی آئی اے نے قومی سلامتی کے تحفظ اور ملک کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اور بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
ایجنسی نے سائبر کرائم کے 2196 بڑے مقدمات کی کامیاب تفتیش کی، 36 فیصد کیس ریزولوشن کی شرح حاصل کی، 2902 ملزمان کو گرفتار کیا اور 774 مقدمات میں کامیاب قانونی کارروائی کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم 5 بڑے منظم سائبر کرائم نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا گیا، جبکہ سائبر فراڈ اور مالی جرائم کے متاثرین سے 461 ملین روپے سے زائد کے اثاثے برآمد کیے گئے۔
این سی سی آئی اے نے 46 ہزار 56 جعلی بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل اثاثے منجمد کروائے۔ خصوصی آپریشنز کے تحت بچوں کے استحصال کی روک تھام کے لیے آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں 35 مقدمات درج کرکے 35 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
خطرات کی تشخیص کے لیے جدید سائبر انٹیلی جنس پلیٹ فارمز استعمال کیے گئے، جبکہ وفاقی اور صوبائی اداروں سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد قانون نافذ کرنے والے افسران کو سائبر تفتیشی صلاحیتوں کی تربیت دی گئی۔
اس کے علاوہ قومی سطح پر بیداری اور آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا، جس کا ہدف 20 لاکھ شہریوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ ابھرتے ہوئے خطرات جیسے فشنگ، شناخت کی چوری اور کرپٹو کرنسی اسکیمز کے حوالے سے 30 سے زائد پبلک سروس ایڈوائزریز بھی جاری کی گئیں۔
ایجنسی کے مطابق سائبر کرائمز کی تفتیش، قانونی کارروائی اور روک تھام کے ذریعے تمام شہریوں اور کاروباروں کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانا اس کا بنیادی مینڈیٹ ہے۔
