کیا لارڈ نذیر کیخلاف جنسی ہراسانی کے الزام سازش ہیں؟


برطانیہ میں لیبر پارٹی کیلئے طویل عرصہ تک کام کرنے کے بعد 2019 میں ہاؤس آف لارڈز کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہونے والے لارڈ نذیر احمد کو 50 برس پرانے جنسی زیادتی کے الزامات میں قصور وار تو قرار دیدیا گیا لیکن انہوں نے خود پر لگائے گے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لارڈ نذیر احمد کیساتھ ان کے بھائیوں 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق پر بھی اسی لڑکی اور لڑکے کے خلاف جنسی حملے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، لیکن دونوں کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے ’’فٹ‘‘ نہیں ہیں۔ لیکن لارڈ نذیر کے بھائیوں کے بارے بھی جیوری نے شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یے کہ وہ بھی 1970 کی دہائی میں جنسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ لارڈ نذیر احمد نے نومبر 2020 میں ہاوس آف لارڈز سے تب استعفی دے دیا تھا جب ہاوس کی کنڈکٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ نذیر ایک آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی اپنی ایک 43 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون عزیزہ کے جنسی استحصال کے مرتکب ہوئے تھے۔ لارڈ نذیر کو لیبر پارٹی کے لیے طویل عرصہ کام کرنے پر سال 2019 میں ہاوس آف لارڈز کا رکن بنایا تھا، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے مسلمان رکن تھے، اس سے قبل 1998 میں ان کو وزیراعظم ٹونی بلئیر کی سفارش پر ’ لائف پئیر‘ بنایا گیا تھا جو کہ برطانوی نظام میں بہت ہی نوبیل ذمہ داری ہوتی ہے۔ برطانیہ میں مقیم بیرسٹر امجد ملک کے مطابق لارڈ نذیر نے چالیس سال سے بھی زیادہ عرصہ تک کمیونٹی کی خدمت کی ہے۔ لہذا ان کو سزا تو دی جا سکتی ہے لیکن امکان یہ ہے کہ انہیں گرفتار کیے بغیر سزا ہو۔ لیکن بیرسٹر امجد کے بقول جج لیے مسئلہ یہ ہو گا کہ اس سزا میں یہ تاثر نہ جائے کہ نذیر احمد کی ہائوس کی سابقہ رکنیت یا سیاسی قد کاٹھ کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ بیرسٹر امجد کہتے ہیں کہ قانون اور آئین کے سامنے سر تسلیم خم ہے۔ کوئی بھی برطانوی پاکستانی شخص کسی بھی جرم کی حمایت نہیں کر سکتا، جو کچھ ہوا ہے، بہت افسوسناک ہے، سزا کی حیثیت پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا، البتہ کئی ذہنوں میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے لیے ایک جاندار آواز خاموش کرا دی گئی ہے۔
لیکن برطانیہ میں پاکستانی نژاد ایک رکن پارلیمنٹ نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر اس مقدمے کے حوالے سے کہا کہ وہ اس سازشی نظریے پر یقین نہیں رکھتے کہ لارڈ نذیر احمد کو ان کے نظریات یا ان کی کسی کاز پر آواز کی وجہ سے گرفت میں لیا گیا، انکو سزا باقاعدہ دونوں فریقوں کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اور مقدمے کی تفصیل سے سماعت کے بعد ہوئی ہے۔ اس کیس میں چونکہ اپنی ہی کمیونٹی کے لوگ مدعی ہیں تو یہ سوچنا محال ہے کہ ان کے خلاف باقاعدہ سازش سے مقدمہ بنایا گیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ کے مطابق زیادہ سے زیادہ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ خاندان کے درمیان کسی مخاصمت کو برا رنگ دے دیا گیا ہو کیونکہ جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے والے لارڈ نذیر کے رشتہ دار ہیں، انہوں نے کہا کہ مغربی معاشرے اس طرح کے جرائم بہت حساس ہوتے ہیں اور اسی لیے ایک برطانوی شاہی خاندان کے رکن کو بھی امریکہ میں جنسی ہراسانے کے مقدمے کا سامنا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس نہیں، ملکہ کے بیٹے کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چل رہا ہے اور وہ بھی پرانا کیس ہے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ اہم پہلو یہ ہے کہ جب جرم سرزد ہوا اس وقت فریقین کی عمر کیا تھی، اگر دونوں کم عمر ہوں، بچے ہوں تو اس کو اور طرح سے دیکھا جاتا ہے، اگر ایک فریق بالغ ہو اور دوسری فریق نابالغ تو اس کو اور طرح سے دیکھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والے، ستر کی دہائی کے کم عمر لڑکے اور لڑکی کی شناخت کو خفیہ رکھا گیا ہے، اکا دُکا میڈیا رپورٹس میں مدعین کا نام آیا ہے لیکن پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی برطانیہ میں موجود کمیونٹی اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتی تاہم اس بارے میں یہ رائے عام ہے کہ مدعی افراد کا تعلق کشمیری کمیونٹی اور خاندان سے یا خاندان کے قریبی تعلق داروں سے ہے۔

Back to top button