دہشت کی علامت بننے والے CCD میں مزید ایک ہزار بھرتیاں

پنجاب حکومت نے جرائم کے خلاف ماورائے عدالت سخت کارروائیوں اور متنازع پولیس مقابلوں کے باعث خوف اوردہشت کی علامت بننے والے سی سی ڈی یعنی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مریم نواز حکومت نے سی سی ڈی پر جاری تنقید کو مسترد کرتے ہوئے ایک ہزار نئی بھرتیوں کی منظوری دے کر اس فورس کو نہ صرف عددی بلکہ ساختی طور پر بھی مضبوط بنانے کا عندیہ دے دیا ہے، حکومتی فیصلے کے بعدآنے والے دنوں میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ صوبے میں سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے نظام میں ایک اور طاقتور کردار ادا کرتادکھائی دیتاہے۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سی سی ڈی ماورائے عدالت غیر آئینی اقدامات کی وجہ سے اپنے قیام کے بعد سے ہی مسلسل تنقید کی زد میں ہے۔ تاہم مریم نواز حکومت نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو ایک جدید، خودمختار اور خصوصی جرائم تحقیقاتی ایجنسی میں تبدیل کرنے کے عمل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ایک ہزار نئی آسامیوں کی منظوری دے دی ہے۔اس منصوبے کے تحت سی سی ڈی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایس ایس جی پس منظر رکھنے والے ریٹائرڈ کمانڈوز کو بطور انسٹریکٹرز لانے کا بھی فیصلہ کر لیاہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی سی سی ڈی کو ایک معیاری جرائم تحقیقاتی ایجنسی میں تبدیل کرنے کا اعلان کر چکی ہے، جس کے تحت اس کے لیے الگ دفاتر، تھانے اور دیگر ڈھانچے قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مفاہمتی گروپ نے مریم نواز کے ساتھ ہاتھ کیسے ملایا؟
سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب سی سی ڈی کے قیام کے وقت اس کے لیے مجموعی طور پر سات ہزار 486 افسران و اہلکاروں کی نفری منظور کی گئی تھی۔ اس میں تین ہزار 904 نئی آسامیاں شامل تھیں، جبکہ تین ہزار 582 نفری پنجاب پولیس کے موجودہ وسائل سے فراہم کی گئی تھی جبکہ اب مزید ایک ہزار نئی بھرتیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی سی ڈی کے اس توسیعی منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سی سی ڈی کو محض ایک آپریشنل فورس کے بجائے ایک مستقل، الگ شناخت رکھنے والے ادارے کے طور پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔جس کے تحت صوبے کے ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر سی سی ڈی کے دفاتر، پولیس سٹیشنز اور رہائشی سہولتیں قائم کی جائیں گی، جبکہ ادارے کے ہیڈکوارٹر کو بھی جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ حکومتی حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ سی سی ڈی کو روایتی پولیسنگ کے بجائے ایک زیادہ جارحانہ، خصوصی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کام کرنے والی فورس کے طور پر وسعت دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق سی سی ڈی نے اپریل 2025 میں قیام کے بعد ’پروایکٹو، ٹارگٹڈ اور انٹیلی جنس ڈرِوَن‘ ماڈل اختیار کیا، جس کے نتیجے میں ڈکیتی، ہاؤس رابری، کار و موٹر سائیکل سنیچنگ، کار و موٹر سائیکل چوری اور ڈکیتی مع قتل جیسے جرائم میں 36 فیصد سے 64 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
ناقدین کے مطابق سی سی ڈی کی یہ توسیع ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اس ادارے کے ماورائے عدالت اقدامات پر سخت سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ اپریل سے دسمبر 2025 کے درمیان سی سی ڈی کی کارروائیوں میں 670 مبینہ پولیس مقابلوں کے نتیجے میں 924 افراد مارے گئے۔ الجزیرہ سمیت بین الاقوامی میڈیا نے بھی ان الزامات کو نمایاں انداز میں رپورٹ کیا۔ دوسری جانب پنجاب پولیس اور سی سی ڈی نے ماورائے عدالت اموات اور جعلی مقابلوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جرائم میں نمایاں کمی ادارے کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔ اسی وجہ سے اس کے دائرہ کار میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے،
