ایک اور NGO پاکستانی بچے بیرون ملک فروخت کرتے پکڑی گئی

پاکستان میں انسانی ہمدردی، بچوں کی فلاح اور این جی اوز کے نام پر جاری مکروہ سرگرمیوں کا حقیقی چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا۔امریکی شکایت پر برنی ٹرسٹ کےبعد ایک اور پاکستانی این جی او ، ڈالرز کے عوض پاکستانی بچے فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے غیر سرکاری تنظیم ہوپ کی چئیرپرسن مبینہ قاسم کو گرفتار کر کے’کم عمر بچوں کی غیر قانونی سمگلنگ کے کاروبار‘ میں ،ملوث ہونے بارے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہےجبکہ مرکزی دفتر سے قبضے میں لئے گئے لیپ ٹاپ کمپیوٹرز اور دستاویزی ڈیٹا کی چھان بین بھی شروع کر دی ہے۔ ایف آئی اے حکام نے این جی او کی عہدیدار کے ساتھ رابطے میں رہنے والے مقامی اور بیرون ملک مقیم افراد کو بھی شامل تفتیش کرنے اور ان کے بینک اکاؤنٹس کا ڈیٹا طلب کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے
بچوں کی اسمگلنگ کے نئے اسکینڈل میں این جی او ہوپ کی چیئر پرسن کی گرفتاری کے بعد سنسی خیز انکشافات سامنے آنے لگے ہیں۔ڈاکٹر مبینہ قاسم کی گرفتاری نہ صرف ایک فرد یا تنظیم کا معاملہ ہے، بلکہ اس سے پاکستان میں انسانی حقوق اور ویلفیئر کے نام پر انسانی سمگلنگ کے خفیہ نیٹ ورک کی پرتیں بھی کھلنے لگی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہوپ بظاہر ایک ویلفیئر ادارہ تھی۔ جو برسوں سے ملک میں صحت تعلیم اور سماجی خدمات کے شعبے میں سرگرم نظر آتی رہی۔ لیکن حالیہ شواہد نے اس تصور کو چکنا چور کر دیا ہے۔ دراصل، یہ تنظیم حقیقت میں ایک منظم بین الاقوامی انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ نکلی۔ جو بچوں کو بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے جعلی کاغذات، فرضی سرپرست اور جھوٹے معاہدے استعمال کرتا ہے۔ تحقیقات اس وقت تیز ہوئیں، جب امریکی قونصل خانے نے ایف آئی اے کو شکایت درج کروائی جس میں این جی او کے توسط سے بھیجے گئے چند بچوں کی دستاویزات میں خطرناک حد تک تضادات کی نشاندہی کی گئی ۔ شکایات میں بچوں کے والدین یا سر پرستوں کی عدم موجودگی اور ان کی شناخت کے ناقابل یقین دعوے شامل تھے۔ امریکی شکایت کے بعد ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے اس معاملے کی گہرائی میں جا کر ایسے ناقابل تردید شواہد حاصل کیے، جنہوں نے ہوپ کے اصل مقاصد کو آشکار کر دیا کہ کیسے این جی او کے بینر تلے ڈالرز کے بدلے پاکستانی بچے امریکہ سمیت مختلف یورپی ممالک میں فروخت کئے جا رہے تھے۔
ڈاکٹر مبینہ قاسم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست کی۔ تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ اُسی روز ڈاکٹر مبینہ کو حراست میں لے لیا گیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈاکٹر مبینہ کی گرفتاری ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن کی شروعات ہے۔ جس کے تحت مزید افراد، بیرون ملک رابطہ کار اور مقامی سہولت کاروں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق این جی او ہوپ کا یہ سکینڈل اگر چہ سنسنی خیز ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب انسانی حقوق کی آڑ میں بچوں کی مشتبہ منتقلی کا انکشاف ہوا ہو ۔ 2025ء کے آغاز میں مشہور سماجی کارکن صارم برنی بھی ایک متنازع کیس میں ملوث پائے گئے تھے۔ اس حوالے سے امریکی شکایت پر صارم برنی اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد انسانی سمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب ہوا تھا۔ اس کیس کی فائل میں موجود تضادات، قانونی خلا اور دستاویزی کمزوریاں آج بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں آیا کہ ایک اور این جی او کے اس مکروہ فعل میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے بقول ایف آئی اے کی فائلوں میں ایسے کئی کیسز موجود ہیں۔ جن میں بچوں کی بیرون ملک منتقلی مشتبہ انداز میں ہوئی۔ 2015ء میں لاہور میں ایک این جی او کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔ جہاں سے متعدد جعلی کفالت نامے، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور ویزا درخواستیں برآمد ہوئیں۔ اس تنظیم نے کئی غریب خاندانوں سے بچوں کو مفت تعلیم اور کفالت کے نام پر لے رکھا تھا۔ لیکن ان میں سے کئی بچوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں
تھا۔ اس کے علاوہ 2018 ء میں پشاور میں ایک غیر معروف تنظیم کے دفتر سے بھی اس نوعیت کا مواد برآمد ہوا تھا۔ اس کے دفتر میں غیرملکی ایجنٹس کی آمد ورفت اور بین الاقوامی کالز کے ریکارڈ نے شکوک کو بڑھادیا تھا۔ بچوں کو خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ میں کفالت یا گود لینے کے نام پر بھجوایا جار ہا تھا۔ لیکن قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے جارہے تھے۔ تاہم ابھی تک ان میں سے کوئی بھی نیٹ ورک یا اس کے سرغنہ انجام تک نہیں پہنچ پائے۔
ملک ریاض کے خلاف نیب کے ایکشن سے سرمایہ کار پریشان
ایف آئی اے حکام کے مطابق اس حوالے سےا نھیں مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے کیسز کو انجام تک پہنچانے میں سب سے بڑی رکاوٹ قانونی نظام کی پیچیدگیاں اور عدالتی سطح پر ثبوتوں کی کمزوری ہے۔ بیشتر کیسز میں متاثرہ بچوں کے والدین یا سر پرست گواہی دینے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں جبکہ طاقتور این جی اوز کے سیاسی روابط بھی اکثر تفتیشی عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ ساتھ ہی بین الاقوامی اداروں اور سفارت خانوں کے ساتھ محدود معلوماتی روابط کے باعث کئی بار تفتیش کی راہ میں رکاوٹ آجاتی ہے۔ حکام کے مطابق ہوپ این جی او کا سکینڈل محض ایک فرد یا ادارے کا جرم نہیں۔ بلکہ ایک پورے نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔ اگر ایسے کیسز کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو پاکستان میں فلاحی تنظیموں پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ یہ وقت ہے کہ حکومت ، عدالتیں اور تحقیقاتی ادارے مل کر اس نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑیں۔ ورنہ انسانی حقوق کے نعرے کے پیچھے انسانیت کا سودا ہوتا رہے گا۔
