انڈیا کی پہلگام حملہ پاکستان پر ڈالنے کی ایک اور مضحکہ خیز کوشش

بغیر کسی ثبوت کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر کے اس پر حملہ آور ہونے والے بھارت نے اب یہ مضحکہ خیز دعوی کیا ہے کہ حملے میں ملوث تینوں پاکستانی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جس کا ثبوت یہ دیا گیا ہے کہ جھڑپ میں مارے جانے والے ‘آتنک وادیوں’ سے پاکستانی ووٹر نمبرز اور پاکستانی چاکلیٹ برآمد ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی شہری کا مستقل ووٹر نمبر نہیں ہوتا اور الیکشن والے دن ہی اسے اپنا ووٹر نمبر پتہ چلتا ہے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے بعد سے اپوزیشن کی جانب سے مودی سرکار سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ اس کے ذمہ داروں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کرنے میں کیوں ناکام رہی۔ اسی سوال کا جواب دینے کے لیے گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا گیا جس سے پہلے نام نہاد پاکستانی دہشت گردوں کو مارنے کا ڈرامہ سٹیج کیا گیا۔ انڈین پارلیمان کا اجلاس شروع ہونے کی صبح بھارتی میڈیا کو اس خبر سے بھر دیا گیا کہ پہلگام حملے کے ذمہ دار تین پاکستانی دہشت گرد سری نگر کے نواح میں واقعہ پہاڑی مقام ڈاچی گام کی ایک گھاٹی میں مار دئیے گے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ کپڑوں کی تلاشی کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں سے پاکستان ووٹر نمبرز بھی برآمد کر لئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستانی عموماَ اپنی جیب میں شناختی کارڈ رکھتے ہیں اور انہیں اپنے ووٹر نمبر کا اسی دن پتہ چلتا ہے جب وہ پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔ اس لیے بھارتی سرکار کا یہ دعوی ایک لطیفے سے کم نہیں کہ تینوں دہشت گرد اپنی جیبوں میں پاکستانی ووٹرز نمبرز ڈال کر پھر رہے تھے۔ دوسرا لطیفہ یہ تھا کہ دہشت گردوں سے پاکستانی چاکلیٹ برآمد ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید اپنے سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ بھارتی پارلیمان میں پاک-بھارت جنگ کے بارے میں عام بحث کے آغاز سے عین ایک دن قبل پہلگام حملے کے ’’ذمہ داروں‘‘ کا سراغ لگا کر انہیں ہلاک کر دینا جائز بنیادوں پر اپوزیشن جماعتوں کو ڈرامہ لگا۔ ویسے بھی پہلگام اور ڈاچی گام میں بہت فاصلہ ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ نے یہ دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کے پہلگام سے ڈاچی گام تک سفر کا مئی میں پتہ چلا لیا گیا تھا۔ لہذا بھارتی اپوزیشن پارلیمان میں یہ سوالات اٹھاتے ہوئے حق بجانب تھی کہ مئی میں دریافت دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کرنے کی بجائے جولائی کے آخری ہفتے میں پارلیمان میں پاک- بھارت جنگ پر بحث سے ایک دن قبل کیوں اور کیسے ماردیا گیا۔
بھارتی پارلیمنٹ میں بحث کے دوران دوسرا اہم سوال یہ تھا کہ کیا پاک بھارت جنگ امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت پر روکی گئی جیسا کہ وہ مسلسل دعوی کیے چلے جا رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں یاد دلایا کہ امریکی صدر 29 بار یہ دعویٰ کرچکا ہے کہ اس نے پاک-بھارت جنگ رکوائی ہے۔ راہول بطور اپوزیشن لیڈر یہ تقاضہ کرتا رہا کہ اگر جنگ امریکہ کی مداخلت پر نہیں روکی گئی تو مودی صدر ٹرمپ کا نام لے کر اسے جھوٹا قرار دے۔ اس بنیادی سوال پر توجہ دینے کے بجائے مودی نے بحث کے اختتام پر ہوئی تقریر میں محض یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ جنگ ’’کسی بیرونی ملک کی خواہش پر نہیں روکی اور یہ کہ جنگ بندی کی التجا درحقیقت پاکستان کی جانب سے آئی تھی۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مودی کے اس دعوی ٰکے بعد اپوزیشن جماعتیں بیک آواز چلانے لگیں کہ اگر پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے جنگ بندی کی ’’فریاد‘‘ کی تھی تو اس کی ریکارڈنگ پارلیمان میں سنوائی جائے کیونکہ جہاز تو بھارت کے گرے اور پائلٹ بھی اسی کے مارے گئے لہذا جنگ روکنے کی التجا بھی بھارت کی طرف سے ہی کی گئی ہو گی، جیسا کہ میڈیا نے رپورٹ بھی کیا ہے۔ تاہم مودی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
پانچ اگست کو PTI کا سیاسی دھڑن تختہ ہونا یقینی کیوں ہے؟
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ بھارت میں اپوزیشن جماعتوں کے شدید دباؤ کے بعد ہی مودی حکومت پاک – بھارت جنگ کو ایوان میں زیر بحث لانے پر مجبور ہوئی رھی۔ بھارتی پارلیمان کی کارروائی کو براہ راست دکھانے کے لئے مختص ٹی وی نے 64 گھنٹوں تک چلی اس بحث کو کسی بھی قسم کا ایڈیٹ لگائے بغیر دکھایا۔ اس دوران اپوزیشن جماعتوں کے سوالات کے تسلی بخش جوابات فراہم کرنے کی بجائے مودی کانگریس پر یہ الزام دھرتے رہے کہ اس کے رہ نما پاک بھارت جنگ کے حوالے سے ویسے ہی سوالات اٹھارہے ہیں جیسے کہ پاکستان میں اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے تو انڈیا کی سب سے پرانی جماعت کانگریس کو پاکستانی ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ سے چلائی جانے والی جماعت بھی قرار دے دیا۔ موصوف نے یہاں بات ختم نہیں کی۔ انہوں نے بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو ’سندھو دریا‘ کا 80 فیصد پانی پاکستان کے حوالے کردینے کا ذمہ دار بھی ٹھہرا دیا۔ اس کے بعد کانگریس کی جانب سے آئے وزرائے اعظموں کوبھی وہ ’’پاکستان کے جانب سے ہوئی مسلسل دہشت گردی‘‘ کے باوجود اسی ملک کے ساتھ تجارت کو بے چین ہونے کے طعنے بھی دیتے رہے۔
وزیراعظم مودی نے اپنی اپوزیشن کو چپ کروانے کے لیے 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ذکر بھی چھیڑ دیا۔ جنگ کے دوران انڈیا کے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات دینے کے بجائے مودی کانگریس کو یہ مشورہ دیتے ہوئے سنائی دیئے کہ وہ اندرا گاندھی کے خاندان سے آزادی حاصل کر کے خود مختار اور آزاد ہو کر فیصلے کرے۔ یاد رہے کہ پاک-بھارت جنگ 6 سے 10 مئی 2025 کے دوران 87 گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔ اس کا آغاز بھارت کی جانب سے ہوا تھا۔ 22 اپریل 2025ء کے دن مقبوضہ کشمیر کے ایک سیاحتی مقام جو پہلگام وادی کی ایک خوب صورت گھاٹی پر واقع ہے دہشت گردی کی ایک ہولناک واردات ہوئی۔ اس کے دوران نامعلوم دہشت گردوں نے 26 ہندو سیاحوں کو گولیاں مارکر ہلاک کر دیا تھا۔ بناکسی ٹھوس ثبوت کے بھارت نے یہ الزام لگا دیا کہ پہلگام کے حملہ آور پاکستان سے بھجوائے گئے تھے اسکے بعد بھارت بدلہ لینے کی دھمکیاں لگانے لگے۔ بالاخر جب بھارتی ایئر فورس پہلگام حملے کی اڑ میں پاکستان پر حملہ آور ہوئی تو اسے ناکوں چنے چبانے پڑ گئے۔
