پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پھربدمزدگی ،سوشل میڈیا ٹیم پرتنقید

تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور دیگر رہنماؤں نے سوشل میڈیا ٹیم اور قیادت پر برہمی کااظہار کیا۔

خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جہاں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اجلاس میں ارکان کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ 20 اور 21 دسمبر کو 8 فروری کا اعلان ہوا اور آج ارکان اس سلسلے میں اکٹھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 29 دسمبر سے اب تک عمران خان کے اہل خانہ کو ملنے نہیں دیا گیا، حکومت نے 24 اور 25 جنوری کو رات پمز لایا اور اس سے پہلے دو ہفتے آنکھ کی تکلیف رہی، جیل کے ڈاکٹروں کے بعد پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا کہ آنکھ ضائع ہو سکتی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی کی صحت قدرے بہتر ہے اسے ٹھیک نہیں کہہ سکتے ہیں، وزیراعظم کی ٹیم نے کہا ڈاکٹروں کی خط پر ایک دن میں فیصلہ ہو جائے گا۔

سلمان اکرم راجہ نے اجلاس کے شروع میں اپوزیشن کی حکمت عملی اور اجلاس سے ارکان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی کی صحت کے معاملے کو نارمل نہیں لیا جانا چاہیے، 8 فروری کو ہڑتال ہو گی مغرب کے بعد ریلیاں نکالیں اور دیے گئے پلان پر عمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے لیے سب کو کام کرنا ہوگا باہمی مشاورت سے بانی کی صحت کے لیے یکجا ہوں۔

اجلاس کے دوران پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمعین قریشی نے پارٹی ارکان پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم سب کو اپنی اپنی بساط اور صوبے کے مطابق کام کرنا ہوگا، پنجاب میں کبھی اپوزیشن اکٹھی نہیں ہوئی لیکن اوچھے ہتھکنڈوں کے باجود سب اکٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ اس کے باجود بہت کچھ کہا جاتا ہے، ہم انسان ہیں ہر شخص کے ساتھ خوشی غمی ہوتی ہے، اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے نہ آئے تو اس پر سوشل میڈیا پر الزامات اور گالیاں دی جاتی ہیں۔

معین قریشی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اراکین صوبائی اسمبلی کی تضحیک کی جاتی ہے اور سوشل میڈیا کو چمکایا جاتا ہے، اگر سوال پوچھنا ہے مجھ سے پوچھو لیکن خدارا یہ انداز نہیں اپناؤ۔

انہوں نے کہا کہ قیادت سے کہتا ہوں ایک طرف حکومت دوسری طرف ہمارا سوشل میڈیا ہی ہماری تذلیل کرتا ہے، ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہم پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر پنجاب کی تقریر کے دوران شیخ وقاص اکرم نے انہیں ٹوک دیا اورکہا کیا ہم سب سن سکتے ہیں یا بول بھی سکتے ہیں۔معین قریشی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے پنجاب صوبے کی طرف سے ہر آپشن کو سیاسی کمیٹی کے سامنے رکھا، ہم پوری کوشش کریں گے آپ ہم پر اعتماد کریں۔

Back to top button