دو صوبائی انتخابات ناممکن ، معاملہ سپریم کورٹ طے کرے گی؟

فوج اور عدلیہ سمیت سب کے سب وفاقی اور صوبائی اداروں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مقررہ تاریخوں پر صوبائی انتخابات کروانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں، یہاں تک کہ ملک کی دو سرفہرست خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو نے بھی سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر ان صوبائی انتخابات کے انعقاد کے مخالفت کی ہے جس کے بعد پنجاب میں 30 اپریل اور خیبر پختونخواہ میں 28 مئی کی طے کردہ تاریخوں پر دونوں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کا باخبر ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک بھی ایسا وفاقی اور صوبائی ادارہ نہیں ملا جو ان انتخابات کیلئے تیار ہے اس ضمن میں کئی وجوہات بتائی گئی ہیں جن میں امن عامہ کی صورتحال، مالی اور انتظامی مسائل شامل ہیں۔ عدلیہ اور فوج بھی وہ کام کرنے کیلئے تیار نہیں جس کی توقع الیکشن کمیشن اُن سے لگائے بیٹھا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور اب کمیشن خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کے فیصلے کی منتظر ہے جس کے بعد کمیشن یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھیج دے گا کیونکہ عدالت نے ہی صوبوں میں 90؍ دن میں الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کمیشن کو مختلف اسٹیک ہولڈرز سے جو معلومات موصول ہوئی ہیں اس سے لگتا ہے کہ پنجاب میں 30؍ اپریل اور کے پی میں 28؍ مئی کو شفاف، منصفانہ اور پر امن ماحول میں الیکشن ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ اگر آئین کے رو سے الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کرانے کا پابند ہے تو یہی آئین کمیشن سے تقاضہ کرتا ہے کہ یہ انتخابات شفاف اور منصفانہ انداز میں اور پر امن ماحول میں کرائے جائیں۔ ذرائع کے مطابق، کمیشن نے اب تک وزارت خزانہ، داخلہ ڈویژن، آئی ایس آئی، آئی بی، سی ٹی ڈی، چیف سیکریٹریز اور آئی جی پولیس پنجاب اور آئی جی پولیس کے پی، گورنر صاحبان، وزارت دفاع، ڈی جی ایم او، ڈائریکٹوریٹ جی ایچ کیو سے مشاورت کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ملک کی صورتحال آئین کے مطابق بتائی ہوئی تاریخوں پر الیکشن کرانے کیلئے سازگار نظر نہیں آتی۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس الیکشن کیلئے پیسہ نہیں کیونکہ ملک کی معاشی صورتحال ٹھیک نہیں۔ وزارت داخلہ، آئی ایس آئی اور آئی بی وغیرہ نے سیکورٹی خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پر امن انداز سے الیکشن ممکن نہیں۔
ان ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس نے نہ صرف امن عامہ کی صورتحال کو مخدوش قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ نفری کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے پولنگ اسٹیشن پر اوسطاً ایک ؍ اہلکار ہی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس میں تین لاکھ اہلکاروں کی کمی ہے۔ کے پی حکومت نے امن عامہ کے حوالے سے سنگین خدشات کا ذکر کیا ہے اور کمیشن کو بتایا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے انٹیلی جنس اطلاعات مل رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کے پی حکومت نے درخواست کی تھی کہ کابینہ کے اجلاس کے بعد رواں ہفتے کمیشن کو فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔ وزارت دفاع اور ڈی جی ایم او نے کمیشن کو مسلح افواج کی سرحدوں پر فرائض کی انجام دہی اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ دہشت گردی کی روک تھام، بلوچستان اور کے پی میں امن عامہ کی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات کی وجہ سے نفری تعینات کی گئی ہے۔ دفاعی حکام نے سیکورٹی کے حوالے سے ذمہ داریوں کے باعث پولنگ اسٹیشن پر الیکشن کی ڈیوٹی سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کسی بھی طرح کی فوری کارروائی کیلئے دستیاب ہوگی لیکن یہاں بھی حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ فوج سے سیکورٹی کے حوالے سے اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر الیکشن کیلئے سمجھوتہ کرنے کیلئے کہے گی یا نہیں۔ جوڈیشل افسران کے کردار اور ریٹرننگ افسران اور ڈپٹی ریٹرننگ افسران کے حوالے سے کمیشن ذرائع کہتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ نے پہلے ہی ڈسٹرکٹ ججز سے الیکشن ڈیوٹی کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کے پی کابینہ کا حتمی فیصلہ جاننے کے بعد الیکشن کمیشن پوری صورتحال کا مفصل جائزہ لے گا اور الیکشن کے انعقاد کے امکانات پر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر سکتا ہے۔
