سلیم صافی میڈیا مخالف ہتک عزت قانون کی حمایت کیوں کر رہے ہیں

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے میڈیا کے احتساب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلی مریم نواز کی صوبائی حکومت نے سوشل میڈیا کو جوابدہ بنانے کے لیے ہتک عزت بل لانے کا صحیح کام بھی غلط طریقے سے کیا ہے اس لیے اب تمام صحافی تنظیمیں اس کے خلاف یکجا ہو کر کھڑی ہو گئی ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ میڈیا کے خلاف جو شکایات اور غصہ پایا جاتا ہے وہ بالکل بجا ہے۔ ہم جیسوں کو اپنے جرم اور گناہوں کا احساس بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے سے قبل بھی ہم اہل صحافت افراط و تفریط کا شکار تھے۔ ہمارے ٹی وی چینلز نے انفوٹینمنٹ، انٹرٹینمنٹ اور نیوز شوز کے فرق کو ہی ختم کر دیا۔ مذہبی پروگراموں کو ہم نے تفریح کے پروگراموں کے ساتھ خلط ملط کیا۔ ریٹنگ کے چکر میں ٹاک شوز میں بدتمیزی کے کلچر کو خوب فروغ دیا گیا۔ سماجی تربیت کا کوئی پروگرام کسی چینل پر نظر نہیں آتا۔ ہماری وجہ سے سنجیدہ سیاستدان اور اہل دانش پس منظر میں چلے گئے اور چرب زبان اور بدتمیز لوگ ٹاک شوز کی ”زینت“ بننے لگے۔ ہم نے خبر اور تجزیے کی تفریق بھی ختم کردی جو صحافتی دنیا میں گناہ عظیم سے کم نہیں۔

کچھ دنوں میں جو ہوگا اس کا نقصان پاکستانیوں کو بھگتنا پڑے گا: عارف علوی

سلیم صافی کہتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے 2011 سے باقی سیاستدانوں کو معتوب بنانے اور کپتان کو ہیرو اور مسیحا ثابت کرنے کا جو عمل شروع کیا اس میں بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خوب استعمال ہوا۔ ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن خود ہمارے میڈیا کے اداروں کے اندر انصاف نہیں۔ ایڈیٹر کے ادارے کو عملاً ختم کردیا گیا اور اس کی جگہ سیٹھ نے لے لی۔ بہت سارے لوگوں نے اپنے کالے دھن کو صاف کرنے کیلئے ٹی وی چینلز کھولے اور ہم یہ سب تماشہ دیکھتے رہے۔ اینکرز نامی مخلوق بادشاہ بن گئی۔ وہ لاکھوں میں تنخواہ لے رہے ہیں لیکن پرنٹ میڈیا سے وابستہ تجربہ کار صحافیوں اور رپورٹرز کی حالت نہیں بدل پائی۔ ان کی تنخواہیں ظالمانہ حد تک کم ہیں۔ جن اینکرز کو شہرت ملی وہ آپے سے باہر ہو چکے، ان میں سے کوئی جج، کوئی مفتی تو کوئی بادشاہ گر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ شاید ان گناہوں کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے ہم سب پر سوشل میڈیا کا عذاب نازل کیا جس کی وجہ سے پاکستان کے 25 کروڑ عوام میں سے ہر فرد صحافی بن گیا۔ چنانچہ جس کا جو جی میں آتا وہ سوشل میڈیا پر ڈال دیتا ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ دوسری طرف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا سیٹ اپ بنا دیے اور اپنے گماشتوں کو سیاسی یا صحافتی نقادوں یا مخالفین کی تذلیل پر لگا دیا۔ چنانچہ توہین انسانیت کے وہ وہ مناظر دیکھنے کو ملے کہ الامان الحفیظ۔ دوسری طرف فیک نیوز ایسا معمول بن گئی کہ صحیح خبر اب ڈھونڈنےسے ہی ملتی ہے۔ اوپر سے یوٹیوب چینلز کا دروازہ کھلا اور یہ پتہ چلا کہ اس کو چلانے کی صورت میں ڈالرز بھی ملتے ہیں۔ پھر یہ بھی پتہ چلا کہ جو جتنا زیادہ جھوٹ بولتا ہے اور جس قدر زیادہ سنسنی پھیلاتا ہے، اس کا چینل اس قدر زیادہ دیکھا جاتا ہے اور اسے ڈالرز بھی زیادہ ملتے ہیں۔ چنانچہ پاکستان اب ایک یوٹیوبستان بن چکا۔ اس صورت حال کی وجہ سے جرنلسٹ اور غیر جرنلسٹ کی تفریق بھی ختم ہو گئی۔ اب تو مولوی حضرات بھی اس میدان میں کود پڑے ہیں اور نہ صرف فرقہ واریت سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی ہے بلکہ یہاں مناظرہ بازی بھی ہو رہی ہے اور ہر وقت یہ خطرہ موجود ہوتا ہے کہ کسی وقت کوئی بڑا فتنہ جنم نہ لے لے۔ زیادہ سے زیادہ محتاط الفاظ میں سوشل میڈیا کو پاکستان میں اَن سوشل میڈیا کہا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے کسی شریف آدمی کی عزت محفوظ نہیں۔ کبھی جج نشانہ بنتا ہے، کبھی جرنلسٹ، کبھی جرنیل، کبھی سیاسی لیڈر لیکن ہر وقت کسی نہ کسی کی عزت لٹنے کا عمل زوروں پر ہوتا ہے اور سب بے بسی کے ساتھ تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ پاکستان میں مہذب دنیا کی طرح ریگولرائزیشن نہیں اور ہتک عزت کا قانون غیر موثر ہے۔ پاکستانی عدالتوں سے چونکہ الیکٹرانک یا سوشل میڈیا کے حملوں کے شکار لوگوں کو انصاف نہیں ملتا اس لئے صاحب وسائل لوگ برطانیہ کی عدالتوں میں کیسز لے جا کر انصاف حاصل کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جو لوگ وہاں جا کر کیس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ کہاں جائیں؟۔

سلیم صافی کے مطابق اس تناظر میں ہم جیسے طالب علم عرصہ دراز سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہتک عزت اور قذف کے قانون کو موثر بنایا جائے اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ ہمیں آزادی اظہار چاہئے لیکن ذمہ دارانہ آزادی اظہار چاہئے۔ ادی تناظر میں پنجاب حکومت نے پہل کرتے ہوئے ہتک عزت کا قانون بنا دیا لیکن حسب عادت صحیح کام بھی غلط انداز  میں کر دیا۔ صحافتی تنظیمیں مریم حکومت کیساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار تھیں لیکن اس نے مشاورت ہی نہیں کی اور سوشل میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو بھی رگڑا دے ڈالا۔ اب یہ بل فیک نیوز کے خاتمے میں کم اور صحافیوں کی زباں بندی کیلئے زیادہ استعمال ہو گا۔ یہ امر بھی حیران کن ہے کہ وفاق میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور یہ کام وفاقی سطح پر ہوتا تو بہتر ہوتا لیکن پنجاب حکومت نے نہ صرف پہل کی بلکہ غیر معمولی عجلت بھی دکھائی جس کی وجہ سے اب صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف میدان میں نکل آئیں۔ چنانچہ پنجاب حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنا ہتک عزت قانون فوری واپس لے اور سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئی اور قابل قبول قانون سازی کی جائے ۔

Back to top button