میڈیا مخالف کالے قانون پر سبکی حکومت کا مقدر بن گئی

ملک کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی اتحادیوں سمیت صحافتی اور وکلا تنظیموں کی جانب سے میڈیا مخالف پیکا ترمیمی آرڈیننس مسترد کیے جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ایک اور ہزیمت آمیز شکست سے دوچار ہونے جا رہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی صدارتی آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے ہیں کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک ایف آئی اے کسی شخص کو اتنی عزت کے قانون کے تحت گرفتار نہیں کرے گی.
واضح رہے کہ 120 روز کے لئے جاری ہونے والا پیکا ترمیمی آرڈیننس ایسے وقت میں لایا گیا ہے جب متحدہ اپوزیشن وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے جا رہی ہے اور میڈیا اس معاملے میں حکومتی ہدایات کو نظر اندز کرتے ہوئے بے لاگ رپورٹںگ کر رہا ہے جو کپتان اینڈ کمپنی کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام سے متعلق پیکا ایکٹ آرڈیننس 2022، ممکنہ طور پر ‘متنازع’ سوشل میڈیا مواد کے خلاف مقدمات کے سیلاب کے دروازے کھول دے گا کیونکہ اس نے نہ صرف آن لائن ہتک عزت کو ناقابل ضمانت اور قابل سزا جرم بنا دیا ہے بلکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کا دائرہ کار بھی وسیع کر دیا ہے جو پہلے ہی درجنوں صحافیوں کو بے بنیاد مقدمات بنا کر گرفتار کر چکا یے۔
تحریک انصاف حکومت نے ایک ایسے وقت میں آرڈیننس جاری کیا ہے جب پیکا کی دفعہ 20 کی قانونی حیثیت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھی، یہ قانونی دفعہ ہتک عزت کو جرم قرار دیتی ہے۔ صدارتی آرڈینینس ماضی قریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جاری کردہ ہدایات کی بھی خلاف ورزی ہے جو کہ صحافیوں اور بلاگرز کے خلاف شکایات پر درج ہونے والے مقدمات میں دی گئی تھیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا تھا کہ متاثرہ شخص کے سوا کوئی دوسرا فرد ہتک عزت کا دعویٰ دائر نہیں کرسکتا لیکن نئے آرڈیننس کے نفاذ کے بعد اب کوئی بھی شخص یا ادارہ جو لازم نہیں کہ متاثرہ فریق ہو، ہتک عزت کا کیس دائر کر سکے گا۔
23 فروری کو ترمیمی صدارتی آرڈیننس کے خلاف دائر کردہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالتی معاون ایڈووکیٹ عدنان حیدر رندھاوا نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں پیکا قانون 2016 کے تحت سوشل میڈیا صارفین کے خلاف ہتک عزت کے قانون کی آئینی حیثیت پر بحث کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پیکا کا سیکشن 20 جو کہ ہتک عزت کو جرم قرار دیتا ہے دراصل ‘آزادی اظہار اور آزادی صحافت کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دفعہ 20 ‘بنیادی حقوق کے خلاف’ ہے، ساتھ ہی یہ بھی نشاندہی کی کہ دفعہ 20 پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت درج ‘معقول پابندیوں’ کی خلاف ورزی کرتی ہے اور تجویز دی کہ اس قانون کو تبدیل کرنا مناسب ہے۔ مزید ایک اور ترمیم کے ذریعے آن لائن ہتک عزت ناقابل تعمیل جرم بن جائے گی، مطلب یہ ہے کہ شکایت کنندہ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے باوجود متاثرہ شخص عدالت سے باہر معاملہ طے نہیں کر سکتا۔
آصف زرداری نے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار قرار دیدیا
پیکا ترمیمی آرڈیننس متعارف کروائے جانے کے بعد ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر قانون سازی کے لیے صدر مملکت ہی کافی ہیں تو ہمیں پارلیمان کی ضرورت ہی کیا ہے کہ اس کے اتنے خرچے برداشت کیے جائیں؟ یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان کی اہلیہ یا اسٹیبلشمنٹ نواز ججوں کی ذات پر بات آئے تو راتوں رات قانون سازی ہو سکتی ہے تو خلق خدا کے مسائل کے حل کی خاطر قانون سازی کیوں نہیں ہوسکتی؟ یاد رہے کہ اس قاننو کے محرک وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے مطابق اس قانون کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد خاں صاحب کے خلاف خراب زبان استعمال کی گئی اور خاتون اول سے متعلق طلاق کی جھوٹی خبریں چلائی گئیں۔
قانونی حلقوں میں یہ نکتہ بھی اٹھایاجا رہا ہے کہ پیک اترمیمی آرڈیننس میں عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ ایک خاص مدت میں مقدمے کا فیصلہ کریں اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو ججوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ خاص اہتمام صرف یہاں کیوں؟ ایسے میں ٹائم فریم دینا ہی ہے تو تمام مقدمات کے لیے کوئی میکنزم بنایا جائے ۔
صرف ایک خاص قسم کےمقدمے کے لیے ہی کیوں یہ ضابطے طے کئے جا رہے ہیں؟ کیا ایک آرڈیننس کے ذریعے الیکشن کمیشن کو بھی پابند کیا جا سکتا ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں فارن فنڈنگ کیس کا حتمی فیصلہ سنا دے؟ متنازع پیکا ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے جو سوال انتہائی شد ومد سے پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ فیک نیوز کا تعین کیسے ہو گا؟ یہاں تو محض الزام لگا کر کسی بھی بندے کو اٹھا لیا جائے گا اور اس کی ضمانت بھی نہیں ہو گی اور دوران حراست اس کا حشر نشر کرنے کی سہولت بھی موجود ہو گی۔
کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ گرفتاری سے پہلے اس بات کا تعین کر لیا جاتا کہ خبر درست ہے یا فیک ہے؟ ہمارے ہاں ایسا ہوتا آیا ہے کہ خبر آتی ہے، حکومت اس کی تردید کر دیتی ہے اور بعد میں خبر درست نکلتی ہے۔ کیا اس صورت میں ازالے کی کوئی شکل ہے؟
ایک اور سوال کا تعلق قانون کی تشریح سے ہے۔ پاکستان کے قانون میں یہ طریق موجود ہے کہ جہاں قانون بیان کیا جاتا ہے وہیں اس کی شرح بھی مثال دے کر سمجھائی جاتی ہے۔ناقدین کے مطابق کیا یہ موزوں نہ ہوتا کہ یہاں بھی قانون کے ساتھ اس کی شرح مثالیں دے کر سمجھا دیا جاتا کہ فرض کریں کوئی شخص 35 پنکچر کا الزام لگاتا ہے اور بعد میں پتا چلتا ہے یہ تو بس سنی سنائی بات تھی تو یہ ’ فیک نیوز‘ تصور ہو گی۔
یا کوئی شخص کہتا ہے کہ سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے اتنے ارب ڈالر پڑے ہیں اور وفاقی وزیر بننے کے بعد کہتا ہے کہ یہ اطلاع غلط تھی تو اسے بھی ’فیک نیوز‘ سمجھا جائے گا۔ایک اور سوال یہ ہے کہ اس نئے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے 2016 سے رائج الیکٹرانک کرائمز کے قانون کو بدل کر اس کا اطلاق ٹی وی چینلوں پر کیوں کیا جا رہا ہے جب کہ ان کو دیکھنے، ریگولیٹ کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پیمرا اور اس کے ڈھیر سارے اور کافی سخت قوانین پہلے سے ہی موجود ہیں؟
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ 2016 میں جب یہ قانون لایا جا رہا تھا تو عمران خان اس کی مخالفت کر رہے تھے، اب ایسا کیا ہوا کہ وہ اس قانون کو ختم کرنے کی بجائے اس میں ترمیم کرتے ہوئے اس کو مزید سخت کر رہے ہیں، سزا بھی بڑھا رہے ہیں اور دائرہ کار بھی؟
