میڈیا مخالف پیکا قانون میں صدر علوی کی بد نیتی ثابت

میڈیا دشمن وزیراعظم عمران خان کے ایما پر نافذ ہونے والے ڈریکونین پیکا آرڈینینس میں حکومت کی بدنیتی اب عدالت میں بھی ثابت ہو گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ بھی ثابت کر دیا گیا ہے کہ صدر عارف علوی نے بغیر کسی پیشگی سرکاری اعلان کے قومی اسمبلی کا طے شدہ اجلاس منسوخ کر کے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ ترمیمی آرڈیننس جاری کیا۔ اس سے پہلے عارف علوی نے قومی اسمبلی کا طے شدہ اجلاس اس لیے منسوخ کیا تاکہ پیکا ترمیمی صدارتی آرڈیننس جاری کیا جا سکے۔
یہ حقائق سلام آباد ہائی کورٹ میں پیکا آرڈیننس کے خلاف دائر کردہ درخواستوں کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ پیکا ایکٹ 2016 میں ترامیم کر کے ہتک عزت کو جرم اور قابل سزا اور ناقابل ضمانت فعل بنانے کے متنازع آرڈیننس کے اجرا کے خلاف درخواستوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔
آرڈیننس کیخلاف صحافتی تنظیموں اور سینیئر صحافیوں کے وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 18 فروری کو قومی اسمبلی کا پہکے سے بلایا گیا اجلاس ملتوی کرکے صدر علوی نے پیکا ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا، عدالت کو بتایا گیا کہ اجلاس ملتوی کرنے سے ہی حکومت کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے کہ یہ سب صدارتی آرڈیننس کے اجراء کیلئے کیا گیا۔ متنازع آرڈیننس کے اجرا کے سلسلے حکومت کی ’بدنیتی‘ ثابت کرنے کے لیے صدر عارف علوی کا ایک ٹوئٹ عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا گیا۔ اس ٹوئٹ میں 18 فروری 2022 کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا تھا جو بعد ازاں بغیر کسی نوٹی فکیشن کے انعقاد سے کچھ گھنٹے پہلے منسوخ کر دیا گیا تھا۔
متنازع آرڈیننس کے خلاف سماعت کے دوران پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سینئر وکیل منیر اے ملک نے پیکا میں ترمیم کرنے والے آرڈیننس کے نفاذ کے خلاف دائر درخواست پر دلائل دیتے ہوئے صدر علوی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 14 فروری کو پوسٹ کی گئی ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیا۔
ٹوئیٹ میں کہا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 18 فروری کو ہوگا۔ صدر عارف علوی کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس 18 فروری بروز جمعہ کو طلب کیا ہے۔ تاہم صدر عارف علوی نے بغیر کسی سرکاری اعلان کے قومی اسمبلی کا طے شدہ اجلاس منسوخ کر کے ایک روایت قائم کی جس سے سیاسی حلقوں میں ایک تنازع اور بحث چھڑ گئی۔ منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ آرڈیننس میں ترمیم سے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگائی گئی، اس کے علاوہ عدلیہ اور ججوں کی آزادی پر بھی منفی اثر پڑا۔
پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے کیلئے پنجاب میں بینرز کی بہار
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے وکیل نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے دلائل مکمل کیے اور کہا کہ سینیٹ کا اجلاس 17 فروری کو ملتوی کردیا گیا اور میڈیا، صحافیوں اور بلاگرز کو لگام دینے کے لیے متنازع آرڈیننس جاری کرنے کے لیے اگلے روز قومی اسمبلی کا بھی طے شدہ اجلاس منسوخ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیکا قانون سے پہلے بھی ملک میں ہتک عزت قانون موجود ہے لیکن اب پیکا ایکٹ میں ترمیم کر کے ہتک عزت کے جرم کو ناقابل ضمانت فوجداری جرم بنا دیا گیا ہے جس کی سزا پانچ سال قید تک بڑھا دی گئی ہے۔ نئے آرڈیننس کے نفاذ کے بعد متاثرہ شخص سمیت کوئی بھی شخص یا ادارہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔ لہذا عدالت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس قانون کو خلاف آئین قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔
