وزیراعظم شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے بے چینی کا شکار

 وزیراعظم عمران خان کے ایما پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو ہر صورت گرفتار کرنے کے لیے کوشاں ایف آئی اے نے اب ایک عجیب و غریب حرکت کی ہے جس کی عدالتی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے شہباز شریف کے خلاف خصوصی سینٹرل جج کی عدالت میں اس بنیاد پر توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے کہ انہوں نے کیس کی گذشتہ سماعت پر دانستہ 45 منٹ طویل تقریر کی اور عدالت کا وقت ضائع کرتے ہوئے بے بنیاد اور غیر متعلقہ حقائق پیش کئے جس وجہ سے ان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے علم میں یہ بات تھی کہ اس سماعت کے دوران ان پر فرد جرم عائد ہونا ہے، اسی لئے انہوں نے ناصرف بے مقصد تقریر کی جسکا مقصد صرف عدالتی کارروائی کو متاثر کرنا تھا۔ ایف آئی اے نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ شہباز شریف کا یہ عمل توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، لہذا عدالت ان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے۔

تاہم شہباز شریف کے وکلا نے ایف آئی اے کی درخواست کو ایک لطیفہ قرار دیا یے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں اپنا موقف بیان کرنا ہر شخص کا حق ہے اور اگر معزز جج کو شہباز شریف کے بولنے پر اعتراض ہوتا تو وہ خود انہیں منع کر دیتے۔ سابق وزیراعلی پنجاب کے وکلا کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی کارروائی پر معزز جج نے اعتراض نہیں کیا تھا تو اب ایف آئی اے کا اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے 18 فروری کو ایف آئی اے نے شہباز شریف کے خلاف کیسز کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کیلئے درخواست دائر کی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ وہ مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، جس وجہ سے ضمنی چالان جمع کروانے کے باوجود تاحال ان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانتوں میں 10 مارچ تک کی توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی تھی۔

بشریٰ بی بی کے بنی گالہ چھوڑ کر چلے جانے کی خبر غلط ہے

شہباز شریف کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے لطیفہ نما توہین عدالت کی درخواست دائر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سابق وزیر اعلی پنجاب کو گرفتار کروانے کے لیے کتنے بے چین ہیں۔ یاد رہے کہ 18 فروری کو ایف آئی اے کی جانب سے خصوصی عدالت میں شہباز شریف پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد انکو گرفتار کرنے کا پکا حکومتی منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم عدالت نے اس روز فرد جرم عائد کرنے کی اجازت ہی نہیں دی جس سے حکومتی پلان چوپٹ ہو گیا اور شہباز شریف گرفتاری سے بچ گئے۔

کہا جاتا یے کہ 18 فروری کو صدر عارف علوی کی جانب سے اچانک قومی اسمبلی کا بلایا گیا اجلاس منسوخ کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ شہباز کی گرفتاری کا پلان فائنل تھا لیکن چونکہ اسمبلی اجلاس کے دوران کسی رکن اسمبلی کی گرفتاری ممکن نہیں ہوتی اسلیے ہنگامی بنیادوں پر صدر عارف علوی نے اجلاس منسوخ کرنے کا حکم جاری کردیا۔

اپوزیشن نے بھی اسمبلی اجلاس کے التوا کو شہباز شریف کی گرفتاری کا راستہ ہموار کرنے کی حکومتی سازش قرار دے دیا تھا۔ ن لیگی وکلا۔کہ کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 18 فروری کو ہر صورت شہبازشریف کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے تھے تاہم عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کرنے کی اجازت نہ دی اور وجہ یہ بتائی کہ شہباز کے وکلا کو فرد جرم کی صاف کاپیاں فراہم نہیں کی گئیں۔

وکلا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو شہباز شریف کی گرفتاری کی اتنی جلدی اس لیے ہے کہ وہ اپوزیشن کی جانب سے اپنے خلاف اعلان کردہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ حکومتی پلان یہ یے کہ اگر شہباز شریف گرفتار ہو جاتے ہیں تو مسلم لیگ ن کے اپنے ارکان میں بھی بے دلی پھیل جائے گی اور اپوزیشن کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی جو دعویٰ کر رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو چکی ہے اور عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آئے گی تو اس میں ہر حال میں اپوزیشن کو فتح ہی نصیب ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جب 10 مارچ کو شہباز شریف عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو ان پر فرد جرم عائد ہوتی یے یا نہیں؟

Back to top button