پیسے والوں کے علاوہ 9 مئی کے مفرور ملزمان بھی سینٹرز بن گئے

 جمہوریت کی علامت قرار پانے والا سینیٹ اب محض سیاسی وفاداریوں کا انعام، مفادات کا کھیل، اور خاندانی سیاست کا قلعہ بن چکا ہے۔ خیبر پختونخوا  کے حالیہ سینیٹ انتخابات میں موسمی پرندوں کی طرح سیاسی وفاداریاں بدلنے والے پرانے چہروں کی واپسی اور مفرور ملزمان کے انتخاب نے عوامی نمائندگی کی آڑ میں ایک بار پھر جمہوری روایات کا گلا گھونٹ دیا  ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں سینٹ انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ الیکشن نتائج کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کے چھ اور اپوزیشن جماعتوں کے پانچ اراکین ایوان بالا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مراد سعید، فیصل جاوید، نور الحق قادری، مرزا آفریدی، اعظم سواتی اور خواتین کی نشست سے روبینہ ناز سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں میں سے پیپلز پارٹی سے طلحہ محمود، جے یو آئی ف کے مولانا عطا الحق، مسلم لیگ ن سے نیاز احمد، جے یو آئی ف کے دلاور خان ٹیکنوکریٹ نشست سے اور پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد خواتین کی نشست سے کامیاب ہوئیں۔پنجاب میں ایک سیٹ پر ہونے والے انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار راؤ عبد کریم کامیاب ہوئے۔ انہوں نے 242 ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار نے 99 ووٹ حاصل کیے۔

گزشتہ ڈیڑھ سال سے مفرور تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید بھی سینیٹ کا الیکشن جیت کر اب ایوانِ بالا کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے خلاف 9 مئی کے واقعات سمیت ریاستی اداروں کے خلاف بیانات دینے جیسے سنگین الزامات ہیں، اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے کئی بار چھاپے بھی مارے جا چکے ہیں۔ تاہم اب قانون کو مطلوب مراد سعید سینیٹر بن چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق مرزد سعید کی جیت نے نہ صرف ریاستی اداروں کے تفتیشی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ سینیٹ کی ساکھ کو بھی دھندلا کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص عدالتوں اور قانون کا سامنا کرنے سے گریزاں ہو، وہ ایوانِ بالا میں عوام کی نمائندگی کیسے کر سکتا ہے؟

ناقدین کے مطابق حالیہ سینیٹ الیکشن میں کئی سیاسی چہرے وفاداریاں بدل کر ایک بار پھر سینیٹر بننے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ طلحہ محمود، جو ماضی میں جے یو آئی ف کے ٹکٹ پر دو بار سینیٹر رہ چکے ہیں، اس بار پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹ میں پہنچ چکے ہیں۔ مرزا آفریدی، جو پہلے آزاد حیثیت سے سینیٹر بنے، پھر ن لیگ میں شامل ہو گئے اور اب پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سینیٹر بن گئے ہیں، اسی طرح دلاور خان پہلے ن لیگ، پھر آزاد گروپ، اور اب جے یو آئی کے نمائندہ بن کر ایوان بالا کے رکن بن گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسے سیاسی پرندوں کی سینیٹ میں بار بار آمد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایوانِ بالا نظریاتی سیاست کی نمائندگی کرنے کی بجائےذاتی مفادات اور پارٹی مفاہمتوں کی نمائش کا مرکز بن چکا ہے۔

ناقدین کے مطابق موسمی سیاسی پرندوں کی طرح ایوانِ بالا میں اس بار بھی خاندانی سیاست کا عنصر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ نور الحق قادری کے خاندان کے متعدد افراد حکومتی مناصب پر فائز رہے ہیں اور اب وہ خود سینیٹر بن چکے ہیں، نور الحق قادری کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں وزیر مذہبی امور رہ چکے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی مرحوم عبدالمالک بھی سینیٹر رہے جبکہ ان کے بھتیجے عدنان قادری اس وقت خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مذہبی امور کا قلمدان سنبھال رہے ہیں۔ اسی طرح نون لیگ کے نو منتخب سینیٹر نیاز احمد وفاقی وزیر امیر مقام کے بیٹے ہیں۔ ناقدین کے بقول سینیٹ کی نشستوں کا اس طرح مخصوص خاندانوں تک محدود رہنا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ سیاسی میدان میں عام کارکن اور حقیقی عوامی نمائندے کے لیے جگہ نہیں بچی۔

واضح رہے کہ سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم پر پر پی ٹی آئی میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔ سینیئر ورکروں کے نام سینٹ کے امیدواروں کی فہرست سے ہٹانے کے بعد پشاور کے ورکروں نے پشاور پریس کلب کے سامنے اپنی پارٹی قائدین کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے نو منتخب سینیٹرز میں سے سب سے زیادہ مرز آفریدی کے نام پر سب سے زیادہ تنقید کی گئی تھی۔سینیٹر مرزا افریدی پہلی بار سنہ 2018 میں سابق فاٹا سے بطور آزاد امیدوار سینیٹ کا الیکشن جیتا اور بعدازاں حکومتی جماعت ن لیگ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ تاہم انہوں نے سنہ 2021 میں ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کا عہدہ سنبھالا اور پاکستان تحریک انصاف کے کھلاڑی بن گئے تھے۔ مرزا آفریدی کو دوبارہ ٹکٹ دینے پر پی ٹی آئی کے اندر شدید اختلافات بھی سامنے آئے۔ سینیئر ورکروں کی جانب سے ان پر پیسے دے کر ٹکٹ لینے کا الزام لگایا گیا تھا کیونکہ نو مئی کے بعد مرزا افریدینے بھی پارٹی سے لاتعلقی کااعلان کر دیا تھا تاہم اب وہ اسی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔

ناقدین کے مطابق سینیٹ کو وفاق کی علامت اور جمہوری توازن کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے لیکن جب سینیٹرز ایسے چہرے ہوں جو یا تو مقدمات میں مطلوب ہوں، یا جنہوں نے کئی سیاسی جماعتیں بدل رکھی ہوں، یا جو صرف خاندانی روابط کی بنا پر منتخب ہوئے ہوں — تو پھر سینیٹ محض طاقت ور حلقوں کا کلب بن جاتا ہے، جہاں نظریہ، اہلیت اور عوامی نمائندگی ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔

Back to top button