نئے ISI چیف کی تقرری : فوج کا حکومت کو فری ہینڈ نہ دینے کا اشارہ

لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی رخصتی اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کی تعیناتی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فوج نے مستقبل کی حکمت عملی طے کرلی ہے، آرمی چیف فیصلہ کر چکے ہیں کہ سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا جائے گا اور موجودہ حکومت کو آگے بھی فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا۔ نیا دور کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے ماضی کے ایک کالم کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔

نیا دور کی رپورٹ کے مطابق عام انتخابات 2024 کے بعد معروف کالم نگار سہیل وڑائچ نے اپنے ایک علامتی کالم میں جنرل ندیم انجم کو لومڑ اور جنرل فیصل نصیر کو بارہ سنگھا لکھتے ہوئے دونوں کے مابین جاری چپقلش کا حال سنایا تھا۔ ان کی اس تحریر پر انٹیلی جنس حلقوں میں کافی شور مچا تھا۔ سہیل وڑائچ نے لکھا تھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ٹیم کے دو بڑے کھلاڑیوں یعنی ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم اور ڈی جی سی جنرل فیصل نصیر کے مابین اندرونی کشمکش جاری ہے جس سے جنرل عاصم منیر کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ آئی ایس آئی کے دونوں بڑے سیاسی معاملات سلجھانے اور کے حوالے سے بالکل مختلف رائے رکھتے ہیں، دونوں کے طریقہ کار میں بھی فرق ہے مگر دونوں آرمی چیف کے وفادار ہیں۔

سہیل وڑائچ نے یہ بھی لکھا تھا کہ ان کے ذرائع کے مطابق دونوں سینیئر عہدیدار ایک ساتھ نہیں چل سکتے، دونوں میں سے کوئی ایک رہے گا جب کہ دوسرا کہیں اور چلا جائے گا۔ سہیل وڑائچ کے الفاظ تھے؛ ‘اگر تو خاکی بادشاہ یعنی آرمی چیف نے موجودہ حکومت کو فری ہینڈ دینے کا فیصلہ کیا تو لومڑ یعنی جنرل ندیم انجم کا بول بالا ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے مذید لکھا تھا کہ اگر لومڑ وقت کے بادشاہ کو شروع سے مشورہ دے رہا ہے کہ اگر جنگل کو ترقی دینی ہے تو بنگال کا ماڈل اپنا لیا جائے جب کہ بارہ سنگھا یعنی فیصل نصیر سمجھتا ہے کہ جنگل کا کنٹرول بادشاہ اور شیروں کے ہاتھ میں ہی رہنا چاہیے۔ انہوں نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے یہ لڑائی صرف لومڑ اور بارہ سنگھے کی نہیں، بلکہ مستقبل کی حکمت عملی کی ہے’۔

فوجی حکومت اور عمرانی عدلیہ کا دنگل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

نیا دور کی تجزیاتی رپورٹ کہتی ہے کہ اگر سہیل وڑائچ کی بات مان لی جائے تو جنرل ندیم انجم کی رخصتی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاک فوج نے مستقبل کی حکمت عملی طے کر لی ہے۔ اس سے یہ بھی تاثر قائم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آرمی چیف فیصلہ کر چکے ہیں کہ کنٹرول اپنے ہاتھ میں ہی رکھا جائے اور موجودہ حکومت کو فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا۔ اگر معاملہ اس سے مختلف ہوتا تو جنرل ندیم انجم جو پہلے ہی تاحکم ثانی ڈی جی آئی ایس آئی تعینات تھے، اس عہدے پر برقرار رہتے اور جنرل فیصل نصیر کو کسی دوسری جگہ ٹرانسفر کر دیا جاتا۔ جنرل ندیم کی ریٹائرمنٹ اس جانب واضح اشارہ ہے کہ پاک فوج موجودہ حکومت کو فری ہینڈ دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کا ایک طاقتور حصہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسی ہے اور عموماً ملک میں دو عسکری عہدے ایسے ہیں جن کا ذکر بیشتر حلقوں میں رہتا ہے یعنی ایک آرمی چیف اور دوسرا آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا منصب۔ملک کے سب سے بڑے اور منظم ادارے کی کمان پہلے ہی جنرل عاصم منیر کے پاس ہے، اب ایک اور عاصم رواں ماہ بطور آئی ایس آئی سربراہ آ رہے ہیں، یعنی اب ایک نہیں دو عاصم ہوں گے۔

Back to top button