27ویں آئینی ترمیم کی منظوری،ایوان نےقومی اتحاد کوفروغ دیا،وزیراعظم

وزیراعظم شہبازشریف کا کہناہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے ثابت ہوگیا ایوان نےقومی اتحاد کوفروغ دیا۔

آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ میں ارکان اسمبلی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور مبارکباد دیتا ہوں۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری پر کہا ہے کہ آج اس ایوان نے قومی اتحاد کو فروغ دیا۔ ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے گالم گلوچ کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں گالم گلوچ اور افراتفری کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا، اس وقت اللہ نے پاکستان کو عسکری اور سفارتی محاذ پر جو عزت دی، وہ اس سے قبل نہیں تھی۔

وزیراعظم نے کہاکہ معرکہ حق کے بعد جب ہم نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا تو پوری قوم نے اس کو سراہا، اب جب آئین میں اس کو شامل کیا جارہا ہے تو اس میں کیا بری بات ہے۔ قومیں اپنے ہیروز کو ایسے ہی عزت دیتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ معرکہ حق کے بعد اب ہم جس ملک میں جاتے ہیں وہاں ہمارا فقید المثال استقبال ہوتا ہے، لیکن اس سے قبل ہم نے ایسا کبھی سوچا نہیں تھا۔

وزیراعظم نے کہاکہ میں ہر اس چیز کے خلاف ہوں جو وفاق کو کمزور کرے۔ کالا باغ ڈیم ملک کے مفاد میں ہے لیکن اس سے وفاق کے کمزور ہونے کا خطرہ ہے، اس لیے میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔

شہباز شریف نے کہاکہ ہماری اور بلاول بھٹو کی سوچ میں کوئی فرق نہیں، اتفاق رائے کے بغیر 18ویں ترمیم میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ہم کچھ اہم معاملات پر مل بیٹھ کر بات کریں گے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔ ترمیم کے حق میں 234 جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے، پی ٹی آئی نے اس موقع پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ایوان بالا (سینیٹ) میں آئینی ترمیم کی اس سے قبل ہی منظوری دی جا چکی ہے، اب وزیراعظم آئینی ترمیم صدر مملکت کو ارسال کریں گے، اور صدر کے دستخطوں کے بعد یہ آئین کا حصہ بن جائےگی۔

 

Back to top button