کیا PTI کے 75 اراکین قومی، صوبائی اسمبلی نااہل ہونے والے ہیں؟

تحریک انصاف نے پارٹی کے 75 منتخب اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیاں بشمول عمر ایوب خان اور علی امین گنڈا پور کو نااہل کروانے کی سازش فائنل ہونے کا دعوی کر دیا ہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کی نااہلی کے بعد اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کو بھی نا اہل کروانے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں عمر ایوب کو بھی 9 مئی کا مجرم قرار دے کر سزا سنائی جائے گی جس کے بعد انہیں نہ صرف گرفتار کر لیا جائے گا بلکہ بطور رکنے قومی اسمبلی نااہل بھی قرار دے دیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی خیبر پختون خواہ گنڈاپور کو بھی 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں سنا کر ناہل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سے پہلے سینیٹر اعجاز چوہدری اور ایم این اے احمد چٹھہ کو بھی 9 مئی کے کیسز میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور الیکشن کمیشن انہیں نااہل قرار دے چکا ہے۔

بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ بظاہر 9 مئی کے مقدمات کا سامنا کرنے والا تحریک انصاف کا ہر رکن اسمبلی ناہل ہونے جا رہا ہے، چاہے اس کا تعلق قومی اسمبلی سے ہو، پنجاب اسمبلی سے یا خیبر پختون خواہ اسمبلی سے۔ ان کا کہنا تھا کہ درجنوں تحریک انصاف کے درجنوں غیر منتخب رہنما بھی 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں پانے جا رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ یوں موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 75 اراکین نااہلی کے خدشے سے دوچار ہیں جن میں وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی مین گنڈاپور بھی شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ سراسر زیادتی ہو گی۔

یاد رہے کہ سینیٹر اعجاز چوہدری، ملک احمد خان بھجر اور ایم این اے احمد چٹھہ کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے چترال سے رکن قومی اسمبلی عبداللطیف چترالی کو بھی نااہل قرار دے دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی کو 9 مئی کے حملوں میں سزا یافتہ ہونے پر نا اہل کیا گیا ہے۔  الیکشن کمیشن نے مولانا چترالی کو آرٹیکل 63 (ون) (ایچ) کے تحت نااہل کیا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں کہ قانون سازوں کو آئین کے آرٹیکل 225 میں درج طریقہ کار کے علاوہ نااہل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کے سامنے پیش کی گئی انتخابی پٹیشن کے علاوہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے انتخابات کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔

مارچ 2009 میں ججوں کی بحالی کے بعد سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں اعلیٰ عدالتوں خصوصاً سپریم کورٹ کی جانب سے  ارکان اسمبلی کو جعلی ڈگریوں اور دوہری شہریت رکھنے کی بنیاد پر نااہل کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو  توہین عدالت ، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے دور میں مسم لیگ ن کے متعدد ارکان اسمبلی کو مختلف بنیادوں پر نااہل قرار دیا گیا، سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62  ون ایف  کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔ نون لیگ کے نہال ہاشمی،طلال چوہدری اور دانیال عزیز توہین عدالت کے کیسز میں  گھر گئے۔ مکافات عمل کے قانون کے تحت اب یہی سب کچھ پی ٹی آئی والوں کو بھی دیکھنا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ 9 مئی کے مقدمات میں نااہلی سے پہلے الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے بڑبولے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ جعلی ڈگریاں لگانے اور اثاثے چھپانے پر نااہل کیا تھا۔ اب الیکشن کمیشن اپوزیشن لیڈر عمر ایواب کی نااہلی  کے معاملے  کو بھی دیکھ رہا ہے۔اس سے پہلے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں الیکشن کمیشن کو تین حلقوں میں دوبارہ گنتی کی اجازت  ملنے کے بعد پی ٹی آئی کے دو ارکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا۔

پنجاب میں کرائم کنٹرول پولیس والے پیسے لے کر بندے مارنے لگے

 تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی کی نااہلیوں کے حوالے سے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ یہ سراسر زیادتی ہے چونکہ ان کے لوگوں کو حتمی سزائیں ملنے سے پہلے ہی نا اہل کیا جا رہا ہے حالانکہ ان کے پاس بڑی عدالتوں میں اپیل کرنے اور سزائیں منسوخ کروانے کا حق موجود ہے۔ بیرسٹر گوہر خاں کے مطابق جب تک نااہل قرار دیے گے کسی رکن اسمبلی کی حتمی اپیل کا سپریم کورٹ سے فیصلہ نہیں ہو جاتا، الیکشن کمیشن کی جانب سے اسکی نا اہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرنا انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ اگر بڑی عدالت نے نا اہل اراکین اسمبلی کی سزائیں منسوخ کیں تو الیکشن کمیشن بھی اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لے گا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن تو نااہل قرار دیے گے اراکین اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی الیکشن کا شیڈول بھی جاری کر رہا ہے۔۔۔۔

Back to top button