زیادتی بلوچ قوم پرست کر رہے ہیں یا ریاست پاکستان؟

ریاست پاکستان پر بلوچستان کے مقامی وسائل کے مسلسل استحصال کا الزام لگاتے ہوئے بلوچ علیحدگی پسندوں نے سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے تیز کر دیئے ہیں تاہم سیکیورٹی حکام کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کی دہشت گرد تنظیمیں بھارت سمیت دیگر ممالک کی فنڈنگ سے پاک چین سی پیک پراجیکٹ کے خلاف تخریب کاری میں مصروف ہیں جن کا سختی سے قلع قمع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں حالیہ چند ہفتوں میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے پاکستانی فوج پر دہشت گردانہ حملوں میں تیزی آئی ہے، جس سے چینی حمایت یافتہ بڑے بڑے منصوبوں کے بارے میں سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ 2015 میں چین نے چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور یا سی پیک منصوبے کے تحت انفراسٹرکچر نیٹ ورک کے ذریعے گوادر کو چینی خطے سنکیانگ اسے ملانے کے لیے پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

اس منصوبے کا ایک بڑا حصہ بلوچستان میں تعمیر ہو رہا ہے، تاہم بلوچ علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت مقامی وسائل کا استحصال کر رہی ہے۔ سی پیک کے تحت پاکستان میں سڑکوں، ریل اور پائپ لائنز کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے چین مشرق وسطیٰ تک آسان سے رسائی کا خواہاں ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین پاکستان سمیت جنوبی اور وسطی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ چاہتا ہے تاکہ امریکی اور بھارتی اثر و رسوخ میں کمی آئے۔

تاہم بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے صوبے بھر میں سکیورٹی اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملے کیے جا رہے ہیں، جن سے ان ترقیاتی منصوبوں کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ بلوچستان لبریشن آرمی کہلانے والی ایک دہشت گرد تنظیم نے پنجگور اور نوشکی اضلاع میں کئی حملے کیے۔ ان حملوں میں نو فوجی جوان شہید جبکہ 20 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاک فوج کے مطابق حالیہ برسوں میں بلوچ علیحدگی پسندوں کا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب وزیر اعظم عمران خان چین کے دورے پر تھے۔ عمران خان نے اس حملے پر اپنے ردعمل میں فوج کے ‘بہادر جوانوں‘ کو حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے پر شاباش دی اور ان کی ‘قربانیوں‘ کو سراہا۔ حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے لئے دیرینہ دشمن بھارت اور چند دیگر ممالک پر بلوچ شدت پسندوں کی معاونت کرتے ہیں۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ کے مطابق علیحدگی پسند پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی حکومت اور چین ان کے ہاں استحصال اور غربت کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان میں سلامتی کی مستحکم صورت حال چینی سرمایہ کے لیے ضروری ہے تاہم دہشت گردانہ کے حملوں میں اضافہ ان منصوبوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے کیونکہ کوئی سرمایہ کار بشمول چین کسی پرتشدد فضا اور طویل المدتی بنیادوں پر عسکریت پسندی کے ماحول میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہے گا۔

ممتاز صحافی اور مصنف پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن انتقال کرگئے

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ماضی کی شورشیں سیاسی خودمختاری کے گرد گھومتی تھیں جبکہ شدت پسندی کی نئی لہر علیحدگی پسندی کے رجحان کی طرف مائل ہے۔ بلوچستان میں جاری شورش کے بارے میں دو متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق موجودہ شورش بیرونی طاقتوں کی آشیرباد پر کی جا رہی ہے اور بلوچ نوجوانوں کو آزاد بلوچستان کا جھانسہ دے کر استعمال کیا جا رہا ہے۔

لیکن دوسری رائے اس کے برعکس ہے جسکے مطابق بلوچستان میں شورش کو ایک حقیقی سیاسی مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے نظرانداز کرنے سے اس میں بگاڑ پیدا ہوا ہے اور اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو مزید ابتری کا خدشہ موجود ہے۔ اس رائے کے مطابق بلوچستان کی سیاسی محرومیوں، معاشی استحصال اور جبری گمشدگیوں نے شدت پسندوں کو سیاسی خودمختاری سے علیحدگی پسندی کی طرف دھکیلا ہے۔

خطے کی بدلتی سیاسی صورت حال، خصوصاً امریکہ کی افغانستان میں موجودگی اور انخلا نے بھی بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریکوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ان دونوں آرا میں وزن ہے لیکن حقیقت ان دونوں متضاد خیالات کے درمیان کہیں موجود ہے۔

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ بنیادی طور پر بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے جس میں سالہا سال کے بگاڑ نے سکیورٹی مسائل کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جب تک سکیورٹی حکمت عملی کو ایک جامع سیاسی ڈاھانچے کے نیچے نہیں لایا جاتا اور ایک سیاسی عمل نہیں شروع کیا جاتا، بلوچستان کے تنازع میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا۔ لہذا بلوچستان کو فوری طور پر ایک سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، جو مسائل کے حل کی طرف پہلا قدم ہوگا۔

Back to top button