کیا پاکستان پر افغان حملوں میں بھارت اور اسرائیل کا بھی ہاتھ ہے؟

 

 

پاکستان کی فضائی کارروائی کے بعد افغانستان کی سرحدی دراندازی اور ڈرون حملوں نے بھارت، اسرائیل اور طالبان کے پاکستان مخالف ٹرائیکا کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سینئر صحافی نجم سیٹھی کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد اب جو نئی پیشرفت سامنے آئی ہے اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ حالیہ افغان پیشرفت کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ نجم سیٹھی کے بقول خطے میں طاقت کی ایک نئی بساط بچھنے جا رہی ہے، نئے عالمی ایجنڈے کے تحت اسرائیل، بھارت اور طالبان نے پاکستان کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کر لیا ہے اور موجودہ حالات میں ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت معاملات آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔

 

نجم سیٹھی کے بقول پہلے اسرائیل بالواسطہ طور پر بھارت کے ذریعے پاکستان مخالف اتحاد میں شامل تھا اور بھارت کے ذریعے افغان طالبان کو اسرائیلی ڈرون فراہم کیے جا رہے تھے جبکہ طالبان بھارت میں تربیت حاصل کر رہے تھے ، تاہم اب اسرائیل براہ راست اس ٹرائیکا کا حصہ بن گیا ہے ۔ نجم سیٹھی کے مطابق اس تمام عمل کے پیچھے ایک بڑی سوچ موجود تھی، جس میں بھارت میں تعینات امریکی سفیر کا اہم کردار سامنے آ رہا ہے ۔ جس نے نئی حکمت عملی کے تحت اسرائیل اور بھارت کو باقاعدہ طور پر ایک صف میں کھڑا کر دیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھارت افغانستان کے ساتھ کھڑا تھا، مگر اب ایک نیا ٹرائی اینگل بن چکا ہے جس میں اسرائیل کے شامل ہونے کے بعد طالبان کو تقویت کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں اور انہوں نے اسرائیل اور بھارت کے ساتھ مفادات جوڑتے ہوئے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے، نجم سیٹھی کے مطابق افغانستان میں حالیہ پیش رفت کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کا ہاتھ ہے ، جو ایک خطرناک صورتحال ہے ۔ پاکستان کی قیادت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، ان کے مطابق ایک بڑی عالمی بساط بچھنے جا رہی ہے جس میں ایک جانب بھارت، امریکا اور اسرائیل ہوں گے ، جبکہ دوسری طرف روس، چین اور ترکیہ کھڑے نظر آئیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں نجم سیٹھی نے کہا کہ اس وقت امریکا کا بنیادی مسئلہ ایران اور اسرائیل ہے ، پاکستان نہیں۔ تاہم مستقبل میں، اگر اسرائیل اور بھارت دباؤ بڑھاتے ہیں تو پاکستان بھی نشانے پر آ سکتا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کے جوہری پروگرام کا ذکر جس شدت سے کیا جا رہا ہے ، ماضی میں ایسا نہیں تھا۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے ایٹم بم حاصل کرنے کی افواہوں کو بھی فضا بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے ۔ ان کے مطابق ایران کے بعد پاکستان پر دباؤ بڑھنے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

داعش خراسان پاکستان کے لیے TTP سے بڑا خطرہ کیوں بن گئی؟

دوسری جانب دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کو دباؤ میں لانے کیلئے افغان طالبان، موساد اور سی آئی اے کا ٹرائیکا افغانستان میں سرگرم ہو گیا ہے۔ جس کے بعد افغانستان پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیوں کی پراکسی وار کا باقاعدہ میدان بن چکا ہے، جہاں ٹی ٹی پی، را، موساد اور سی آئی اے کا گٹھ جوڑ کھل کر متحرک دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت کی جانب سے بلوچستان میں بی ایل اے جیسے علیحدگی پسند گروہوں کو جدید ہتھیاروں، بھاری فنڈنگ اور انٹیلی جنس معاونت کی فراہمی نے حالیہ دہشت گردی کو کسی مقامی بغاوت کے بجائے ایک منظم عالمی پراکسی وار میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس خفیہ جنگ کا اصل ہدف نہ صرف سی پیک اور گوادر پورٹ کو سبوتاژ کرناہے بلکہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو عدم استحکام سے دوچار کرنا بھی ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے بعض انٹیلی جنس اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو افغانستان کے ذریعے بھارت کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھاری رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی انجینئرز اور اہم سویلین افسران کی ہٹ لسٹس تیار کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں، جو اس خفیہ جنگ کے خطرناک رخ کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر بلوچستان میں جاری یہ صورتحال اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کو درپیش چیلنج محض داخلی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ عالمی پراکسی وار کا حصہ ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی طاقت کی بساط نے افغانستان کو عالمی سٹرٹیجک کشمکش کے عین مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں آنے والے دنوں میں یہ معرکہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

بعض دیگر مبصرین کے بقول پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی مکمل طور پر تبدیل کر دی ہے، جس کے تحت پاکستان نہ صرف افغانستان میں چھپے بیٹھے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا بلکہ ان کے سہولتکاروں کو بھی منہ توڑ جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا، دفاعی ماہرین کے بقول پاکستان نے افغانستان کے بارے میں سٹریٹجک پیشنس  strategic Patience یا تزویراتی صبر کی پالیسی ختم کر دی ہے۔ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور افغانستان کے ساتھ دشمنی کر کے ہم دونوں جانب سے خود کو غیر محفوظ نہیں کر سکتے۔ اس پالیسی کے تحت پاکستان نے کبھی بھی کوئی مؤثر اور مربوط طویل المدتی افغان پالیسی تشکیل نہیں دی۔پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی کہ اس نے افغانستان کو خوش رکھنا ہے، ان کے جائز و ناجائز مطالبات کو تسلیم کرتے رہنا ہے کیونکہ بھارت کی وجہ سے یہ ہماری سٹریٹجک مجبوری تھی لیکن اب پاکستان نے اس پالیسی کو یکسر بدل دیا ہے، دفاعی ماہرین کے بقول افغانستان کی تمام حکومتیں ہمیشہ بھارت کے ساتھ اچھی رہی ہیں اور اُنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی سٹریٹجک مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اُن کے عزائم یہی رہے کہ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنا اور پاکستان کا فائدہ اٹھانا ہے۔ لیکن اب پاکستان نے اُن کے تمام اہم مقامات کو لاک اور مارک کر کے افغانستان پر واضح کر دیا ہے کہ بھارتی ایماء پر پاکستان سے پنگے بازی اسے کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔

Back to top button