پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کا مستقبل تاریک کیوں ہونے لگا؟

 

 

 

 

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی بحران نے نہ صرف عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ آٹو انڈسٹری کے مستقبل کا رخ بھی بدلنا شروع کر دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد دنیا بھر میں الیکٹرک، ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ سمیت دیگر چینی نیو انرجی گاڑیوں کی طلب اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیوں کی خریداری کا بڑھتا رجحان اس بات کا غماز ہے کہ مہنگے ایندھن نے صارفین کو تیزی سے متبادل توانائی کی طرف مائل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ آنے والے چند سالوں میں روایتی پٹرول اور ڈیزل گاڑیاں بالکل ختم تو نہیں لیکن محدود ضرور ہو جائیں گی اور سڑکوں پر زیادہ الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیاں ہی فراٹے بھرتی نظر آئیں گی۔

معاشی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خصوصاً خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں سپلائی لائنز کے متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔ اگرچہ بعد ازاں پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے قیمتیں کم ہو کر تقریباً 94 ڈالر فی بیرل تک آ گئیں، مگر مجموعی طور پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 35 فیصد اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ اسی بحران نے اب صارفین اور صنعتوں کو متبادل ذرائع، خصوصاً نیو انرجی گاڑیوں کی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایک تحقیقاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں چین کی نیو انرجی گاڑیوں کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 140 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرف ایک ماہ کے اندر فروری کے 2 لاکھ 76 ہزار یونٹس کے مقابلے میں مارچ میں یہ تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 63 ہزار تک جا پہنچی ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ صرف ایک ماہ میں چینی گاڑیوں کی برآمدات میں 31 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

ماہرین کے بقول عالمی سظح پر طلب بڑھنے کے بعد چین کی بڑی کمپنیاں جیسے BYD اور Geely اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اپنی پیداوار میں تیزی لا رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کو امید ہے کہ خلیجی کشیدگی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں مزید صارفین کو نیو انرجی گاڑیوں کی طرف راغب کریں گی۔ اگرچہ عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم اس دوران ایک دلچسپ رجحان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خلیجی بحران کے بعد ہائبرڈ گاڑیوں کی مقبولیت نسبتاً زیادہ بڑھی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ صارفین کا زیادہ عملی اور محتاط رویہ ہے، جو مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے بجائے ایک متوازن اور محفوظ متبادل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہائبرڈ گاڑیاں اس حوالے سے ایک درمیانی راستہ فراہم کرتی ہیں، جہاں بجلی کی عدم دستیابی یا چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی کی صورت میں صارفین باآسانی ایندھن پر سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیل اور بجلی کے امتزاج پر مبنی ہائبرڈ گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

 

پاکستان میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے، مگر یہاں تصویر کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔ پشاور میں امپورٹڈ گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کی مانگ میں واضح اضافہ ہوا ہے، جبکہ مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے صارفین اب بھی محتاط ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی، ری سیل ویلیو کا خدشہ اور قیمتوں کا زیادہ ہونا شامل ہے۔ بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اگرچہ الیکٹرک گاڑیوں کو کچھ حد تک پذیرائی مل رہی ہے، مگر مجموعی طور پر مارکیٹ ابھی بھی الیکٹرک گاڑیوں کو  مکمل طور پر قبول کرنے پر تیار نہیں۔

عام صارفین بھی اب تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہونڈا سوک استعمال کرنے والے کئی افراد بڑھتے ہوئے پٹرول اخراجات سے تنگ آ کر ایسے ہائبرڈ آپشنز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جو بہتر فیول ایوریج اور کم خرچ سفر کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کے بقول یہ تبدیلی محض ایک مالی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی حقیقت کی عکاسی بھی کرتی ہے،جہاں ایندھن کی بڑھتی قیمتیں براہِ راست صارفین کے طرزِ زندگی، ترجیحات اور سفری عادات کو متاثر کر رہی ہیں۔

ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو پاکستان کس کا ساتھ دے گا؟

ماہرین کے بقول اگرچہ الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیوں کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے، تاہم اس شعبے کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ مناسب انفراسٹرکچر کی کمی ہے، خصوصاً چارجنگ سٹیشنز کا محدود ہونا صارفین کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان گاڑیوں کی نسبتاً مہنگی قیمتیں بھی عام خریدار مشکل سے دوچار کرتی ہیں، جبکہ بیٹری کی عمر اور ری سیل ویلیو سے متعلق خدشات بھی لوگوں کو مکمل طور پر اس طرف آنے سے روکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومتیں ٹیکس میں کمی، سبسڈی کی فراہمی اور چارجنگ نیٹ ورک کو بہتر بنانے جیسے عملی اقدامات کریں تو یہ شعبہ نہ صرف تیزی سے ترقی کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں توانائی کے بحران کا مؤثر حل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عالمی تیل بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ چین کی برآمدات میں اضافہ، عالمی رجحانات اور پاکستان جیسے ممالک میں بدلتا ہوا صارفیں کا رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا ایک نئی توانائی کی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل صرف روایتی پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کا نہیں بلکہ آنے والے سالوں میں سڑکوں پر صرف الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیاں ہی دوڑتی دکھائی دینگی۔

 

Back to top button