کیا ایران کی جنگی مزاحمت کے پیچھے روس اور چین ہیں؟

ایران کو شکست دینے میں ناکامی کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لیے امریکی پینٹاگون نے اب یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا ہے کہ دراصل روس اور چین ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے دعوی کیا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کو روس اور چین کی جانب سے خفیہ انٹیلی جنس، سیٹلائٹ معلومات اور جدید الیکٹرانک وارفیئر نظام فراہم کیے جا رہے ہیں، جن کی بدولت تہران کی فوجی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم روس اور چین نے ان دعووں کی تردید کی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے بعض اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ ایرانی حملوں میں جن امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، انکی تفصیل کسی عوامی نقشے پر موجود نہیں تھی۔ امریکی حکام کے مطابق اس کے باوجود ایران کی جانب سے ٹھیک ٹھیک اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ایران کو بڑی طاقتوں کی جانب سے انٹیلیجنس مدد حاصل ہو رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کو سب سے اہم مدد روس کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔ انکے مطابق روسی انٹیلی جنس نیٹ ورک نے ایران کو امریکی اور اسرائیلی فوجی اثاثوں کے مقامات انتہائی درستگی کے ساتھ معلوم کرنے میں مدد دی ہے، جو تہران کے لیے تنہا حاصل کرنا مشکل تھا۔
انکا کہنا ہے کہ ایران کے پاس جاسوسی سیٹلائٹس کا نیٹ ورک محدود ہے، تاہم روس اس حوالے سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ روسی سیٹلائٹ اس وقت تہران کو چوبیس گھنٹے بصری اور ریڈار تصاویر فراہم کر رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ سیٹلائٹ تصاویر درست نشانہ لگانے کے لیے ایک بنیادی اعصابی نظام بن چکی ہیں۔ ان معلومات کی مدد سے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی درستگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چین کا کردار بظاہر خاموش ہے لیکن اسے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی دفاعی ذرائع کے مطابق چین نے ایران کے جنگی الیکٹرانک نظام کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ چین نے ایران کو امریکی جی پی ایس کا متبادل سسٹم اپنے سیٹلائٹ سسٹم پر منتقل کرنے میں مدد دی اور جدید ریڈار نظام بھی فراہم کیے۔ ان کے مطابق چین نے ایران کے دشمن کو تلاش کرنے، نشانہ بنانے اور حملہ کرنے کے نظام کو بدل کر جدید ترین خطوط پر استوار کر دیا ہے۔
چینی ساختہ ریڈار نظام کم فریکوئنسی لہروں کا استعمال کرتے ہیں جو امریکی طیاروں کی پوشیدگی کو کاونٹر کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان ریڈارز کے باعث جدید امریکی طیارے اب دشمن سے مکمل طور پر پوشیدہ نہیں رہتے۔
ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران اب چین سے پچاس جدید سپرسانک اینٹی شپ میزائل حاصل کرنے کے قریب ہے۔ دفاعی ماہرین ان میزائلوں کو ’’کیریئر کلر‘‘ یعنی بحری بیڑوں کا شکاری قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ میزائل ایران کو مل جاتے ہیں تو خطے میں موجود امریکی بحری بیڑے ان کی زد میں آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل بھی خاموش نہیں بیٹھے۔ دونوں ممالک ایرانی قیادت کی نقل و حرکت اور ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز کی تفصیلی نقشہ سازی میں مصروف ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق امریکی اور اسرائیلی مشترکہ کارروائیوں سے ایران کے ریڈار ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں نے بظاہر تہران کے دفاعی نظام کی بعض کمزوریاں بھی ظاہر کر دیں۔ تاہم پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں امریکہ کے تقریباً دس جدید ریڈار نظام تباہ کر دیے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ جزوی طور پر بھی درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے یہ وضاحت مل سکتی ہے کہ ایرانی میزائل اسرائیل اور خلیجی دارالحکومتوں تک کیسے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
مجتبی خامنہ ای کی لوکیشن اور حکمت عملی دونوں پرسرار
امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق کئی دہائیوں سے خلیج میں امریکہ اور اسرائیل کی تکنیکی برتری قائم تھی، تاہم اب چینی ہارڈویئر اور روسی انٹیلی جنس کی وجہ سے یہ برتری کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سابق سی آئی اے افسر بروس رائیڈل پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ جدید جنگ میں درست کوآرڈینیٹس اکثر میزائیلوں سے زیادہ قیمتی ثابت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جو ملک یہ جانتا ہے کہ اسکا دشمن کہاں پر ہے، اصل برتری اسی کے پاس ہوتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج کا خطہ اب دنیا کا پہلا ایسا میدان بنتا جا رہا ہے جہاں الیکٹرانک جنگ روایتی فوجی طاقت سے زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق روس اور چین براہِ راست اپنی فوجیں ایران نہیں بھیج رہے، لیکن وہ اس سے بھی زیادہ اہم کام کر رہے ہیں۔ یعنی وہ تہران کو جدید جنگ میں دشمن کی نقل و حرکت بروقت دیکھنے کی صلاحیت فراہم کر رہے ہیں اور دراصل یہی صلاحیت مستقبل کی جنگوں کا رخ متعین کر سکتی ہے۔
