کیا 9 مئی کے حملوں کے منصوبہ سازوں کو آج مکافات عمل کا سامنا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ مکافات عمل کے قانون کے تحت اگست 2014 میں عمران خان کی زیر قیادت پارلیمنٹ ہائوس کی آہنی باڑھ پر پہلے اپنے کچھے اور بنیانیں سکھانے اور بعد میں حملہ کر کے اسی جنگلے کو گرانے والی پی ٹی آئی کی قیادت آج پارلیمنٹ ہاؤس سے اپوزیشن کے اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاری کو جمہوریت کا نائن الیون قرار دے رہی ہے۔ دوسری جانب سرکار اسے ایک اتفاقی حادثے سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں اور اس کا سارا فوکس آج بھی 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر ہے۔ سچ یہ ہے کہ ماضی میں اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت جو سلوک اپنی اپوزیشن کے ساتھ کر رہی تھی، آج وہی سلوک اتحادی حکومت اپنی اپوزیشن کے ساتھ کر رہی یے۔

بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ 10 ستمبر کی صبح تقریباً تین بجے پارلیمنٹ کے احاطے میں گھسنے والے نقاب پوشوں کے ہاتھوں تحریکِ انصاف کے 10 ارکانِ اسمبلی کو اٹھا کر باہر کھڑی پولیس کے حوالے کرنے کے آپریشن کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمنٹ کے حفاظتی عملے کے سربراہ یعنی سارجنٹ ایٹ آرمز سمیت پانچ سیکورٹی اہل کاروں کو عارضی طور پر بادلِ نخواستہ معطل کر دیا ہے البتہ شدید مہنگائی کے پیشِ نظر ان کی تنخواہیں معطل نہیں ہوئیں۔ ان سکیورٹی اہلکاروں کا فرض تھا کہ وہ پارلیمانی احاطے میں گھسنے والوں کی مزاحمت کرتے اور عمارت کی بجلی عارضی طور پر معطل کرنے کے ’پُراسرار احکامات‘ نہ مانتے حالانکہ یہ کام تو بڑے بڑے ریاستی طرم خان نہیں کر پا رہے۔ وسعت اللہ کہتے ہیں کہ عزت مآب سپیکر نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر کے انکی جھاڑ پونچھ بھی کی۔ شاید سپیکر نے آئی جی سے یہ استفسار بھی کیا ہو کہ باہر تو آپ کی پولیس کھڑی تھی پھر خفیہ والے نقاب پوش اندر کیسے گھسے؟ شاید آئی جی اسلام آباد سے یہ سوالات بھی کیے گئے ہوں گے وہ آپ کے بندے تھے یا پھر آسمانی مخلوق تھے اور انھیں کس نے بھیجا تھا؟ اس سوال پر آئی جی صاحب نے شاید کندھے اُچکا کے سر جھکا لیا ہو یا پھر ’جی سر ہم ان لوگوں تک انشااللہ جلد پہنچ جائیں گے‘ ٹائپ کوئی یقین دہانی کروائی ہو، جیسا کہ اسلام آباد کا ہر آئی جی ہر عدالت میں طلبی کے بعد کرواتا ہے۔ شاید سپیکر صاحب نے آئی جی سے یہ بھی کہا ہو کہ جن لوگوں نے پارلیمانی احاطے کی حرمت پامال کی ان کے خلاف میری مدعیت میں پرچہ کاٹا جائے۔ شاید آئی جی صاحب نے اس پر بھی ’جی سر، جی سر‘ کہتے ہوئے کہا ہو کہ ’ہمیں ابتدائی تفتیش مکمل کر لینے دیں۔ پھر آپ جو بھی کہیں گے کر لیں گے انشااللہ۔‘

وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ ویسے اس واقعے کی ’آزادانہ و شفاف تحقیقات‘ کے لیے ایک ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں چار سینیئر بیوروکریٹس پر مشتمل جانچ کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے جو پارلیمنٹ کے سکیورٹی انتظامات اور اس کے احاطے میں ’غیر متعلقہ عناصر‘ کی دراندازی پر رپورٹ تیار کرے گی۔ لیکن اس رپورٹ کا کیا ہو گا، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ مگر چھان بین شروع ہونے سے پہلے ہی سپیکر کی جماعت مسلم لیگ ن کی حکومت کے وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ممکنہ تحقیقات کی کشتی میں یہ کہہ کر سوراخ کر دیا کہ کسی رکن اسمبلی کو پارلیمنٹ بلڈنگ میں گھس کے حراست میں نہیں لیا گیا۔ البتہ سی سی ٹی فوٹیج میں صرف دو ارکان اسمبلی دکھائی دے رہے ہیں جنھیں پارلیمنٹ ہاؤس کی سروسز برانچ سے پکڑا گیا۔ گویا وزیرِ اطلاعات یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ناقص معلومات کی بنیاد پر اہلکاروں کی معطلی کا فیصلہ کر دیا۔ سپیکر کو شائد یہ بھی نہیں معلوم کہ پارلیمنٹ کی سروسز برانچ پارلیمنٹ کے احاطے میں ضرور ہے مگر پارلیمنٹ کا حصہ نہیں۔ لہذا وہاں جو کچھ بھی ہو وہ پارلیمنٹ کے کسٹوڈین کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

وسعت اللہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پارلیمنٹ کے احاطے میں بہت کچھ ہو چکا ہے۔ مثلاً 23 ستمبر 1958 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والے مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرار داد مسترد ہونے پر لڑائی شروع ہو گئی اور کسی رکنِ اسمبلی نے ڈپٹی سپیکر شاہد علی پٹواری کے سر پر پیپر ویٹ دے مارا۔ اس کے چار دن بعد زخمی ڈپٹی سپیکر ہسپتال میں چل بسے۔ 1975 میں سٹیٹ بینک اسلام آباد کے ہال میں منعقد ہونے والی قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزبِ اختلاف نے جب ہنگامہ آرائی کی تو سپیکر کے حکم پر سارجنٹ ایٹ آرمز اور ان کے سکیورٹی عملے نے مولانا مفتی محمود سمیت حزبِ اختلاف کے متعدد ارکان کو ڈنڈہ ڈولی کر کے پارکنگ لاٹ میں احترام کے ساتھ زمین پر پٹخ دیا۔
آج کل پارلیمان میں حکمراں مسلم لیگ نون کے ارکان ہنگامہ آرائی اور نازیبا زبان کے استعمال کا سہرا پی ٹی آئی کے غصیلے ارکانِ اسمبلی کے سر باندھتے ہیں۔ مگر 2012 کے بجٹ اجلاس میں حزبِ اختلاف مسلم لیگ نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی موجودگی میں وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی تقریر نہ صرف سننے سے انکار کر دیا بلکہ بجٹ کی کتابیں پھاڑ ڈالیں۔ کچھ ارکان وزیرِ اعظم کی طرف لپک پڑے۔ انھیں بچانے کے لئے پیپلز پارٹی کے ارکان نے انسانی زنجیر بنائی اور پھر دھکم پیل، مار کٹائی، ماں بہن شروع ہو گئی۔ تب قوم یوتھ سے تعلق رکھنے والوں کے مزاج اس قدر بے قابو تھے کہ بےبس قائدِ حزبِ اختلاف چوہدری نثار علی خان بھی اپنی نشست پر سر پکڑ کے بیٹھ گئے۔ تب بھی آج کی طرح ایوان کی کارروائی پرامن طور پر چلانے کے لئے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنی تھی۔

لیکن وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ 10 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں گھس کے ارکانِ اسمبلی کو اٹھانے کا واقعہ اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے جس میں نقاب پوشوں نے آئین کی ماں کے سر سے دوپٹہ کھینچ لیا۔ لیکن وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے احاطے سے ارکان قومی اسمبلی کو اٹھائے جانے کو باہمی کشیدگی کے تسلسل کی کڑی قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے اگست 2014 میں اسی پارلیمنٹ کی آہنی باڑھ پر دھلے ہوئے کچھے بنیان سکھانے والی حزبِ اختلاف پی ٹی آئی دس ستمبر کی واردات کو جمہوریت کا نائن الیون قرار دے رہی ہے تو دوسری جانب سرکار اسے ایک اتفاقی حادثے سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ ان حالات میں سپیکر ایاز صادق کا اپنے ہی سیکورٹی عملے پر علامتی غصہ نکالنا بھی بڑی بات ہے۔ ادھار میں ملی پارلیمنٹ کا کسٹوڈین اور کرے بھی تو کیا کرے۔

Back to top button