"جب آئے گا عمران” گانے والوں کی تسلی ہو گئی یا نہیں؟

سینیئر صحافی نصرت جاوید نے کہا ہے کہ میڈیا کی مکمل زبان بندی اور مثبت رپورٹنگ کے فروغ کے لئے کپتان سرکار نے پیکا کا ڈریکونین ترمیمی آرڈیننس لا کر صحافیوں کے لئے بس یہی گنجائش چھوڑی ہے کہ وہ بازاروں میں نکل جائیں اور الیکشن 2018 سے پہلے ’’جب آئے گا عمران‘‘ گانے والوں سے پوچھیں کہ کیا انہیں تبدیلی کا مزہ آیا اور کیا اب انکی تسلی ہو چکی یا نہیں؟

یاد رہے کہ میڈیا کی زبان بندی کے لیے عمران خان کے ایما پر صدر عارف علوی کی جانب سے جاری کیا جانے والا صدارتی آرڈیننس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج ہو چکا ہے اور جسٹس اطہر من اللہ نے اس آرڈینینس کے تحت کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے پر پابندی عائد کر دیی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ حکومت نے پیکا ترمیمی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایک ڈریکونین قانون نافذ کیا ہے جسکا بنیادی مقصد میڈیا کی زبان بندی ہے۔ لہذا آئینی اور قانونی ماہرین کے خیال میں عدالت کی جانب سے اس آرڈیننس کو منسوخ کیے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔

پیکا کے ترمیمی صدارتی آرڈیننس کے حوالے سے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مجھے قوی امید ہے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کے ذریعے شرفا کی پگڑیاں اچھالنے کی سہولت سے محروم ہوجانے کے بعد صحافی اپنے موبائل فونوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے بازاروں میں جا کر خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں گے کہ ہمارے ہاں روز مرہّ ضرورت کی اشیا دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کتنے سستے ترین داموں پر وافر مقدار میں میسر ہیں۔

نصرت کہتے ہیں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت جناب ڈاکٹر عارف علوی کا اس تناظر میں تہہ دل سے مشکور ہوں۔ 20 فروری بروز اتوار تعطیل کا لطف اٹھانے کے بجائے ان کے فرض شناس ضمیر نے ایک نہیں بلکہ دو عوام دوست قوانین کو اپنے پارساہاتھوں سے دستخط کے ذریعے لاگو کردیا۔ میرے لئے اہم ترین قانون وہ ہے جو وطن عزیز کی نیک نام اشرافیہ کو بدنام کرنے والی ’’فیک نیوز‘‘ کا راستہ روکے گا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شرفا پر گند اچھالنے والے اب بلاوارنٹ گرفتار کر لئے جائیں گے۔

پیکا قانون کو آرڈیننس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا

انہیں ضمانت کا حق بھی میسر نہیں ہوگا۔ ان کے خلاف چلائے مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ ختم ہوجانے سے قبل ہی سنانا پڑے گا۔ وہ اگر ہرزہ سرائی کے ذمہ دار قرار پائے تو پانچ برس تک جیل میں سلاخوں سے سرکو ٹکراتے ہوئے اپنی خطائوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ اس قانون کے اجراء کا دفاع کرتے ہوئے صدر علوی نے غضب کے عالم میں ’’بہت ہوگیا‘‘ کا پیغام بھی دیا ہے۔ انکا دعوی ہے کہ پاکستان کا بکائو اور غیرذمہ دار میڈیا ’’فیک نیوز‘‘ کے ذریعے عوام میں مایوسی پھیلارہا ہے۔

نصرت کہتے ہیں کہ نیا قانون آجانے کے بعد پاکستانی صحافیوں کو منفی کی بجائے مثبت رپورٹنگ کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر یہ کہ گزرے برس ہمارے ہاں پولیو کا ایک مریض بھی دریافت نہیں ہوا۔ پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ خوشگوار ترین خبر تھی مگر اس خبر کو ہمارے میڈیا نے کماحَقَہ اہمیت ہی نہ دی۔ اسی طرح ایک اور مثبت خبر وزیر خزانہ شوکت ترین نے بریک کی تھی۔ ایک عالمی ادارے کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے سینہ پھلا کر یہ بیان دیا ہے کہ پاکستان دنیا کے 138 ممالک کے مقابلے میں سستا ترین ملک ٹھہرایا گیا ہے۔

یاد رہے شوکت ترین حکومتی منصب سنبھالنے سے پہلے ایک بینکار کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ رواں مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے آج سے تقریباَ نو ماہ قبل انہوں نے نہایت اعتماد سے اعلان کیا تھا کہ آئی ایم ایف کی مزید شرائط بروئے کار نہیں لائی جائیں گی۔ بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ ہوا تو ملکی معیشت کی بحال کا عمل رک جائے گا مگر بجٹ لاگو ہونے کے چار ماہ بعد ہی افواہیں پھیلنا شروع ہو گئیں کہ آئی ایم ایف ’’ڈومور‘‘ کا تقاضہ کر رہا ہے۔

اس کے تقاضوں پر عملدرآمد کے لئے ’’منی بجٹ‘‘ لانا پڑے گا۔ شوکت تریننے انتہائی رعونت سے ان افواہوں کو ’’فیک نیوز‘‘ ٹھہرایا۔ رواں برس کا آعاز ہوتے ہی مگر قومی اسمبلی میں ’’منی بجٹ‘‘ منظوری کے لئے پیش کردیا گیا۔بجلی کی قیمتیں اس کے بعد مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ پیٹرول کے دام بھی ناقابل برداشت حد کو چھورہے ہیں۔ پاکستان اس کے باوجود دنیا کے سستے ترین ملکوں کی صف میں اٹکا ہوا ہے۔ میڈیا میں بیٹھے قنوطی مگر اس حقیقت کو عوام کے روبرو نہیں لارہے۔ چنانچہ شوکت ترین کو از خود بیان دینا پڑ رہے ہیں حالانکہ بیان بازی ان کا شیوہ نہیں۔

Back to top button