کیا امریکہ اور ایران ڈپلومیسی کی نئی تاریخ رقم کرنے والے ہیں؟

 

 

 

اگر اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوران ایسا کوئی منظر دیکھنے کو مل گیا جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف ایک ساتھ کھڑے ہوں تو ڈپلومیسی کی ایک نئی تاریخ رقم ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایرانی اور امریکی اعلی قیادت کے درمیان 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی۔ ایران میں اسلامی انقلاب نے دونوں ممالک کے مضبوط سٹریٹجک تعلق کو ناصرف توڑ دیا تھا بلکہ اِن تعلقات پر ایک ایسا مہیب سایہ ڈالا تھا جو آج تک چھایا ہوا ہے۔

 

اسلام آباد میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جہاں آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہے۔ اگرچہ فوری کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں کی جا رہی، تاہم پس منظر میں ہونے والی پیش قدمی ایک ایسے ممکنہ لمحے کی بنیاد رکھ رہی ہے جو تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ سب سے زیادہ زیرِ بحث یہ امکان ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف ایک ہی مقام پر، ایک ہی فریم میں نظر آئیں۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں کی متوقع ملاقات میں گرمجوشی کا فقدان ہو۔ تاہم پھر بھی اس ملاقات کی علامتی اہمیت کم نہیں ہو گی۔ دونوں کی ملاقات اس بات کا اشارہ ہوگا کہ ایران اور امریکہ کم از کم تصادم سے بچنے اور سفارتکاری کے ذریعے راستہ نکالنے پر آمادہ ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ ایک غیر مستحکم جنگ بندی کے سائے میں کھڑا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی ابتدا ہی سے تنازعات کا شکار رہی ہے۔

 

جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد شرائط پر اختلافات سامنے آئے۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی نہ ماننے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس کے باعث ایران کی مذاکرات میں شرکت آخری لمحوں تک غیر یقینی رہی۔ تاہم اب ایرانی اور امریکی وفود پاکستان پہنچ چکے ہیں اور مذاکرات کا اغاز ہو چکا ہے۔

اگر یہ مذاکرات سنجیدگی سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ 2018 کے بعد سب سے اہم سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے، جب امریکہ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ حالانکہ یہ معاہدہ، صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا، تاہم ٹرمپ کی نظر میں یہ تاریخ کا بدترین معاہدہ تھا۔

 

ماضی کے ان مذاکرات میں جان کیری اور محمد جواد ظریف جیسے تجربہ کار سفارتکار مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ اس کے برعکس، موجودہ سفارتی ٹیموں کے انداز اور ساخت میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے افراد شامل ہیں، جنہیں اسرائیل کے قریب سمجھتا ہے، جس کے باعث تہران براہِ راست رابطوں کے بجائے بالواسطہ مذاکرات کو ترجیح دے رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ماہر علی واعظ کے مطابق اس بار صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان کے بقول، اعلیٰ سطحی شرکت اور ناکامی کے بڑھتے ہوئے خطرات ایسے مواقع پیدا کر سکتے ہیں جو پہلے میسر نہیں تھے، مگر بداعتمادی کی گہرائی بھی اسی قدر بڑھ چکی ہے۔

 

اس سے پہلے فروری 2026 میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں کچھ محدود پیش رفت دیکھنے میں آئی تھی، جہاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کی تکنیکی معاونت نے فریقین کو کچھ نکات پر قریب لانے میں مدد دی۔ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کو کم کرنے جیسے اقدامات بھی زیرِ غور آئے، مگر امریکی حملے نے ایک بار پھر مذاکراتی عمل سبوتاژ کر دیا۔ موجودہ تناظر میں سکیورٹی خدشات نے مذاکرات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کو دفاعی ضرورت قرار دے رہا ہے، جبکہ خلیجی ممالک اب ان میزائلوں کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بنیامین نتن یاہو کی حکومت ایران کے ممکنہ خطرات پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

کیا ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے؟

تاریخ کی بازگشت یہاں واضح سنائی دیتی ہے۔ ایک دہائی قبل آیت اللہ علی خامنہ ای نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ سے مذاکرات کی اجازت دی تھی، جس کے نتیجے میں عالمی معاہدہ ممکن ہوا۔ آج ایک بار پھر ایران کی قیادت، جس میں مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار زیرِ بحث ہے، ایک مشکل داخلی اور خارجی ماحول میں ایسے ہی فیصلوں کے دہانے پر کھڑی نظر آتی ہے۔ اسلام آباد میں جاری یہ سفارتی عمل وقتی طور پر سست اور غیر یقینی ضرور دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ کوششیں محض ایک اور ناکام باب ثابت ہوں گی یا واقعی ایک نئے سفارتی دور کا آغاز کریں گی، ایسا دور جس میں تاریخ خود کو دہرانے کے بجائے ایک نئی راہ اختیار کرے۔

Back to top button