کیا عمران بھٹو کی طرح پھانسی چڑھنے پر تیار ہیں؟

اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے اپنی یقینی شکست کے پیش نظر بیرونی سازش کے ثبوت کے طور پر ایک خط لہراتے ہوئے ذوالفقارعلی بھٹو شہید کو کاپی کرنے کی بھونڈی کوشش تو کی لیکن اتنا بھی نہ بتا پائے کہ خط کس نے لکھا ہے اور اس میں کیا دھمکی دی گئی ہے؟
باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق ایک ملک کی جانب سے دوسرے ملک کو لکھا گیا خط ہمیشہ دوستانہ ہوتا ہے اور اور کبھی کسی دھمکی پر مبنی پیغام تحریری صورت میں دوسرے ملک کو نہیں پہنچایا جاتا، لہذا وزیراعظم کی جانب سے یہ کہنا کہ ہمیں ملکی مفاد کے نام پر دھمکی دی گئی ہے خود اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان کو کسی ملک کی جانب سے کسی اہم معاملے پر کوئی دوستانہ مشورہ دیا گیا ہے جس کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دھمکی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو بننے کے لیے پھانسی کا پھندا چومنا پڑتا ہے، انکا کہنا یے کہ بھٹو نے تو امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا خود کو دھمکی پر مبنی خط پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں لہرا دیا تھا اور اس کے مندرجات بھی بتا دیے لیکن کپتان ایک گمنام ملک کی جانب سے، گمنام دھمکی پر مبنی، گمنام خط کی بنیاد پر بھٹو بننے کی بھونڈی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 27 مارچ کو جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے جیب سے ایک خط نکال کر لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت گرانے کی غیر ملکی سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔‘ اسکے بعد انہوں نے خط واپس جیب میں ڈال لیا اور کہا کہ یہ بلکل اصلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر بیٹھے لوگ بیرونی طاقتوں سے مل کر سازش کر رہے ہیں۔
لیکن نہ تو انکے الزام کا کوئی سر تھا اور نہ ہی پیر تھا۔ اپنی تقریر میں کپتان نے بھٹو کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے 45 برس قبل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک انتہائی جذباتی تقریر میں الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے پیچھے امریکہ ہے جو انھیں اقتدار سے نکالنا چاہتا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ یہ ایک عالمی سازش ہے جسے امریکہ کی مالی مدد حاصل ہے تاکہ میرے سیاسی حریفوں کے ذریعے مجھے نکال دیا جائے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے بھٹو نے کہا کہ ویتنام میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے اور اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کا ساتھ دینے پر امریکہ انھیں معاف نہیں کرے گا۔
ایک گھنٹے اور 45 منٹ تک جاری رہنے والی اس تقریر میں انھوں نے امریکہ کو ایک ہاتھی قرار دیا جو بھولتا ہے نہ معاف کرتا ہے۔بقول بھٹو امریکہ کی سازش کامیاب ہوئی اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی این اے کی تحریک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ضیاالحق نے پانچ جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔
اس کے بعد بھٹو پر نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں بیان دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ان کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ انھوں نے پاکستان کو ایک جوہری طاقت بنانے کا عزم کر لیا تھا اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ ہنری کیسنجر کے خبردار کرنے کے باوجود جب انھوں نے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا تو ہنری کیسنجر نے انھیں دھمکی دی ‘ تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیا جائے گا۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ جملہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج بھی گونج رہا ہے اور پاکستان آج جن حالات کا سامنا کر رہا ہے اس میں اس دھمکی اور اس کے نتائج کا بہت بڑا کردار ہے۔ تاہم اس کے گواہ صرف ذوالفقار علی بھٹو ہی ہیں جو اپنے اقتدار کے آخری دنوں اور گرفتاری کے بعد بھی مسلسل چیخ چیخ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے خلاف امریکہ سازش کر رہا ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس سازش میں شامل ہیں۔
بھٹو اسی نکتے پر پاکستان کے عوام کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن دیر تب تک ہو چکی تھی۔ اس دوران انھوں نے کئی مواقع پر کیسنجر کی اس دھمکی کے اپنے دعوی کو دہرایا۔ بھٹو نے اپنے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے کہا تھا کہ انھیں امریکی وزیرِ خارجہ کیسنجر نے دھمکی دی تھی۔
ہنری کیسنجر کے جملے ‘تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیں گے’ کی تصدیق بھی ہو گئی تھی۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف مشن جیرالڈ فیورسٹین نے اپریل 2010 میں پاکستانی میڈیا کو ایک انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ وہ ایک پروٹوکول آفیسر کی حیثیت سے 10 اگست 1976 کو لاہور میں ہونے والی اس میٹنگ کے عینی شاہد ہیں جس میں بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے بارے میں ہینری کیسنجر کی وارننگ کو مسترد کر دیا تھا۔
انھوں نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی منصوبے پر تشویش تھی جو انڈیا کی ایٹمی صلاحیت کی برابری کرنے کے لیے تھا اور اسی لیے ہینری کیسنجر کو بھیجا گیا تھا کہ وہ بھٹو کو خبردار کر دیں۔ لیکن بھٹو نے اس وارننگ کو مسترد کر دیا اور ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا۔ میں اس وقت ایک پروٹوکول آفیسر تھا جب اگست 1976 میں کیسنجر پاکستان آئے تھے اور لاہور میں بھٹو سے ملے تھے۔’
جیرالڈ فیورسٹین نے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت امریکہ میں انتخابات قریب تھے اور ڈیموکریٹس کے جیتنے کے بہت زیادہ امکانات تھے اور وہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں پاکستان کو ایک مثال بنانا چاہتے تھے۔
کیسنجر نے بھٹو کو ایٹمی پروگارم ترک کرنے کی صورت میں اے سیون اٹیک بمبار طیارے دینے کی پیشکش بھی کی تھی اور بصورتِ دیگر اقتصادی اور فوجی پابندیوں کے بارے میں بتایا تھا۔ انٹرویو میں جیرالڈ فیورسٹین نے بھٹو کو اپنی کمزوریوں کے باوجود پاکستان کا سب سے باصلاحیت، ذہین اور قابل سیاستدان قرار دیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو اور امریکی صدر فورڈ، وزیرِ خارجہ ہینری کیسنجر اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی حرف بہ حرف تفصیلات امریکی محکمہ خارجہ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اس ریکارڈ میں یہ جملہ تو نہیں ملتا کہ ‘ہم تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیں گے’ لیکن اس میں دلچسپ مکالمات ہیں جن سے بھٹو کی مختلف معاملات پر گرفت اور امریکی ناراضی کا اندازہ ہوتا ہے۔
جیرالڈ فیورسٹین کے علاوہ امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل رامسے کلارک نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ‘میں سازشی تھیوریز پر تو یقین نہیں رکھتا لیکن چلی اور پاکستان میں ہونے والے فسادات میں بڑی مماثلت ہے۔ چلی میں بھی سی آئی اے نے مبینہ طور پر وہاں صدر سیلواڈور الاندے کا تختہ الٹنے میں مدد کی۔‘
تحریک عدم اعتماد 31مارچ تک آر یا پار ہوجائے گی
رامسے کلارک، جنھوں نے بھٹو پر چلنے والے مقدمہ قتل کو خود دیکھا تھا، بعد ازاں کلارک نے اس کیس کو کینگرو کورٹ کا سنگین مذاق قرار دیا تھا۔رامسے کلارک ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ لڑنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں پاکستان گئے تھے لیکن انھیں جنرل ضیاالحق نے اس کی اجازت نہیں دی۔ تاہم عمران خان کے تازہ دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہیں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ بھٹو کی طرح عمران کا وہ سیاسی قد کاٹھ نہیں کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے لیے کوئی خطرہ بن سکیں۔
Are you ready to be hanged like Imran Bhutto? ] video in Urdu
