عمرانڈوصدر عارف علوی کی اچھل کود کیسے بند ہوئی؟

عمرانڈو صدر مملکت عارف علوی سے گزشتہ ھفتے دو اہم عسکری شخصیات کی ملاقات کے بعد ایوان صدر میں پھیلی ہلچل، سکون میں بدل گئی ہے صدارتی چیمبر سے وہ ریکارڈ بھی ہٹا لیا گیاھے جس میں بتایا گیا تھا کہ ماضی کے فیصلوں کی ایسی نظیریں موجود ھیں جن میں صدر مملکت ہی الیکشن کی تاریخ کا فیصلہ کرتے رہے۔سینئر صحافی حافظ طاہر خلیل کے مطابق پاکستان کا سیاسی منظر نامہ ایک پل تولہ ایک پل ماشہ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔ چھ روز قبل جمعہ کے روز ہونیوالی اہم ملاقاتوں کے بعد قصر صدارت اب بظاہر پرسکون اور خاموش ہے۔
جمعہ کو دو اہم شخصیات کی ملاقات کے بعد حکومت کی جانب سے وزیر قانون کی ملاقات اسلئے ضروری اور خصوصی اہمیت کی حامل تھی کہ صدر مملکت الیکشن کی تاریخ دینے کے آئینی اختیار کواستعمال کرنے کے حق میں تھے۔
تاہم انہیں یقین دلایا گیا کہ انتخابات کے انعقاد میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہوگی الیکشن کمیشن کو تمام ضرور ی وسائل فراہم کئے جارہے ہیں ۔
الیکشن کمشنر کی ہدایت پر صوبوں کی انتظامیہ کے سینئر افسروں کو تبدیل کیا جارہا ہے سیاسی تقرریاں ختم کی جارہی ہیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ تیار ہو رہا ہے۔
اسلام آباد کے کچھ حلقے رواں ماہ حالات بدلنے اور بعض اہم تبدیلیوں کے اشارے دینے لگے ہیں، چند روز بعد صدر عارف علوی عہدہ صدارت کی میعاد مکمل کر رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق عمرانڈو صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جگہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو نگران صدر مملکت بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے کیونکہ طاقتور حلقے نہیں چاہتے کہ صدر عارف علوی 9 سمتبر کے بعد بھی عہدہ صدارت پر براجمان رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی صدر سے ملاقات میں جہاں دیگر معاملات پر بات ہوئی ہو گی، وہیں اشاروں کنایوں میں صدر عارف علوی کو یہ پیغام ضرور دیا گیا ہو گا کہ صدر 9 ستمبر کے بعد استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔ صادق سنجرانی کا نام اگرچہ نگران وزیر اعظم کے لئے سامنے آیا تھا مگر انہیں موجودہ صورت حال کے لئے بچا کے رکھا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو عوامی مسائل کا اندازہ نہیں ہے مگر انہیں یہ ضرور پتہ تھا کہ صادق سنجرانی کو کس موقع پر اور کہاں استعمال کرنا ہے
تاہم دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر صدر عارف علوی مقتدر حلقوں کی رائے کے مطابق استعفی دے کر گھر نہیں جاتے تو عارف علوی آئندہ ہفتے کے دن سے ملک کے نگران صدر کی حیثیت اختیار کر لیں گے کیونکہ اس روز ان کی آئینی میعاد ختم ہو جائے گی اس طرح ملک میں وزیراعظم اور صدر دونوں اپنے عہدوں پر’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ کی حیثیت کے حامل ہوں گے۔ عارف علوی کے نگران صدر کی حیثیت اختیار کرتے ہی انہیں اہم قومی معاملات میں محدود کردار کا پابند بنادیا جائے گا۔
حددرجہ قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر مملکت پر واضح کردیا گیا ہے کہ وہ قومی معاملات صرف اس وقت کوئی کردار ادا کریں گے۔ جب ان کے لئے اس کی انجام دہی اشد ضروری ہوگی اور اس کی نشاندہی وفاقی حکومت کرے گی ازروئے آئین صدر مملکت اپنے منصب پر اس وقت تک برقرار رہیں گے۔ جب تک ان کی جگہ نئے صدر کا چناؤ عمل میں نہیں آجاتی۔ تاہم ذرائع کا دعوی ہے ملک کے مخصوص حالات میں صدر عارف علوی سے ان کی آئینی مدت پورا ہونے کے بعد فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جائے گا کیونکہ وہ ایسے موقعہ پر جب ملک عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے اور نگران وفاقی حکومت سختی کے ساتھ غیر جانبدارانہ طور پر نیا کردار ادا کرتے ہوئے خدمات انجام دے رہی ہے۔ ملک کی معاشی مشکلات بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں اور ملک کو سیاسی استحکام کی شدید ترین ضرورت ہے۔
بطور صدر مملکت ان کے بارے میں یہ تاثر عام رہا ہے کہ وہ اپنی سیاسی وابستگیوں کے دائرے سے کبھی باہر نہیں نکل سکے اور انہوں نے تحریک انصاف کا حمایتی ہوتے ہوئے ہر وہ قدم اٹھایا جس سے اس جماعت کے جائز و ناجائز مقاصد پورے ہوئے۔ ان حالات میں صدر مملکت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا کردار مکمل غیر جانبداری اور دیانتداری سے انجام دے گا۔ ذرائع کے مطابق صدر عارف علوی سے ان کی میعاد پورا ہونے کے فوری بعد دریافت کیا جائے گا۔ وہ ملک میں آئندہ انتخابات کے نظام الاوقات کا اعلان ہونے سے کتنے دن پہلے اپنی ذمہ داریوں سے دست کش ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی عدم موجودگی کے باعث صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک منظور نہیں ہو سکتی اسی طرح صوبائی اسمبلیاں موجود نہ ہونے سے صدر مملکت کا حلقہ انتخاب ہی عدم موجود ہوگیا ہے۔ ان حالات میں آئین کی بعض دفعات کا سہارا لیکر صدر مملکت کے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی صلاحیتوں کے بارے میں سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کو مشورہ دیا جائے گا کہ وہ ایسی تادیبی کارروائی سے پہلے رضا کارانہ طور پر باوقار انداز میں مستعفی ہو جائیں اور ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاریں اگر ایسا نہ ہوا تو پھر صدر کے حوالے سے کئی اقدامات ان کی
صدارت سے سبکدوشی کے بعد عمل میں لائے جاسکتے ہیں۔
