پنجاب میں 30اپریل کو الیکشن کا انعقاد ممکن کیوں نہیں؟

صدرڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن کی تجویز پرپنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان تو کر دیا ہے تاہم 30اپریل کو انتخابات کا انعقاد ممکن دکھائی نہیں دیتا۔الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے باوجود حکومت، عدلیہ اور فوج کے سست رویے کی وجہ سے الیکشن کے انتظامات ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ دو صوبوں میں الیکشن کرانے کیلئے الیکشن کمیشن نے حکومت سے 20؍ ارب روپے طلب کیے ہیں لیکن حکومت معاشی زبوں حالی کی وجہ سے یہ رقم جاری کرنے سے گریزاں ہے۔

الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق اب تک حکومت نے صرف پانچ ارب روپے جاری کیے ہیں جو ناکافی ہیں کیونکہ قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل کرنے کی وجہ سے انتخابی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جو ماضی کے اندازاں سے کئی گنا زیادہ ہیں کیونکہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے اس تاثر کے تحت انتخابی اخراجات کا حساب لگایا تھا کہ تمام صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر بیک وقت الیکشن ہوں گے تو یہ اخراجات 47؍ ارب روپے ہوں گے۔ لیکن یہ رقم دو اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد بڑھ کر اب 61؍ ارب روپے ہوگئی ہے۔الیکشن کمیشن کو فی الوقت 20؍ ارب روپے درکار ہیں لیکن سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشی مسائل میں پھنسے ملک کی وفاقی حکومت یہ رقم کب جاری کرے گی؟

سینئر صحافی عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق  الیکشن کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن بیوروکریسی پر بھروسہ کرنے کو بھی تیار نہیں کیونکہ کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ بیوروکریسی انتہائی زیادہ سیاست زدہ ہو چکی ہے اور ایسے میں بیوروکریسی کو اس کام میں ذمہ داری دینا دھاندلی کا ایک نیا تنازع پیدا کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں شفاف انتخابات کرانے کی پوری کوشش بیکار جائے گی۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب پوری بیوروکریسی میں رد و بدل کیا گیا ہے تاکہ سیاست دانوں کے ساتھ بیوروکریٹس کے مقامی سیاسی روابط کو توڑا جا سکے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے کچھ ہفتے قبل چیف الیکشن کمشنر نے چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی تھی تاکہ ہائی کورٹس پر اثر رسوخ استعمال کرکے ضلعی عدالتوں سے ریٹرننگ افسران حاصل کیے جا سکیں۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان کا ہائی کورٹس پر اثر رسوخ نہیں ہے کیونکہ عدالتیں اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ ہائی کورٹس کے متعلقہ چیف جسٹسز کو یہ پیغام پہنچائیں گے۔ اس کے بعد کمیشن نے لاہور اور پشاور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کو خط لکھے تاہم عدالتوں کی جانب سے ججز کی خدمات کی فراہمی سے انکار پر کمیشن کو مایوسی ہوئی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایسی صورتحال میں کمیشن کیا کرے گا۔ آئین کے آرٹیکل 220؍ کے تحت تمام وفاق اور صوبوں میں ایگزیکٹو حکام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف انتخابات کیلئے کمیشن کی معاونت کریں تاہم، اس آرٹیکل کا اطلاق عدلیہ پر نہیں ہوتا۔

دوسری طرف الیکشن میں فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی رپورٹس میں پنجاب اور کے پی کے پولیس چیفس نے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ دیگر فورسز کی غیر موجودگی میں وہ الیکشن کے پرسکون انداز سے انعقاد کو یقینی نہیں بنا سکیں گے۔پنجاب میں پولیس فورس کی تعداد کم و بیش دو لاکھ کے قریب ہے۔ صوبے کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس فورس مختلف مقامات پر ڈیوٹیز میں مصروف ہے لہٰذا یہ تعداد کافی نہیں ہے۔ 10؍ ہزار پولیس اہلکار چائنیز شہریوں کی سیکورٹی کیلئے تعینات ہیں جبکہ تقریباً اتنی ہی تعداد کچے میں جاری آپریشن میں مصروف ہے جبکہ سات ہزار پولیس اہلکار حساس تنصیبات پر حفاظت کیلئے تعینات ہیں جنہیں ان ڈیوٹیز سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ 40؍ ہزار پولیس والوں کو ڈیجیٹل مردم شماری پر لگایا گیا ہے، زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی پر لگایا جا سکتا ہے اور ایسی صورت اگر الیکشن کرانا ہیں تو تقریباً 3؍ لاکھ فوجی جوانوں اور پیرا ملٹری اہلکاروں کی ضرورت ہوگی۔ جبکہ فوج پہلے ہی اپنے اہلکار الیکشن ڈیوٹی کیلئے دینے سے انکار کر چکی ہے کیونکہ کے پی اور بلوچستان میں آپریشن جاری ہے۔ یہ دیکھنا ہے کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 220؍ کے تحت فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ کو حکم دیا تھا کہ صدر عارف علوی پنجاب اسمبلی کیلئے جبکہ گورنر کے پی اپنے صوبے میں الیکشن کیلئے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد کریں۔ سپریم کورٹ کے آرڈر اور پنجاب میں الیکشن کی ممکنہ تاریخ کے اعلان کے بعد بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارےصوبوں میں آزاد اور شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کریں گے یا نہیں؟

آشیانہ ریفرنس، وعدہ معاف گواہ نے شہباز شریف کو کلیئر قرار دیدیا

Back to top button