آرمی چیف نےملکی معیشت کی بحالی کا بیڑہ کیوں اٹھایا؟

جہاں ایک طرف نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے ہے کہ فوج نہ مجھے ڈکٹیٹ کر رہی ہے اور نہ ہی اپنی حد سے تجاوز ‘سکیورٹی اور معاشی معاملات پر ہم ساتھ کام کررہے ہیں‘ فوج حکومت کو ہر اس معاملے پر اِن پْٹ دے رہی ہے جو ان سے مانگا جارہا ہے۔اگر کوئی چاہتا ہے فوج سے ایسی مدد نہ لی جائے تو پہلے اداروں کی سروس ڈلیوری کو بہتر بنانا ہوگا۔وہیں دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ سویلین انتظامیہ کی پوری مشینری کوئی کام نہیں کر رہی اور کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو چکی ہے، معیشت اور خراب طرز حکمرانی سمیت تمام شعبہ جات میں ہماری ناکامیوں کی اہم وجہ یہی ہے۔ آرمی چیف کا معاشی بحالی اور ہر طرح کے مافیاز کی روک تھام کا ویژن مکمل طور پر فوج کی طاقت پر منحصر ہے۔ تاہم ہمارے طرز حکمرانی میں پائی جانے والی بیماریوں سے نمٹنے کا بنیادی چیلنج کسی کی توجہ کا مرکز نہیں۔
انصار عباسی کے مطابق ملک کو درپیش معاشی چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام سویلین حکام کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ آرمی چیف نے ملک کے بڑے تاجروں کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو میں اسمگلنگ کی روک تھام، قبضہ مافیا کو روکنے، بدعنوانی کے خاتمے اور دیگر اہم مسائل سے نمٹنے کیلئے عزم ظاہر کیا ہے تاہم وفاقی، صوبائی اور ضلعی نظام کی تمام سطحوں پر سویلین انتظامیہ کے بڑے حجم کی وجہ سے فوج ہر جگہ اس کی جگہ نہیں لے سکتی لیکن سویلین بیوروکریسی جن مسائل سے دوچار ہے انہیں ٹھیک کرنے سے ہمارے طرز حکمرانی کے بیشتر مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کیلئے بڑی اصلاحات یا بھاری بھر کم فنڈنگ کی ضرورت نہیں۔ انصار عباسی کے بقول وفاقی سطح پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور صوبوں کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن محکموں کو جی ایچ کیو کے ملٹری سیکرٹری کی برانچ کے طرز پر چلانے کے صرف ایک فیصلے کی وجہ سے بڑا فرق واضح نظر آئے گا۔
انصارعباسی کا مزید کہنا ہے کہ سویلین بیوروکریسی کو غیر سیاسی بنائیں، پاک فوج کے ایم ایس برانچ کی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بیوروکریسی کا پرسنل مینجمنٹ اور کیریئر پلاننگ کرنے دیں،واسطے داریوں اور ریکوزیشن کی بنیاد پر افسران کے تقرر و تبادلے کو فی الفور ختم کیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو درست کام کیلئے درست شخص کا انتخاب کرنے دیا جائے۔ کسی بیرونی اثر و رسوخ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انصار عباسی کے بقول اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا صوبوں میں ایس اینڈ جی اے ڈی کو بااختیار بنانے اور بحال کرنے کیلئے صرف وزیر اعظم کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ادارہ کسی بیرونی اثر و رسوخ میں آئے بغیر ملک کے اہم سرکاری ملازمین کے ادارے کے طور پر کام کرے۔
کیونکہ ایک ادارے کے طور پر پاک فوج کی طاقت کا براہ راست تعلق اس کی ایم ایس برانچ کی طاقت سے ہے۔ میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں اور ترقیاں، ہر افسر کی صلاحیتوں اور کارکردگی کی بنیاد پر کیرئیر مینجمنٹ، مناسب تربیت، درست ایوالیوشن اور اور اندرونی احتساب ایم ایس براچ کے خصوصی دائرۂ کار میں آتا ہے۔ کسی سیاسی یا بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اس کی بجائے، اگر کسی شخص کی طرف سے ایسی کوئی کوشش کی جاتی ہے تو اس افسر کو کیریئر میں نقصان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو دیکھیں تو یہ صرف ایک پوسٹ آفس کے طور پر کام کرتا ہے اور ہر طرف سے بیرونی اثرات کی بنیاد پر افسران کی تقرری کرتا ہے۔ کوئی کیریئر مینجمنٹ نہیں، درست کام کیلئے درست افسر مقرر کرنے کا کوئی تصور نہیں، ہر سطح پر ترقی یا تقرری سیاسی بنیادوں یا اثر رسوخ کی بنیاد پر کی جاتی ہیں حتیٰ کہ افسر کی ساکھ، تجربے اور یہاں تک کہ متعلقہ عہدے پر بھی غور نہیں کیا جاتا ہے اور اسے مقرر کر دیا جاتا ہے۔
انصار عباسی کے مطابق گزشتہ 75 برسوں کے دوران 20 سے زائد کمیشن اور کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کو تحقیقاتی رپورٹس اور تجاویز پیش کی گئیں لیکن زیادہ تر مجوزہ اصلاحات پر سیاسی وجوہات اور بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنے کے سیاستدانوں کے آمادہ نہ ہونے وجہ سے عمل نہیں ہو سکا۔ سول سروس ریفارمز کی تاریخ بتاتی ہے کہ سول بیوروکریسی سے زیادہ سیاسی قیادت اور حکمران جمہوری اور آمر دونوں نظام کو بہتر بنانے میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں کیونکہ وہ خود کو بیوروکریسی کے معاملات میں مداخلت سے روکنے سے باز نہیں آتے۔ 1996 سے 2008تک سول سروس ریفارمز کے حوالے سے 6؍ مرتبہ ریسرچ رپورٹ تیار کی گئی۔ ان رپورٹس میں سویلین بیوروکریسی کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ لیکن اس ضمن میں تمام تر کام کو روک دیا گیا کیونکہ حکمرانوں نے ذاتی سیاسی فائدے کی وجہ سے بیوروکریسی کو غیر سیاسی کرنے سے
گریز کیا۔
