فوج نے عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون حملوں کی تصدیق کر دی

قبائلی علاقوں میں ڈرونز حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کا معاملہ حل ہو گیا، اب سیکیورٹی فورسز نے دعویٰ کر دیا ہے کہ عسکریت پسند ڈرون حملوں کے ذریعے سویلینز کو نشانہ بنارہے ہیں، جس سے جہاں مکانات اور نجی املاک تباہ ہو رہی ہیں وہیں عورتیں، بچے، اور عام مکین بھی جان کی بازی ہار رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق قبائلی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی جانب سے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال ایک نیا، اور شاید زیادہ تشویش ناک، رجحان بن چکا ہے۔ سیکورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ سویلینز بھی دہشتگردوں کے ان ڈرونز حملوں کا بڑا ہدف بنتے جا رہے ہیں؟
دفاعی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں شدت پسند گروہوں نے اب "کمرشل” کواڈ کاپٹرز کو ایک مہلک ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے۔ بنوں، وزیرستان اور ٹانک جیسے اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ سویلین آبادی پر پر کواڈ کاپٹرز کے ذریعے حملے ہو رہے ہیں جن میں مارٹر شیل اور دیسی بم گرائے جا رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری کوئی گروہ کھل کر قبول نہیں کر رہا، تاہم اب سکیورٹی حکام اور مقامی ذرائع نے انہیں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں قرار دے دیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں نے ملک کے شمال مغرب میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے تجارتی بنیاد پر دستیاب کواڈکاپٹر ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو اس غیر مستحکم علاقے میں ایک خطرناک پیش رفت ہے۔
پولیس حکام کے مطابق پچھلے ڈھائی مہینوں میں بنوں اور ملحقہ علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر کم از کم آٹھ ایسے ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ’عسکریت پسندوں نے یہ جدید آلات حاصل کر لیے ہیں، لیکن وہ ابھی تجربات کے مرحلے میں ہیں،‘شدت پسند ابھی ان ڈرونز کے مؤثر استعمال پر مہارت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسی لیے اپنے اہداف کو درست نشانہ نہیں بنا پا رہے ہیں اور سویلینز عسکریت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں سیکیورٹی حکام کے مطابق عسکریت پسند کواڈ کاپٹرز کے ذریعے اپنے اہداف پر دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات یا مارٹر شیل گرانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان دھماکہ خیز آلات میں اکثر بال بیرنگ یا لوہے کے ٹکڑے بھرے ہوتے ہیں تاکہ زیادہ نقصان ہو۔۔ پولیس حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس دہشتھگردوں کے ایسے حملوں کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی ہے اور نہ ہی مناسب تربیت یافتہ عملہ موجود۔ صوبائی پولیس چیف ذوالفقار حمید نے تسلیم کیا کہ "پولیس کے پاس اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے وسائل موجود نہیں شدت پسند ہم سے بہتر ہتھیاروں سے لیس ہیں”۔
حکومت کی سطح پر ان حملوں پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آ رہا۔ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے تو وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کے سامنے یہ مطالبہ کر رکھا ہے کہ "ڈرون حملے بند کیے جائیں”، لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ حملے کون کر رہا ہے، کیوں کر رہا ہے، اور روکنے کی حکمت عملی کیا ہے۔ اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے، جرگے منعقد ہو رہے ہیں، لیکن پالیسی اور عملدرآمد کا کہیں نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستانی ریاست کے لیے یہ صورتحال ایک نیا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ اس کو ایک ایسی لڑائی لڑنا پڑ رہی ہے جس میں دشمن نظر نہیں آتا، ہتھیار جدید ہیں، اور ہدف معصوم شہری۔ ڈرونز اب صرف "آسمان سے گری آفت” نہیں، بلکہ زمین پر موجود ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ میں ایک خطرناک ہتھیار بن چکے ہیں۔
دوسری جانب شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اب ڈرون یا کواڈکاپٹرز کی پرواز معمول بن چکی ہے۔ اس سے نہ صرف خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے بلکہ روزمرہ زندگی بھی معطل ہو چکی ہے۔ بازار ویران ہو چکے ہیں، مغرب کے بعد باہر نکلنا ممنوع ہے، اور لوگ کسی بھی وقت ہونے والے حملے کے خدشے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق قبائلی علاقوں کی صورتحال کے مطابق ماضی کی طرح اب بھی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ایک بڑے فوجی آپریشن کی طرف بڑھتی محسوس ہو رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حالات دوبارہ "ضربِ عضب” جیسے کسی فوجی آپریشن کی طرف جاتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کیا مسئلے کا حل ایک اور آپریشن ہے، جبکہ پچھلے آپریشنز کے بعد بھی شدت پسندی کی جڑیں نہ صرف باقی رہیں، بلکہ اب جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ دوبارہ ابھر چکی ہیں؟
