فوج تنقید سے بچنا چاہتی ہے تو اپنا سیاسی کردار ختم کرے

بیرون ملک سے پاکستان کے ریاستی اداروں کے سیاسی کردار پر ہونے والی تنقید کو روکنے کے لئے فوجی ترجمان کی جانب سے قانون سازی کے مطالبے کو ناقدین نے اختلافی آوازوں کو دبانے کے سلسلے کی ایک کڑی قراردیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اس تجویز کا ناقدین کا کہنا ہے کہ فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے تحفظ کے لیے پہلے ہی کافی قانون سازی ہو چکی ہے لہذا مزید ایسے کسی قانون کی گنجائش نہیں جو کہ عام شہریوں کی آوازوں کو مذید پابند کرے۔ لیکن اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ واقعی چاہتی ہے کہ اس پر تنقید کا سلسلہ بند ہوجائے تو وہ اپنا سیاسی کردار مکمل طور پر ترک کر کے بیرکوں میں واپس چلی جائے۔

خیال رہے کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے 5 جنوری کو اپنی پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ریاستی اداروں کے خلاف بیرون ملک سے منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد حکومت، عوام اور افواج کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے کہا تھا کہ اس مہم کا مقصد اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے اور ایسی تمام سرگرمیوں سے ادارے نی صرف آگاہ ہیں بلکہ ایسے لوگوں کے لنکس کو بھی جانتے ہیں جو ملک اور بیرون ملک بیٹھے یہ کام کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس سے باہر بیٹھے یہ عناصر فیک نیوز اور من گھڑت باتوں سے اداروں کے درمیان جو دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں وہ پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اور اب بھی ناکام ہوں گے۔

تاہم اسکے بعد میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اس پراپیگنڈے کا سدباب کرنے اور اس میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اجتماعی سطح پر اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں اقدامات کر رہی ہے، جھوٹی خبروں کو انفرادی سطح پر بھی روکنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے قانون سازی بھی کرنی ہو گی۔ دوسری جانب وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی تجزیہ نگار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سمجھتے ہیں کہ فوج کی جانب سے اس قسم کے بیانات آزاد اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوششوں کا سلسلہ ہیں جسے ترک کیا جانا چاہئے۔ معروف لکھاری ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ پراپیگنڈا کی جنگ صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور پاکستان کی فوج نے اسے اپنی غلط پالیسوں اور اقدامات کا تمام تر ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے لیے اپنایا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے مسائل کی بات کرتے ہوئے اس کا ذکر نہ کیا جائے حالانکہ پاکستان کے بہت سارے مسائل کی وجہ فوج کا سیاسی کردار ہے ہے۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر لوگ ایسی آوازوں پر توجہ دینے مجبور ہیں جو ان حالات کے ذمہ داروں کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ایسے میں عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ فوج کے ترجمان کو کہنا پڑا کہ بیرون ملک بیٹھے لوگ پاکستان کے اداروں کے بارے میں پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ اب رکے گا نہیں کیونکہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے جہاں خبر سرحد پار آنے جانے کے لیے کسی اجازت کی محتاج نہیں ہے۔

کیا پاکستانی عوام عسکری شکنجے سے نکل پائیں گے؟

دوسری جانب دفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ بعض تھینک ٹینکس اور سوشل میڈیا کے افراد کی جانب سے حد سے زیادہ تنقید پر فوج کی قیادت کو تشویش ہو گی کیونکہ اس سے افواج کے بلند حوصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا فوج کی یہ تشویش جائر ہے کہ ہر روز قربانیوں کے باوجود ان پر بے جا تنقید کی جاتی ہے اور بھارت اور افغانستان کی سرحدی صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ افواج کے جوانوں کے حوصلے بلند رہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے کردار کے حوالے سے بیان کردہ کچھ باتیں حقیقت پر بھی مبنی ہوں گی لیکن اس میں یہ بات ملحوظ خاطر رکھی جانی چاہئے کہ تنقید کو ایک حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم جنرل طلعت مسعود سمجھتے ہیں کہ ایسے دور میں جب سوشل میڈیا پر ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کی آزادی حاصل ہے، فوج کے ترجمان کی جانب سے ایسے لوگوں کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس معاملے پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن حنا جیلانی کہتی ہیں کہ سیکورٹی اداروں کو سمجھنا ہو گا کہ یہ ملک عوام کے لیے بنا ہے اور انہیں ان کی رائے برداشت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کام ہے کہ اگر کوئی ایسی بات کرتا ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہے تو وہ حقائق کی بنیاد پر اس کی تردید کرے نہ کہ پابندیاں لگانے کے لیے قانون سازی کے متعلق شروع کر دے۔ ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خلاف نئی قانون سازی کی تجویز کے حوالے سے حناجیلانی سمجھتی ہیں کہ ریاستی اداروں کے تحفظ کے لیے قانون سازی ہو چکی ہے لہذا اس حوالے سے مزید کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں جو عام شہریوں اور صحافیوں کی آوازوں کو مذید پابند کر دے۔ ہاں اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ واقعی چاہتی ہے کہ اس پر تنقید کا سلسلہ بند ہوجائے تو وہ اپنا سیاسی کردار مکمل طور پر ترک کر کے بیرکوں میں واپس چلی جائے۔

Back to top button