پولیوسےبچاؤکےقطرےپلانےسےانکارپروالدین کی گرفتاری روک دی گئی

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی گرفتاری کے عمل کو روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

سینیٹ اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ رواں سال اب تک پولیو کے 14 کیسز سامنے آ چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ وائرس اب بھی ہمارے ماحول میں موجود ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو ویکسین کے حوالے سے معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں ختم کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ پروپیگنڈا لوگوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے ایوان کو آگاہ کیا کہ انہوں نے پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کی پولیس کے ذریعے گرفتاری کے عمل کو روک دیا ہے، اور اس مسئلے کا پائیدار حل نکالنے کے لیے متبادل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان میں پولیو کی صورتحال پر خود جائزہ لینے گئے، جبکہ زیادہ تر کیسز ان علاقوں سے رپورٹ ہوئے جہاں پولیو ٹیموں کی رسائی محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین کے خلاف منفی مہم اور جھوٹی اطلاعات مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے تقریباً تمام اضلاع سے حاصل کیے گئے نمونے پولیو وائرس کے حامل پائے گئے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وائرس ماحول میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ صرف وہی بچے محفوظ ہیں جنہیں پولیو کے قطرے باقاعدگی سے پلائے جا رہے ہیں۔

Back to top button