مصنوعی ذہانت کا”گروک“نامی چیٹ بوٹ پاکستان میں نیا ٹاپ ٹرینڈ

پاکستان میں ٹیکنالوجی اور سیاست کے بیچ ایلون مسک کی کمپنی کا بنایا گیا مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ گروک پاکستانی حلقوں میں ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ یوتھیے، جیالے اور متوالے — سبھی گروک سے سوال کرتے اور اپنی پسند کے جوابات کو اپنی سیاسی رائے کے حق میں بطور دلیل پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گروک صرف سوال کا جواب نہیں دیتا، بلکہ بظاہر صارف کے پروفائل، اندازِ تحریر اور موضوع کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ردعمل دیتا ہے جو اکثر صارف کو خوش کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گروک اب محض ایک چیٹ بوٹ نہیں، بلکہ پاکستان میں سیاسی مکالمے کا نیا کردار بنتا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ گروک ایلون مسک کی ایکس اے آئی نامی کمپنی کا تیار کردہ چیٹ بوٹ ہےجو انسانی جذبات و خیالات کو سمجھنے اور ان پر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ چیٹ بوٹ نہ صرف انگریزی میں، بلکہ اردو اور حتیٰ کہ پنجابی میں بھی جواب دیتا نظر آتا ہے اور اپنے جوابات میں حقائق، تحقیق اور ذرائع ابلاغ کی خبروں جیسے شواہد کا حوالہ دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ گروک کو انسانی سائنسی دریافتوں کو بہتر کرنے، کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ کو بڑھانے اور صارفین کو مفید اور سچے جوابات فراہم کرنے کیلئے بنایا گیاہے۔ گروک صارفین کے سوالات کا جواب کئی طریقوں سے دیتا ہے کیونکہ یہ بہت سارے ڈیٹا سے تربیت یافتہ ہے جس کی وجہ سے اسے مختلف موضوعات پر معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت حاصل ہے۔اگر ضرورت ہو تو یہ ویب اور سوشل میڈیا جیسے ایکس پر مزید معلومات تلاش کر سکتا ہے۔یہ سوالات کو سمجھتا ہے اور ان کے جوابات کو واضح اور سادہ زبان میں پیش کرتا ہے تاکہ صارفین کے لیے ان کو سمجھنا آسان ہو۔تاہم پاکستان میں گروک محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا، بلکہ ایک نیا ڈیجیٹل کردار بن گیا ہے جو کبھی مذاق بن جاتا ہے، کبھی صحافت کا ذریعہ اور کبھی سیاسی تنازع کو بڑھا رہا ہے۔
پاکستان میں بہت سے انٹرنیٹ صارف جس سے مختلف نوعیت کے سوال کر رہے ہیں۔ صحافی عمر چیمہ نے گروک سے پاکستانی سیاست پر سوال کیا کہ کسی ایسے پاکستانی سیاستدان کا نام بتاؤ جو تمہارے خیال میں خبط عظمت اور نرگسیت کا شکار ہو۔ اس کا جواب دیتے ہوئے گروک نے کہا کہ میرے خیال میں عمران خان خبط عظمت اور نرگسیت کا شکار ہیں کیونکہ متعدد ذرائع میں ان کی تنقید نہ برداشت کرنے، گفتگو پر غلبہ اور خود کو مسیحا سمجھنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔جس پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے گروک پر "یوتھیا ہونے” یا "متعصب ہونے” کے تبصرے کیے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کے حامی اب گروک کے جوابات کو اپنی حمایت کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ مثلاً، جب گروک نے نواز شریف کو پاکستان کا کامیاب ترین وزیراعظم قرار دیا، تو ن لیگ کے حامیوں نے کہا کہ "پی ٹی آئی کو تو گروک بھی اچھا نہیں ملا”۔ پاکستانی صحافی، سیاستدان اور سوشل میڈیا صارفین اب گروک سے نہ صرف خبروں کی تصدیق کراتے ہیں بلکہ اس کے جوابات کو باقاعدہ سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گروک بارے پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کا کہنا ہے کہ "گروک میرے ٹوئٹس کی ایسی تشریح کر رہا ہے، لگتا ہے اس بار میں گروک کی وجہ سے جیل جاؤں گی۔” اور ایک صارف نے لکھا، "گروک بھی سوچتا ہوگا، کس قوم کے ہتھے چڑھ گیا ہوں!”
صحافی اسد اللہ خان نے گروک کے تحریک انصاف کے حق میں جوابات دیکھتے ہوئے کہا کہ ’گروک پر یوتھیا ہونے کا الزام بس لگنے ہی والا ہے‘۔
ایک ایکس صارف نے لکھا کہ گروک تو ن لیگ اور پی ٹی آئی کی لڑائی میں پھنس گیا ہے۔
افتخار حسین نے لکھا کہ گروک بڑا شاطر ہے جواب دینے سے پہلے سوال کرنے والے کی پروفائل وزٹ کرتا ہے اس کے مطابق جواب لکھ دیتا ہے لہٰذا سب کو خوش رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ گروک جیسے چیٹ بوٹس کے جوابات کو حتمی سچ ماننا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس کی علمبردار فریحہ عزیز کے مطابق، گروک کا علم انٹرنیٹ پر موجود مواد اور تربیتی ڈیٹا پر مبنی ہے، جس میں تعصب، غلطی یا کمی بیشی کا امکان ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ "یہ ماڈلز جو کچھ بار بار سنیں گے، وہی دہراتے ہیں” اور اگر فیک نیوز بار بار دہرا دی جائے تو گروک بھی اسے سچ مان لیتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ گروک ٹویٹ کے ذریعے کیے گئے سوالات کا جواب سوال کرنے والے کی پروفائل، سیاسی جھکاؤ اور سابقہ پوسٹس کو مدنظر رکھ کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی سوال گروک کے جنرل چیٹ بوٹ میں مختلف اور زیادہ غیرجانبدار جواب دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گروک جیسے اے آئی چیٹ بوٹس روزمرہ معلومات اور آسان وضاحتوں کے لیے مفید ہیں، لیکن ان کا استعمال سیاسی تجزیے، فیکٹ چیکنگ یا فیصلہ کن رائے کے طور پر کرنا مناسب نہیں۔ یہ ایک ٹول ہے، سچائی کا متبادل نہیں۔ ماہرین کے بقول پاکستانی صارفین "مذاق مذاق میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھ رہے ہیں”۔تاہم حقیقت میں گروک جیسی ٹیکنالوجیز کا درست استعمال، احتیاط، تعمیری سوچ اور ڈیجیٹل شعور کا تقاضا کرتا ہے وگرنہ ایک مزاحیہ چیٹ بوٹ بھی سیاسی تعصب، غلط فہمیوں اور فیک نیوز کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
